فیبرکس پر 3 فیصد ٹیکس بلاجواز ہے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر

پوری ایکسپورٹ چین پر 2 فیصد ٹیکس ہے، برآمدی مصنوعات کیلیے کپڑے پر یہی شرح ہونی چاہیے

ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر نے حکومت سے اپیل کی کہ برآمدی ٹیکسٹائل مصنوعات کیلیے خریدے گئے کپڑے پر سیلز ٹیکس کی شرح 2فیصد ہی رکھی جائے۔ فوٹو: فائل

ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری نے ایس آر او 898/2013 کے تحت تیاراورخام کپڑے میں امتیاز کے بغیر تمام اقسام کے کپڑے پر 3 فیصد کی یکساں سیلزٹیکس نافذ کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے ایف بی آر ویلیوایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹرکونہ کردہ جرم کی سزا دے رہا ہے۔

پاکستان اپیرل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی، ڈینم مینو فیکچررز اینڈایکسپورٹرز ایسو سی ایشن کے چیئرمین مرزا اختیار بیگ، ہوزری مینو فیکچررز ایسو سی ایشن کے چیئرمین عرفان باوانی، کاٹن فیشن اپیرل ایسوسی ایشن کے چیئرمین خواجہ محمد عثمان، نٹ ویئر اینڈ سوئٹرز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کامران چاندنہ اور ریڈی میڈ گارمنٹس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ارشد عزیز نے کہا ہے کہ پوری ٹیکسٹائل چین برائے برآمدات ڈائنگ اوردیگر خام مال پر 2 فیصد شرح سے سیلز ٹیکس عائد ہے لہٰذا گارمنٹس کے مینوفیکچررز، ایکسپورٹرز کی جانب سے برآمدات کی غرض سے تیار کپڑے پر بھی 2 فیصد سیلز ٹیکس لیا جانا چاہیے۔




انہوں نے کہا کہ الیکشن کے اعلان اور نگراں حکومت کی تشکیل سے قبل گزشتہ دورحکومت میں ایف بی آر نے 28 فروری 2013 کو ایس آر او154/2013 جاری کیا تھا، اس وقت مسلم لیگ (ن) نے اپوزیشن میں ہونے کے ناطے مذکورہ ایس آر او کی مخالفت کی تھی لیکن حیرت انگیزطور پر مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے کے بعد اس ضمن میں چپ سادہ لی ہے اور اسے ویلیوایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدکنندگان کی مشکلات کے حوالے سے کوئی دلچسپی نہیں رہی جوسیلز ٹیکس، کسٹمز ری بیٹ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ڈی ایل ٹی ایل کلیمز کی مد میں خطیر رقوم روکے جانے سے پہلے ہی شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ برآمدی ٹیکسٹائل مصنوعات کیلیے خریدے گئے کپڑے پر سیلز ٹیکس کی شرح 2فیصد ہی رکھی جائے تا کہ ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر مکمل تباہی سے بچ سکے۔ انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیاکہ ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر کو زیرو ریٹڈ ہونا چاہیے کیونکہ ٹیکس لے کر واپس کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
Load Next Story