استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کی کسٹم ڈیوٹی اورقیمت میں اضافہ

وفاقی وزارت تجارت نے استعمال شدہ گاڑیوں پر فرسودگی الائونس میں کمی کر دی، قیمتوںمیں60ہزارسے2لاکھ40 ہزارروپے تک کااضافہ

وفاقی وزارت تجارت نے استعمال شدہ گاڑیوں پر فرسودگی الائونس میں کمی کر دی، قیمتوںمیں60ہزارسے2لاکھ40 ہزارروپے تک کااضافہ،درآمدگھٹ جائیگی : فائل فوٹو

KARACHI:
وفاقی وزارت تجارت نے استعمال شدہ گاڑیوں پر فرسودگی الائونس میں کمی کردی ہے جس سے استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کی کسٹم ڈیوٹی اور قیمت میں اضافہ ہوگا۔ آل پاکستان موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن نے فرسودگی الائونس میں کمی کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے احتجاجاً پورٹ پر کھڑی اور آئندہ آنے والی درآمدی کاروں کی کسٹم کلیئرنس ہفتہ یکم ستمبر سے ہی روکتے ہوئے احتجاجی مہم کا فیصلہ کرلیا ہے۔ آل پاکستان موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق ایف بی آر نے مقامی اسمبلرز کو فائدہ پہنچاتے ہوئے وزارت تجارت کو اس کے اثرات کے حوالے سے اندھیرے میں رکھا،

حکومت نے موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن سے مشاورت کے بغیر لوکل اسمبلرز کے دبائو پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد ی پالیسی میں تبدیلی کردی ہے، 5 سال پرانی کاروں پر فرسودگی الائونس کی سہولت ایک سال کم کردی گئی ہے، اس طرح استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر ملنے والی 60فیصد رعایت کم ہوکر 48 فیصد رہ گئی ہے، استعمال شدہ گاڑیوںکی درآمدی پالیسی میں کی جانے والی اس تبدیلی سے عوام کو کم قیمت گاڑیوں کی فراہمی اور لوکل اسمبلرز کی اجارہ داری کے خاتمے کیلیے حکومتی عزم کو دھچکہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ فرسودگی الائونس کم ہونے سے 650سی سی سے ایک ہزار سی سی تک کی استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کی قیمت میں ڈیوٹی بڑھنے سے60ہزار روپے، 1300سی سی تک کی گاڑیوں پر ایک لاکھ 20ہزار روپے جبکہ 1300سی سی سے 1800سی سی گاڑیوں کی قیمت میں 2لاکھ40 ہزار روپے تک کا اضافہ ہو جائے گا،


قیمت بڑھنے سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں بھی کمی ہوگی جس سے حکومت کو ریونیو کی مد میں نقصان کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 3 سالہ تجارتی پالیسی فریم ورک میں استعمال شدہ گاڑیوں کیلیے کنٹری آف اوریجن کی رجسٹریشن بک کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے جس سے بیرون ملک سے چوری شدہ گاڑیوں کی پاکستان درآمد کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گفٹ، بیگیج اور ٹرانسفر آف ریزیڈنس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی ترسیلات گاڑیوں کی شکل میں قانونی طریقے سے وطن روانہ کرتے ہیں،

فرسودگی الائونس میں کمی سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنے سرمائے پر نقصان اٹھانا پڑے گا جس سے غیرقانونی ذرائع سے رقوم کی منتقلی کا رجحان بڑھنے کا بھی خطرہ ہے، گزشتہ سال 50فیصد چھوٹی گاڑیاں درآمد کی گئیں جو کم آمدن والے طبقے نے خریدیں، فرسودگی الائونس میں کمی سے کم آمدن والے طبقے کیلیے کار جیسی سہولت مشکل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے، اس فیصلے کو واپس کرانے کیلیے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور وزیر خزانہ حفیظ شیخ سے ملاقاتیں کریں گے۔
Load Next Story