9 سالہ بچے کے دل کے قریب اسکریو ڈرائیور گھس گیا ڈیڑھ گھنٹہ طویل آپریشن سے جان بچ گئی
9 سالہ ارسلان کو کھیل کے دوران اسکریو ڈرائیو لگ گیا تین اسپتالوں نے علاج سے معذرت کرلی تھی
9 سالہ ارسلان کو کھیل کے دوران اسکریو ڈرائیو لگ گیا تین اسپتالوں نے علاج سے معذرت کرلی تھی (فوٹو: ایکسپریس)
9 سال بچہ دل کے قریب اسکریو ڈرائیور لگنے سے زخمی ہوگیا، ڈاکٹروں نے ڈیڑھ گھنٹے کے آپریشن سے بچے کی جان بچالی۔
این آئی سی وی ڈی کے ڈاکٹروں نے پیچیدہ آپریشن کے ذریعے بچے کی زندگی بچالی 9 سالہ ارسلان سینے میں دل کے قریب پیچ کس لگنے سے شدید زخمی ہوگیا تھا، ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے والے آپریشن میں 2 پیڈز کارڈک سرجنز سمیت 4 ڈاکٹروں نے حصہ لیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) کے ماہرین نے 9 سالہ ارسلان کی زندگی بچالی، کھیل کے دوران ارسلان کے دل کے قریب پیچ کس لگ گیا تھا جسے علاج کے لیئے مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ایسے خطرناک آپریشن سے معذرت کرلی۔
والدین کے مطابق بچہ ماموں کے گھر میں رہتا ہے جہاں بچے اسکریو ڈرائیور سے کھیل رہے تھے کہ بھاگتے ہوئے اسکریو ڈرائیور ارسلان کے سینے میں پیوست ہوگیا،وہ بچے کو لے کر عباسی شہید اسپتال، جناح اسپتال اور این آئی سی ایچ گئے جنہوں ڈاکٹروں نے آپریشن سے معذرت کرلی۔ بعد ازاں بچے کو قومی ادارہ برائے امراض قلب لایا گیا جہاں پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر عبد الستار نے بچے کا معائنہ کیا اور فوری آپریشن تجویز کیا۔9 سالہ ارسلان کو کھیل کے دوران اسکریو ڈرائیو لگ گیا تین اسپتالوں نے علاج سے معذرت کرلی تھی
ڈاکٹر عبدالستار کے مطابق ارسلان کا آپریشن ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا جس میں ڈاکٹر سہیل بنگش، ڈاکٹر اقبال اور ڈاکٹر نجمہ پٹیل نے حصہ لیا، یہ ایک پیچیدہ آپریشن تھا کیوں کہ سینے میں جس جگہ بچے کو اسکریو ڈرائیور لگا تھا وہاں دماغ اور دل کی وینز ہوتی ہیں تاہم ہمارے سرجنز نے انتہائی مہارت سے بچے کا آپریشن کیا اور زندگی بچائی۔
ڈاکٹر کے مطابق بچہ اب صحت یاب ہے اور آئی سی یو میں زیر علاج ہے، اس کی زندگی خطرے سے باہر ہے اگر اس آپریشن میں تاخیر کی جاتی تو بچے کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔
این آئی سی وی ڈی کے ڈاکٹروں نے پیچیدہ آپریشن کے ذریعے بچے کی زندگی بچالی 9 سالہ ارسلان سینے میں دل کے قریب پیچ کس لگنے سے شدید زخمی ہوگیا تھا، ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے والے آپریشن میں 2 پیڈز کارڈک سرجنز سمیت 4 ڈاکٹروں نے حصہ لیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) کے ماہرین نے 9 سالہ ارسلان کی زندگی بچالی، کھیل کے دوران ارسلان کے دل کے قریب پیچ کس لگ گیا تھا جسے علاج کے لیئے مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ایسے خطرناک آپریشن سے معذرت کرلی۔
والدین کے مطابق بچہ ماموں کے گھر میں رہتا ہے جہاں بچے اسکریو ڈرائیور سے کھیل رہے تھے کہ بھاگتے ہوئے اسکریو ڈرائیور ارسلان کے سینے میں پیوست ہوگیا،وہ بچے کو لے کر عباسی شہید اسپتال، جناح اسپتال اور این آئی سی ایچ گئے جنہوں ڈاکٹروں نے آپریشن سے معذرت کرلی۔ بعد ازاں بچے کو قومی ادارہ برائے امراض قلب لایا گیا جہاں پیڈیاٹرک کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر عبد الستار نے بچے کا معائنہ کیا اور فوری آپریشن تجویز کیا۔9 سالہ ارسلان کو کھیل کے دوران اسکریو ڈرائیو لگ گیا تین اسپتالوں نے علاج سے معذرت کرلی تھی
ڈاکٹر عبدالستار کے مطابق ارسلان کا آپریشن ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا جس میں ڈاکٹر سہیل بنگش، ڈاکٹر اقبال اور ڈاکٹر نجمہ پٹیل نے حصہ لیا، یہ ایک پیچیدہ آپریشن تھا کیوں کہ سینے میں جس جگہ بچے کو اسکریو ڈرائیور لگا تھا وہاں دماغ اور دل کی وینز ہوتی ہیں تاہم ہمارے سرجنز نے انتہائی مہارت سے بچے کا آپریشن کیا اور زندگی بچائی۔
ڈاکٹر کے مطابق بچہ اب صحت یاب ہے اور آئی سی یو میں زیر علاج ہے، اس کی زندگی خطرے سے باہر ہے اگر اس آپریشن میں تاخیر کی جاتی تو بچے کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔