ہر طرف کرپشن کا بازار گرم ہے حکومت کے پاس کوئی علاج ہے سپریم کورٹ

آرپی پی اوراسٹیل مل کیس میں کرپشن کیخلاف فیصلہ دیااوراصول وضع کیے لیکن کسی حکومت نے عملدرآمد نہیں کیا،چیف جسٹس

عدالت کی جامشوروجوائنٹ وینچر کمپنی کوشفافیت اوررائلٹی پرمطمئن کرنے کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہاہے کہ ملک میں ہرطرف کرپشن کا بازار گرم ہے،کیا حکومت کے پاس بدعنوانی کے خاتمے کا کوئی علاج ہے؟

ایل پی جی کوٹہ کے بارے میں خواجہ آصف کی پٹیشن پرچیف جسٹس نے کہاکہ اگر اداروںکے سربراہ سیاسی اثرکے بغیر مستقل بنیادوں پرتعینات ہوں توبدعنوانی کا یہ سلسلہ رک جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ آر پی پی اوراسٹیل مل کیس میں عدالت نے کرپشن کیخلاف فیصلہ دیا اور اصول وضع کیے لیکن فیصلے پرتاحال کسی حکومت نے عملدرآمدنہیں کیا۔چیف جسٹس افتخار چوہدری،جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل بینچ نے جامشوروجوائنٹ وینچرمعاہدے کیخلاف دائرآئینی درخواست پرسماعت کی۔وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف نے ایل پی جی کوٹہ کوغیر شفاف قرار دیتے ہوئے بتایاکہ معاہدے کی وجہ سے سوئی سدرن گیس کمپنی کو صرف رائلٹی کی مدمیں ہرسال نو ارب روپے کانقصان ہورہاہے اور اگر مارک اپ کوشامل کیاجائے تونقصان18ارب بنتا ہے۔




خواجہ آصف نے درخواست کے حق میں خوددلائل دیے اور کہاکہ ایل پی جی کوٹہ الاٹ کرنے کامعاہدہ رینٹل پاورفیصلے میں طے اصولوں کیخلاف ہے،معاہدہ عوام کے ساتھ فراڈہے جس سے اربوں روپے کانقصان ہوا،جن کمپنیوںکے ساتھ کنٹریکٹ ہوا وہ اس قدر طاقتورہیںکہ حکومت بھی ان کے سامنے بے بس تھی لیکن ہماری حکومت ان کادبائوبرداشت کررہی ہے۔وفاقی وزیرنے کہاکہ حکومت کے وکیل بھی ان کمپنیوں کی مرضی سے مقرر ہوتے ہیں،معاہدے کی بہت سی شقوںکو خفیہ رکھا گیاتاکہ باقی کمپنیاں دلچسپی نہ لیں،ان کا کہنا تھا حکومت نے منظور نظرکمپنی کوکنٹریکٹ دیناتھا، معاہدہ ہونے کے بعدقواعد و ضوابط طے کیے گئے۔انھوں نے استدعاکی کہ معاہدہ کالعدم قرار دے کرنئی نیلامی کاحکم صادر کیا جائے اور پلانٹ کاکنٹرول حکومت کو دیاجائے۔

چیف جسٹس نے کہا حکومت خود اس صورتحال کا حل کیوں نہیں نکالتی ،کیا حکومت کے پاس کرپشن کو قابوکرنے کا کوئی حل ہے؟حکومت کی پالیسی توکرپشن فری ہونی چاہیے۔خواجہ آصف نے کہا کرپشن کے سیلاب کے سامنے بند باندھاجارہاہے،سوئی سدرن گیس کمپنی کی طرف سے عابد حسن منٹو نے دلائل دیے اورکہاکہ کمپنی کو دوبارہ نیلامی پراعتراض نہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاورنے کہاکہ معاہدے میں خامیاں موجودہیں،حکومت دوبارہ نیلامی کے حق میں ہے، اگر معاہدہ کالعدم قرار دیاجائے تو حکومت کوعتراض نہیں ہوگالیکن پراسسنگ پلانٹ کو بند نہ کیا جائے اس سے معاشی نقصان ہوگا۔جامشورو جوائنٹ وینچرکے وکیل طارق رحیم نے تمام الزامات مستردکردیے اورکہاکہ سوئی سدرن گیس کوچارمد میں پیسے مل رہے ہیں، اگرمعاہدہ نہیں رہے گا تو پلانٹ حکومت کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ پلانٹ کمپنی نے لگایاہے۔چیف جسٹس نے انھیںکہاکہ شفافیت اور رائلٹی کے معاملے پر مطمئن کریں ۔
Load Next Story