غیررجسٹرڈ افغان مہاجرین کو ملک سے نکالنے کا حکم

افغان مہاجرین کے علاوہ یہاں غیرقانونی طور پر مقیم دیگر ممالک کے باشندوں کا انخلا بھی ناگزیر ہے

پاکستان میں موجود افغان باشندے یہاں کی معیشت و معاشرت کو متاثر کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

لاہور:
محکمہ داخلہ نے غیررجسٹرڈ افغان مہاجرین کو فوری طور پر پاکستان سے نکلنے کا حکم دے دیا ہے۔ محکمہ داخلہ وصوبائی امور نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان میں غیررجسٹرڈ اور غیرقانونی طور پر مقیم سبھی افراد کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔ پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کو ملک چھوڑنے کا حُکم نہایت مناسب اور وقت و حالات کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے اقدام کی ضرورت ایک عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی جس کو اگرچہ دیر سے پورا کیا گیا ہے لیکن 'دیر آید درست آید' کے مصداق اسے ایک خوش آیند پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔

ایک زمانے میں ہمارے کا شمار دنیا کے پُرامن ترین ممالک میں ہوتا تھا لیکن افغانستان پر سوویت یونین کی یلغار کے بعد جب سے یہاں افغان مہاجرین در آئے ہیں ہمیں داخلی سطح پر مسائل کا سامنا ہے جن میں سب سے اہم امن کا قیام ہے۔ اس حوالے سے صورتحال کی تشویشناکی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں یہاں رونما ہونے والی ڈکیتی' رہزنی اور چوری کی بعض وارداتوں میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے تھے۔


علاوہ ازیں ایک عرصے سے پاکستان میں موجود افغان باشندے یہاں کی معیشت و معاشرت کو متاثر کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں اور ان کی خوراک اور دیگر ضروریات بھی پاکستان کو ہی برداشت کرنا پڑ رہی ہیں۔ ان کو ان کے وطن واپس بھیجنا وقت کا اہم ترین تقاضا بن چکا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ جہاں غیررجسٹرڈ افغان مہاجرین کو پاکستان چھوڑنے کا کہا گیا ہے وہاں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی افغانستان واپسی کی کوششیں بھی تیز کی جائیں۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کا دعویٰ ہے کہ افغانستان کے داخلی حالات پہلے کی نسبت کافی بہتر ہو چکے ہیں اور اسی وجہ سے امریکا نے جلد ہی وہاں سے انخلاء کی منصوبہ بندی کر لی ہے لہٰذا یہی بہترین وقت ہے کہ امریکا سے تمام افغان مہاجرین کی ان کے وطن واپسی کے سلسلے میں اقدامات کا مطالبہ کیا جائے۔

یاد رہے کہ اس معاملے میں پہلے بھی کئی بار کوششیں کی گئیں جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں لہٰذا ضروری ہے کہ اس بار ٹھوس اقدامات عمل میں لائے جائیں تاکہ پاکستان کی افغان مہاجرین کے بوجھ سے جان چھوٹ جائے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کو بھی اس سلسلے میں اپنی ذمے داریوں پر توجہ دینا چاہیے اور نہ صرف افغان مہاجرین کے اخراجات مکمل طور پر برداشت کرنے چاہئیں بلکہ ان کی واپسی کا مربوط انتظام بھی کرنا چاہیے۔ یہ اہتمام ازحد ضروری ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام اور اس امن کو تادیر قائم رکھنے کے لیے بھی سنجیدگی سے کام کیا جائے تاکہ وہاں کے حالات اطمینان بخش رہیں اور وطن واپس جانے والے افغان مہاجرین کو کچھ عرصہ بعد پھر اسی عذاب سے نہ گزرنا پڑے۔

اس خطے خاص طور پر ہمارے ملک میں ایک عرصے سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو افغان مہاجرین کے علاوہ یہاں غیرقانونی طور پر مقیم دیگر ممالک کے باشندوں کا انخلا بھی ناگزیر ہے کیونکہ ناجائز طور پر یہاں رہنے والے ان افراد کے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے اندیشے اور خدشے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے انخلاء کے بعد توقع کی جا سکے گی کہ یہاں کچھ امن قائم ہو جائے گا تاہم ایسا اسی صورت میں ممکن ہو گا جب گزشتہ دنوں کیے گئے اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
Load Next Story