آٹوسیکٹرکا حکومت پر طویل مدتی پالیسی بنانے پرزور
پاکستانی گاڑیوں کی قیمت ٹیکسز منہا کرکے نسبتاً کم ہیں.
مقامی سطح پر گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری کی وجہ سے ہی مقامی کار ساز اداروں نے پاکستانی صارفین کو نسبتاً کم قیمت پر کاروں کی دستیابی ممکن بنائی۔ فائل فوٹو
ڈائریکٹر جنرل پاکستان آٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) عبدالوحید نے کہا ہے کہ انتہائی چیلنجنگ ماحول کے باجود مقامی کار ساز ادارے عالمی معیار کی گاڑیاں نہایت مسابقتی قیمت پر تیار کررہے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں آٹو انڈسٹری کی کارکردگی کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام کارساز اداروں نے گزشتہ برسوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ گرتے ہوئے روپے کی قدر کے رسک کو کم کیا جاسکے اور مقامی سطح پر پرزوں کی تیاری و لوکلائزیشن 60 فیصد تک حاصل کی، آٹو انڈسٹری اب تک اس لیے قائم ہے کہ انڈسٹری نے درست سمت میں کوششیں کی ہیں ورنہ مخدوش امن وامان کی حالت، توانائی کے بحران، ٹیکسز میں بھاری اضافے، گزشتہ 5 برس میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 70 فیصد کمی اور دیگر وجوہ کی بنا پر انڈسٹری ختم ہوچکی ہوتی۔
مقامی سطح پر گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری کی وجہ سے ہی مقامی کار ساز اداروں نے پاکستانی صارفین کو نسبتاً کم قیمت پر کاروں کی دستیابی ممکن بنائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی گاڑیوں کی قیمت ٹیکسز منہا کرکے نسبتاً کم ہیں اور یہ انتہائی غیر منطقی عمل ہے کہ نئی مقامی گاڑی کا موازنہ پرانی استعمال شدہ گاڑیوں سے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو احساس کرنا ہوگا کہ مستقل پالیسیاں جن میں اچانک تبدیلیاں نہ کی جائیں وہ انڈسٹری کے فروغ، ترقی اور نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں تاہم آٹو سیکٹر اب تک اس سے محروم ہے۔
انھوں نے کہا کہ پرانی درآمدی گاڑیوں سے ملکی معیشت اور آٹو سیکٹر دونوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، حکومت کا قیمتی زرمبادلہ پرانی گاڑیوں کی درآمد پر خرچ ہورہا ہے تو دوسری طرف مقامی انڈسٹری کا مارکیٹ شیئر پرانی درآمدی گاڑیوں کی وجہ سے کم ہورہا ہے جبکہ صارفین کو بھی ایسی گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال پر بھاری اخراجات کرنے پڑتے ہیں کیونکہ ان گاڑیوں نے اپنی عمر پوری کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹو انڈسٹری مجموعی ٹیکسز کا 4 فیصدجمع کراتی ہے اور ساتھ ہی 16 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے، انڈسٹری روزگار کے مزید مواقع پیدا کرسکتی ہے ۔
تاہم اس کیلیے ضروری ہے کہ حکومت انڈسٹری کے فروغ کیلیے طویل مدتی پالیسی تشکیل دے۔ ڈی جی پاما نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ طویل المدت مستقل پالیسیاں وضع کرے اور ان پر عمل درآمد یقینی بنائے، نئی آٹو پالیسی کی تشکیل کیلیے تمام اسٹیک ہولڈرز وزات صنعت، ای ڈی بی، پاما اور پاپام کو اعتماد میں لیتے ہوئے اور ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر پالیسی وضع کی جائے۔
انہوں نے اپنے بیان میں آٹو انڈسٹری کی کارکردگی کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام کارساز اداروں نے گزشتہ برسوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے تاکہ گرتے ہوئے روپے کی قدر کے رسک کو کم کیا جاسکے اور مقامی سطح پر پرزوں کی تیاری و لوکلائزیشن 60 فیصد تک حاصل کی، آٹو انڈسٹری اب تک اس لیے قائم ہے کہ انڈسٹری نے درست سمت میں کوششیں کی ہیں ورنہ مخدوش امن وامان کی حالت، توانائی کے بحران، ٹیکسز میں بھاری اضافے، گزشتہ 5 برس میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 70 فیصد کمی اور دیگر وجوہ کی بنا پر انڈسٹری ختم ہوچکی ہوتی۔
مقامی سطح پر گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری کی وجہ سے ہی مقامی کار ساز اداروں نے پاکستانی صارفین کو نسبتاً کم قیمت پر کاروں کی دستیابی ممکن بنائی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی گاڑیوں کی قیمت ٹیکسز منہا کرکے نسبتاً کم ہیں اور یہ انتہائی غیر منطقی عمل ہے کہ نئی مقامی گاڑی کا موازنہ پرانی استعمال شدہ گاڑیوں سے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو احساس کرنا ہوگا کہ مستقل پالیسیاں جن میں اچانک تبدیلیاں نہ کی جائیں وہ انڈسٹری کے فروغ، ترقی اور نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں تاہم آٹو سیکٹر اب تک اس سے محروم ہے۔
انھوں نے کہا کہ پرانی درآمدی گاڑیوں سے ملکی معیشت اور آٹو سیکٹر دونوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، حکومت کا قیمتی زرمبادلہ پرانی گاڑیوں کی درآمد پر خرچ ہورہا ہے تو دوسری طرف مقامی انڈسٹری کا مارکیٹ شیئر پرانی درآمدی گاڑیوں کی وجہ سے کم ہورہا ہے جبکہ صارفین کو بھی ایسی گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال پر بھاری اخراجات کرنے پڑتے ہیں کیونکہ ان گاڑیوں نے اپنی عمر پوری کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹو انڈسٹری مجموعی ٹیکسز کا 4 فیصدجمع کراتی ہے اور ساتھ ہی 16 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے، انڈسٹری روزگار کے مزید مواقع پیدا کرسکتی ہے ۔
تاہم اس کیلیے ضروری ہے کہ حکومت انڈسٹری کے فروغ کیلیے طویل مدتی پالیسی تشکیل دے۔ ڈی جی پاما نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ طویل المدت مستقل پالیسیاں وضع کرے اور ان پر عمل درآمد یقینی بنائے، نئی آٹو پالیسی کی تشکیل کیلیے تمام اسٹیک ہولڈرز وزات صنعت، ای ڈی بی، پاما اور پاپام کو اعتماد میں لیتے ہوئے اور ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر پالیسی وضع کی جائے۔