اسلحہ کیس میں گواہ نے شاہ جہاں بلوچ کوشناخت کرلیا
شاہ جہاں اورساتھیوں نے پولیس پرفائرنگ کی،ایل ایم جی رائفل برآمدکی،پولیس افسر
10ملزمان کی گرفتاری اور اسلحہ کی برآمد کا مشیر نامہ بنایا اور تھانے میں الگ الگ مقدمات درج کیے تھے۔فوٹو: فائل
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی سہیل جبار ملک کی عدالت نے اسلحہ ایکٹ اور دستی بم رکھنے کے مقدمے میں ملوث رکن قومی اسمبلی شاہ جہاں بلوچ کیس میں سی آئی ڈی گارڈن کے سب انسپکٹر خالد حسین نے بیان قلمبند کرادیا ۔
دوران بیان ملزم کو شناخت بھی کیا ،گواہ نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ28اپریل 2012 کو اے ایس آئی اصغر ، ایچ سی غلام مرتضی ، سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ گشت پر تھے، بکتر بند گاڑی میں مہراب خان روڑ نورانی کالونی کی گلی کے کونے پرپہنچے تو10 سے زائد ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی،ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا، عدالت میں موجود ملزم شاہ جہاں جو کہ گلی میں موجود تھا۔
اس کے قبضے سے ایل ایم جی، کلاشنکوف ، 5دستی بم ، لاکٹ لانچر ، اور جامہ تلاشی میں 530 روپے برآمد کیے تھے ملزمان نے اسی دوران فرار ہونے والے عذیر بلوچ ، نور محمد بابا لاڈلہ ، ستارپیڑا ، تاج محمد عرف تاجو ، کھتری فرار ہوگئے تھے، 10ملزمان کی گرفتاری اور اسلحہ کی برآمد کا مشیر نامہ بنایا اور تھانے میں الگ الگ مقدمات درج کیے تھے ،ملزم کی گرفتاری اور اسلحے کی برآمد کا وہ گواہ ہے ، قبل ازیں کیس پراپرٹی پیش نہ کرنے پر مقدمے کے تفتیش افسر اور سی آئی ڈی کے راجہ خالد پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور آخری موقع دیتے ہوئے حکم دیا کہ اگر آئندہ سماعت پر کیس پراپرٹی پیش نہیں کی تو انتہائی سخت کارروائی کی جائیگی ۔
دوران بیان ملزم کو شناخت بھی کیا ،گواہ نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ28اپریل 2012 کو اے ایس آئی اصغر ، ایچ سی غلام مرتضی ، سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ گشت پر تھے، بکتر بند گاڑی میں مہراب خان روڑ نورانی کالونی کی گلی کے کونے پرپہنچے تو10 سے زائد ملزمان نے پولیس پر فائرنگ کی،ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا، عدالت میں موجود ملزم شاہ جہاں جو کہ گلی میں موجود تھا۔
اس کے قبضے سے ایل ایم جی، کلاشنکوف ، 5دستی بم ، لاکٹ لانچر ، اور جامہ تلاشی میں 530 روپے برآمد کیے تھے ملزمان نے اسی دوران فرار ہونے والے عذیر بلوچ ، نور محمد بابا لاڈلہ ، ستارپیڑا ، تاج محمد عرف تاجو ، کھتری فرار ہوگئے تھے، 10ملزمان کی گرفتاری اور اسلحہ کی برآمد کا مشیر نامہ بنایا اور تھانے میں الگ الگ مقدمات درج کیے تھے ،ملزم کی گرفتاری اور اسلحے کی برآمد کا وہ گواہ ہے ، قبل ازیں کیس پراپرٹی پیش نہ کرنے پر مقدمے کے تفتیش افسر اور سی آئی ڈی کے راجہ خالد پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور آخری موقع دیتے ہوئے حکم دیا کہ اگر آئندہ سماعت پر کیس پراپرٹی پیش نہیں کی تو انتہائی سخت کارروائی کی جائیگی ۔