حکومت سندھ کا مجوزہ ماحولیاتی بل ماہرین کے سامنے پیش
ماحولیاتی ادارے میں وزیراعلیٰ اور بیوروکریٹس کی نمائندگی سے فائدہ کم ہوگا، ماہرین
سکندر میندھرو،بیرسٹر شاہدہ جمیل کی سربراہی میں3 رکنی کمیٹی کی تشکیل۔ فوٹو: فائل
18ویں آئینی ترمیم کے بعد سندھ میں ماحولیات سے متعلق قانون سازی کے لیے پہلی بار سول سوسائٹی کو اعتماد میں لیتے ہوئے حکومت نے مجوزہ ماحولیاتی بل ماہرین کے سامنے پیش کردیا ہے۔
ماہرین نے اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے موقف اختیارکیاکہ نجی شعبے کے ساتھ سرکاری شعبے پر بھی ماحولیاتی قوانین کی پابندی عائد کی جائے ، ماحولیاتی اداروں میں وزیراعلیٰ اور سینئر بیوروکریٹس کی نمائندگی سے فائدہ کم ہوگا،جمعرات کو مقامی ہوٹل میں ادارہ تحفظ ماحولیات ، حکومت سندھ نے آئی یو سی این کے نیشنل امپیکٹ اسسمنٹ پروگرام کے اشتراک سے سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحولیات کے مسودے پر ماہرین کی رائے حاصل کرنے کیلیے مشاورتی اجلاس منعقد کیا،اجلاس کی صدارت سندھ کے وزیر برائے پارلیمانی امور اور ماحولیات ڈاکٹر سکندر علی میندھرو نے کی ۔
انھوں نے ماحولیاتی ماہرین، اساتذہ، سول سوسائٹی کے ممبران اور قانونی ماہرین کو یقین دلایا کہ انکی آرا کی روشنی میں مذکورہ مسودے میں مزید بہتری لانے کے بعد بل کو منظوری کیلیے سندھ اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا، تجاویز کے جائزے کیلیے بیرسٹر شاہدہ جمیل کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
اجلاس کے مندوبین نے سندھ کی ماحولیاتی بنیادوں پر جغرافیائی حد بندیوں کی واضح تشریح، وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں کو اپنے اندر سمونے کی اہلیت اور سمندری آلودگی کی روک تھام کیلیے جامع قانون سازی کو بل میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین نے نشاندہی کی کہ تاحال سمندری آلودگی کے قوانین واضح نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ سمندری آلودگی کے ذمے داروں کو اس تناسب سے سزا دی جائے جتنی آلودگی کے وہ ذمے دار ہیں،سکندر میندھرو نے کہا کہ عوامی رائے کے بغیر کوئی قانون موثر نہیں ہوسکتالہذا اس نشست کا مقصد ماہرین سے آرائے تجاویز لیکر مسودے میں شامل کی جائیں گی،ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ کے ڈائریکٹر جنرل نعیم مغل نے کہا کہ مذکورہ قانونی مسودہ تیار کرتے ہوئے پیش رو قانون پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997میں موجود خامیوں اور ابہام کو ذہن میں رکھا گیا ہے تاکہ سندھ کے ماحولیاتی قانون کے مسودے کو ہر قسم کے نقائص سے پاک رکھا جاسکے،اجلاس میں بیرسٹر شاہدہ جمیل،شمس الحق میمن،ڈاکٹر سمیع الزماں، شاہد لطفی، کشن چند مکوانا، سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔
ماہرین نے اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے موقف اختیارکیاکہ نجی شعبے کے ساتھ سرکاری شعبے پر بھی ماحولیاتی قوانین کی پابندی عائد کی جائے ، ماحولیاتی اداروں میں وزیراعلیٰ اور سینئر بیوروکریٹس کی نمائندگی سے فائدہ کم ہوگا،جمعرات کو مقامی ہوٹل میں ادارہ تحفظ ماحولیات ، حکومت سندھ نے آئی یو سی این کے نیشنل امپیکٹ اسسمنٹ پروگرام کے اشتراک سے سندھ کے قانون برائے تحفظ ماحولیات کے مسودے پر ماہرین کی رائے حاصل کرنے کیلیے مشاورتی اجلاس منعقد کیا،اجلاس کی صدارت سندھ کے وزیر برائے پارلیمانی امور اور ماحولیات ڈاکٹر سکندر علی میندھرو نے کی ۔
انھوں نے ماحولیاتی ماہرین، اساتذہ، سول سوسائٹی کے ممبران اور قانونی ماہرین کو یقین دلایا کہ انکی آرا کی روشنی میں مذکورہ مسودے میں مزید بہتری لانے کے بعد بل کو منظوری کیلیے سندھ اسمبلی میں پیش کردیا جائے گا، تجاویز کے جائزے کیلیے بیرسٹر شاہدہ جمیل کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
اجلاس کے مندوبین نے سندھ کی ماحولیاتی بنیادوں پر جغرافیائی حد بندیوں کی واضح تشریح، وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں کو اپنے اندر سمونے کی اہلیت اور سمندری آلودگی کی روک تھام کیلیے جامع قانون سازی کو بل میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین نے نشاندہی کی کہ تاحال سمندری آلودگی کے قوانین واضح نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ سمندری آلودگی کے ذمے داروں کو اس تناسب سے سزا دی جائے جتنی آلودگی کے وہ ذمے دار ہیں،سکندر میندھرو نے کہا کہ عوامی رائے کے بغیر کوئی قانون موثر نہیں ہوسکتالہذا اس نشست کا مقصد ماہرین سے آرائے تجاویز لیکر مسودے میں شامل کی جائیں گی،ادارہ تحفظ ماحولیات حکومت سندھ کے ڈائریکٹر جنرل نعیم مغل نے کہا کہ مذکورہ قانونی مسودہ تیار کرتے ہوئے پیش رو قانون پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997میں موجود خامیوں اور ابہام کو ذہن میں رکھا گیا ہے تاکہ سندھ کے ماحولیاتی قانون کے مسودے کو ہر قسم کے نقائص سے پاک رکھا جاسکے،اجلاس میں بیرسٹر شاہدہ جمیل،شمس الحق میمن،ڈاکٹر سمیع الزماں، شاہد لطفی، کشن چند مکوانا، سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔