ایک اور مریض میں کانگو وائرس کی تصدیق محکمہ صحت لاعلم

مریض نے بلیاں پالی ہوئی تھیں

وائرس جانوروں کی کھال میںچپکے پسوکے انسان کوکاٹنے پرمنتقل ہوجاتا ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی میں ایک اور مریض میںکانگو وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں ہیں،مریض شاہدندیم نجی اسپتال میں زیر علاج ہے، جس کی عمر20سال ہے، مریض کا آبائی تعلق بلوچستان سے ہے ، کراچی میں سائٹ ایریا کا رہائشی بتایاگیا ہے، تاہم اے کے یوکے پبلک ریلینشن ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے تصدیق نہیں کی لیکن اسپتال کے عملے نے مریض کی تصدیق کی ہے،محکمہ صحت لاعلم ہے، مریض کی تیمارداری کرنے والے عملے کو تمام حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔


اس سے قبل کراچی کے پٹیل اسپتال میں ایک مریض جمعہ خاں کی ہلاکت بھی کانگوائرس کے باعث ہوئی تھی،محکمہ صحت نے وائرس سے نمٹنے کیلیے عملی اقدامات نہیں کیے محکمہ صحت صرف سیل بناکرذمے داریاں پوری کرلیتا ہے، معلوم ہوا ہے کہ مریض نے گھر میں بلیاں پالی ہوئی ہیں،کانگوائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے، یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں پھیلتا ہے،کانگو وائرس ہرسال بلوچستان میںسب سے زیادہ رپورٹ ہوتا ہے تاہم یہ وائرس پاکستان میںعید الاضحیٰ کے موقع پر اس وقت پھیلتا ہے جب عیدقربان کے موقع پر ملک بھر سے جانوروںکی نقل حمل کی جاتی ہے، ان جانوروں میں بیشترکانگوائرس سے متاثر ہوتے ہیں جوملک میں پھیلنے کا سبب بنتے ہیں۔

کراچی میں بکرامنڈی کے موقع پر یہ وائرس شدت اختیارکرنے کا اندیشہ ہوتا ہے،جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا کانگو وائرس جانوروں کی کھال میں چیپکنے والے پسو( TICK) سے ہوتا ہے،یہ مخصوص کیڑا جانوروںکی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستا رہتا ہے، جس سے جانورلاغراورشدید متاثر ہوتے ہیں ،اور یہ وائرس متاثرہ جانورکے ساتھ براہ راست رابطے میں رہنے والے افرادکو بھی منتقل ہوجاتا ہے ،پسوکے کاٹنے سے یہ وائرس انسانی خون میں شا مل ہوتا ہے۔
Load Next Story