طالبہ نیہا کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزمان کا عدالتی ریمانڈ

مقدمے کے تفتیشی افسر کو تفتیش مکمل کرنے کا حکم،مقابلے اور اقدام قتل کے مقدمے میں ٹارگٹ کلرز کا جسمانی ریمانڈ دیدیا گیا

اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا پیش ہونے سے انکار، توہین عدالت کا نوٹس جاری۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبرII نے 13 سالہ طالبہ نیہاکے اغوا اور قتل کیس میں گرفتار ملزمان بلال، طاہر، وقاراور ریما کو 22 اکتوبر تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

فاضل عدالت کے جج نے مقدمے کے تفتیشی افسر کو حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت تک تفتیش مکمل کرکے حتمی رپورٹ پیش کریں ، بدھ کو سماعت کے موقع پر پولیس نے ملزمان کو عدالت کے روبرو پیش کیا، استغاثہ کے مطابق ملزمان بلال ، ریما ، طاہر اور وقار پر الزام عائد ہے کہ انھوں نے 13 سالہ طالبہ کو عزیز آباد سے 24 ستمبر کو اغوا کر کے قتل کر نے کے بعد لاش سی ویو پر پھینک دی تھی جس کی لاش 26 ستمبرکو سی ویو کے مقام سے برآمد ہوئی، جوڈیشل مجسٹریٹ (غربی) سہیل احمد مشوری نے پولیس مقابلہ اور اقدام قتل کے مقدمے میں گرفتار ٹارگٹ کلرزعامر، وقار احمد اور امان اللہ کو 21 اکتوبر تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا ہے، جوڈیشل مجسٹریٹ (غربی) محمد افضل روشن نے پولیس مقابلہ اور غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے میںگرفتار عاقل خان عرف لمبا کو 13 اکتوبر تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔




انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں ردوبدل کرنے اور عدالتی حکم عدولی پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیے اور ذاتی طور پر 14 اکتوبر کو دہشت گردی کی عدالت میں طلب کرلیا ، مدعی محمد منیر کھوکھر نے تھانہ لیاقت آباد میں ڈاکٹر محمد سلیم کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا، پولیس نے12 جون کومقدمے میں ملوث محمد عظیم ، محمد عابد اور جمیل کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا تھا۔

فاضل عدالت نے تینوں ملزمان کو جیل بھیج دیا تھا اور ملزمان کے خلاف چالان جمع کرانے کا حکم دیا تھا ، تفتیشی افسر انسپکٹر خان طارق نے ملزمان کو بیگناہ قرار دیا تھا ، اگلے روز دوبارہ عدالت میں پیش ہوا اور ملزمان کے خلاف چالان جمع کرادیا جس پر فاضل عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور اپنے ریمارکس میں کہا کہ پہلے ملزمان کو بے گناہ قرار دیا ایک روز بعد ہی ان کے خلاف چالان کردیا، تفتیشی افسر اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔

بدھ کو مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی، فاضل عدالت نے معافی کی استدعا کو منظور کرلیا لیکن ایس ایس پی نے عدالت میں پیش ہونے سے انکار کردیا تھا، فاضل عدالت نے عدالتی حکم عدولی پر توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے اور 14 ا کتوبر کو طلب کرلیا۔
Load Next Story