کسی نے حملہ کیا تو اینٹ سے اینٹ بجا دینگے ایرانی سپریم لیڈر
ایران نے مسلمانوں کو تشخص عطا کیا، ہمارا نیوکلیئر پروگرام پرامن اور دفاع کیلیے ہے
امریکا اور مغربی طاقتوں کا ڈراؤنا خواب حقیقت بن چکا ہے، ایران علاقائی طاقت ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران ایک طاقتور ملک ہے اور ہر قسم کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،کسی نے بھی حملے کی کوشش کی تو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔
تہران میں نوجوانوں اور دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ایران کا نیو کلیئر پروگرام پر امن ہے اور یہ کسی کے بھی خلاف نہیں ۔ ہمیں ملکی دفاع کا حق حاصل ہے، سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلیے ہر طرح کے اقدامات کریں گے۔ 3 دہائیوں کے بعد اب امریکیوں اور مغربی ممالک کا یہ ڈرائونا خواب حقیقت میں تبدیل ہوچکا ہے کہ ایک قومی طاقت نے علاقے میں سر اٹھایا ہے جسے طرح طرح کے سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی اور تشہیری ہتھکنڈے گرانے میں نہ صرف ناکام رہے بلکہ اس بڑی طاقت نے علاقے پر گہرے اثرات مرتب کیے اور مسلمانوں کو تشخص عطا کیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی نظام کی بنیادی پالیسی تیز سائنسی ترقی سے عبارت ہے، ایران کا تھنک ٹینک اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اگر دشواریوں، خطروں اور لغزشوں کے مقامات کو سرکرنے کے کئی راستے ہیں تو بے شک ان میں ایک راستہ علمی و سائنسی پیشرفت کا ہے۔ باصلاحیت ایرانی سائنس دان ہر اس سائنسی اور علمی ہدف کو حاصل کرسکتے ہیں جس کیلیے ملک میں انفرا اسٹرکچر موجود ہے۔
تہران میں نوجوانوں اور دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ایران کا نیو کلیئر پروگرام پر امن ہے اور یہ کسی کے بھی خلاف نہیں ۔ ہمیں ملکی دفاع کا حق حاصل ہے، سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلیے ہر طرح کے اقدامات کریں گے۔ 3 دہائیوں کے بعد اب امریکیوں اور مغربی ممالک کا یہ ڈرائونا خواب حقیقت میں تبدیل ہوچکا ہے کہ ایک قومی طاقت نے علاقے میں سر اٹھایا ہے جسے طرح طرح کے سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی اور تشہیری ہتھکنڈے گرانے میں نہ صرف ناکام رہے بلکہ اس بڑی طاقت نے علاقے پر گہرے اثرات مرتب کیے اور مسلمانوں کو تشخص عطا کیا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی نظام کی بنیادی پالیسی تیز سائنسی ترقی سے عبارت ہے، ایران کا تھنک ٹینک اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اگر دشواریوں، خطروں اور لغزشوں کے مقامات کو سرکرنے کے کئی راستے ہیں تو بے شک ان میں ایک راستہ علمی و سائنسی پیشرفت کا ہے۔ باصلاحیت ایرانی سائنس دان ہر اس سائنسی اور علمی ہدف کو حاصل کرسکتے ہیں جس کیلیے ملک میں انفرا اسٹرکچر موجود ہے۔