وزیراعظم کا ثالثی مشن

ایران نے وزیراعظم عمران خان کے دورے کا جس طرح پرجوش خیرمقدم کیا ہے وہ خوش آیند ہے۔

ایران نے وزیراعظم عمران خان کے دورے کا جس طرح پرجوش خیرمقدم کیا ہے وہ خوش آیند ہے۔ فوٹو: پی ٹی آئی

وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات سے مسائل کو حل کرنے میں سہولت کاری کا کردار ادا کرنے کے لیے ایران کا دورہ کیا جس کا ایرانی حکام نے بھرپور خیرمقدم کیا۔

وزیراعظم کے دورہ ایران کے حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق ایران نے خطے میں امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی تعریف کی' فریقین نے مصالحتی عمل آگے بڑھانے کے لیے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ایران سعودیہ کشیدگی کے خاتمے' باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کے سیکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے اس موقع پرکہاکہ پاکستان برادرملک ایران کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے اپنا کرداراداکرنے کا خواہاں ہے۔ اس دوران دونوں رہنماؤں کے مابین باہمی تعلقات بڑھانے اور تجارت سمیت دیگر امور زیر غورآئے۔ سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی ختم کرانے پر بھی بات چیت ہوئی، عمران خان نے کشمیر میں بھارتی مظالم سے بھی ایرانی قیادت کو آگاہ کیا۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک عرصے سے چپقلش چل رہی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا کی جانب سے کئی بار ایران پر حملے کی دھمکیاں بھی سامنے آئیں۔ اس صورت حال پر پاکستان میں بھی تشویش کا ابھرنا قدرتی امر ہے لہٰذا دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان نے ایران کا دورہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اس دورہ کے دوران صدر حسن روحانی سے اس مسئلے پر کھل کر بات کی۔

ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر ایران کی جانب سے حمایت پر اس کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، 1965کی جنگ کے دوران ایران کی مدد بھولے نہیں، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ مسلمانوں کو قید کر رکھا ہے۔

ایران کے ساتھ تاریخی نوعیت اورسعودی عرب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، چاہتے ہیں خطے میںکوئی کشیدگی نہ ہو، سعودی عرب اور ایران میںکوئی تنازعہ نہیں ہونا چاہیے۔ تصادم کی صورت میں خطے میں غربت پھیلے گی اور تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا اور اس کے پیچھے مفاد پرست خوب فائدہ اٹھائیں گے، پاکستان نے طویل عرصہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جس میں70 ہزار افراد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔


افغانستان تاحال مسائل سے دوچار ہے جب کہ شام میں بدترین صورتحال ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیاکہ سعودی عرب ہمارا قریبی دوست ہے، ریاض نے ہر مشکل وقت میں ہماری مددکی ہے، ہم موجودہ صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھتے ہیں لیکن ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہیے، ہم اس خطے میں مزید تصادم نہیں چاہتے۔ عمران خان نے کہاکہ وہ سعودی عرب مثبت ذہن کے ساتھ جائیںگے اور وہ مصالحت کار نہیں بلکہ سہولت کارکا کرداراداکرنا پسندکریں گے۔

ہم دومسلم برادرممالک میں ثالثی چاہتے ہیں۔ یہ پیچیدہ مسئلہ ہے جسے حل کیے جانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کی جس میں دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات سمیت دیگرموضوعات زیرغورآئے۔ وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت پر ایرانی سپریم لیڈرکا شکریہ ادا کیا۔

سپریم لیڈر سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ امت مسلمہ کو بے شمار اندرونی اور بیرونی چیلنجزکا سامنا ہے، تمام مسلمان ممالک کے درمیان اتحاد و یگانگت کا پیغام عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک بہت پیچیدہ اور مشکل صورت حال ہے ایک طرف ایران ہے جو ہمارا ہمسایہ برادر اسلامی ملک ہے جس کے ساتھ ہمارے گہرے تاریخی تعلقات ہیں اسے مشکل کی اس گھڑی میں نہیں چھوڑا جا سکتا جب کہ دوسری جانب سعودی عرب ہے۔

جس کے ساتھ بھی ہمارے گہرے تعلقات ہیں۔ اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ ایران سعودی تنازع سے جہاں خطے کے امن کے ساتھ معیشت کو شدید خطرہ ہے وہاں پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی بہت سے مسائل پیدا ہوں گے' کسی بھی تنازع کی صورت میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے جو معاشی بحران جنم لے گا اس کا تصور بھی مشکل ہے۔

ایران نے وزیراعظم عمران خان کے دورے کا جس طرح پرجوش خیرمقدم کیا ہے وہ خوش آیند ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں بھی اس صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران مل جل کر خطے کے استحکام اور ترقی کے لیے کام کر سکتے ہیں' کشیدگی کا حل امن مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔

پاک ایران قیادت کی ملاقاتیں امن کے لیے اہم ہیں۔ پاکستان نے افغانستان میں بھی قیام امن کے لیے بہترین سہولت کار کا کردار ادا کیا، اب ایک بار پھر وہ ایران سعودی تنازع میں یہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ امید ہے کہ ایران اور سعودی حکام باہمی تنازعات جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔
Load Next Story