چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں دہشت گردی

کوئٹہ میں ہونے والا دھماکا زیادہ شدید تھا‘ یہ کوئٹہ کے بارونق بازار لیاقت بازار میں ہوا

اگر یہ کارروائی طالبان کی نہیں تو پھر کس گروہ کی ہے، ملک کے انٹیلی جنس اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ اصل مجرموں کا سراغ لگائیں۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعرات کو گورنر ہائوس پشاور میں امن و امان کے حوالے سے خصوصی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کو ملکی سرحدوں اور ملک کی خود مختاری پر حملہ تصور کرتے ہیں' انھوں نے واضح کیا کہ حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے پر خلوص نیت سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہم طالبان سے مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے میں مخلص ہیں' ملک میں اب مزید جانوں کا ضیاع نہیں چاہتے' اگر اس طریقے سے اس مسئلے کو حل کیا جاتا ہے تو اس سے بہتر آپشن نہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردی کے مسئلے نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایک جانب وزیراعظم طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے وضاحت کر رہے تھے کہ حکومت پوری خلوص نیت سے آگے بڑھی تو دوسری جانب پاکستان کے چاروں صوبائی دارالحکومت میں بم دھماکے ہورہے تھے۔ دہشت گردی کی ان وارداتوں میں تیرہ افراد جاں بحق جب کہ 70 افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جب سے ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں رونما ہونا شروع ہوئی ہیں،ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ایک ہی دن میں ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دہشت گردوں کی یہ کارروائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے لاہور بم دھماکے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ اگر یہ کارروائی طالبان کی نہیں تو پھر کس گروہ کی ہے، ملک کے انٹیلی جنس اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ اصل مجرموں کا سراغ لگائیں۔

کوئٹہ میں ہونے والا دھماکا زیادہ شدید تھا' یہ کوئٹہ کے بارونق بازار لیاقت بازار میں ہوا' اس دھماکے میں اخباری اطلاعات کے مطابق 9افراد جاں بحق ہوئے ہیں' بی بی سی کے حوالے سے اخبارات میں یہ اطلاع شایع ہوئی ہے کہ یونائیٹڈ بلوچ آرمی نامی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمے داری بھی قبول کی ہے۔ پشاور میں رنگ روڈ پر انسداد پولیو مہم کی سیکیورٹی پر مامور حفاظتی گاڑی کے قریب دھماکا ہوا' جس میں 3 لیویز اہلکار زخمی ہوئے' پشاور میں ایسی وارداتیں پہلے میں ہوتی رہتی ہیں، کراچی میں ذرا مختلف نوعیت کا واقعہ ہوا ہے' یہاں اورنگی ٹائون کراچی میں منگھو پیر روڈ پر تین دہشت گرد موٹر سائیکل پر دھماکا خیز مواد لے کر جا رہے تھے کہ دھماکا ہو گیا اور وہ تینوں مارے گئے۔ اگر یہ لوگ اپنے ہدف تک پہنچ جاتے تو زیادہ تباہی کا خطرہ تھا۔

لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے بارے میں پولیس کی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم دہشت گردی سمیت بھتہ خوری' کاروباری رقابت اور دیرینہ دشمنی کے پہلوئوں پر بھی تحقیقات کر رہی ہے' تحقیقاتی ٹیم کے مطابق دہشت گرد اپنی کارروائی میں اتنا کم مواد میں دھماکا خیز مواد استعمال نہیں کرتے۔یہ استدلال وزنی ہے ، ہوسکتا ہے کہ دہشت گردی کے ماحول میں کسی جرائم پیشہ گروہ نے یہ کام کیا ہو۔ پریشان کن امر یہ ہے کہ اگر یہ کارروائی کسی جرائم پیشہ گروہ نے کی ہے تو اس سے یہ امر بھی سامنے آتا ہے کہ لاہور میں دھماکا خیز مواد بآسانی دستیاب ہے، اس سے کل کو کوئی بھی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ دھماکا خیز مواد استعمال کر کے افراتفری پھیلا سکتا ہے۔ حکومت کو اس پہلو پر توجہ دینی چاہیے۔


وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے اس امر کی نشاندہی سے کہ ملک میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی تربیت یافتہ فورس موجود نہیں ہے' ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کی کسی حکومت نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں، ڈنگ ٹپاو پالیسی کے ذریعے ہی ملک کو چلایا جاتا رہا ہے، اس سے یہ امر سامنے آتا ہے کہ پورا ملک دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے، وہ جب چاہیں اور جہاں چاہیں' دہشت گردی کی کارروائی کر کے خوف و ہراس پھیلا سکتے ہیں۔ حکومت امن و امان کی صورتحال یقینی بنانے کے لیے ہر سال اربوں روپے سیکیورٹی اداروں پر صرف کرتی ہے اگر اس کے باوجود یہ ادارے بے بس ہیں اور عوام کو جان و مال کا تحفظ نہیں تو یہ پریشان کن امر ہے البتہ وزیر اعظم نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے خصوصی انسداد دہشت گردی فورس تشکیل دی جائے گی جس کو خصوصی تربیت اور جدید ہتھیار فراہم کیے جائیں گے۔

اس معاملے میں اب تاخیر نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ کراچی میں امن دشمنوں کے خلاف کامیاب کارروائی جاری ہے' دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا قانون جلد نافذ کر دیا جائے گا جس کے تحت دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ لیکن صرف قانون بنا دینے سے دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکتا، اصل مقصد اس پر اپنے معنی و مفہوم کے لحاظ سے عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔ قوانین میں بعض سقم موجود ہیں جن کے باعث دہشت گرد عدالتوں سے رہا ہو جاتے ہیں اس طرح دہشت گردی پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ سیکیورٹی ادارے جنہوں نے بڑی محنت سے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کیا ہوتا ہے عدالتوں سے مجرموں کی رہائی کے بعد ان کی محنت رائیگاں چلی جاتی ہے۔

وزیر اعظم نے بھی اسی امر کی جانب نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جرائم پیشہ عناصر عدم ثبوت اور قانونی کمزوریوں کی وجہ سے رہا ہو جاتے ہیں۔ اس امر کی روک تھام کے لیے وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کے جلد ٹرائل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جس کے ذریعے مجرموں کی ضمانت نہیں ہونے دیں گے۔انسداد دہشت گردی آرڈیننس اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اس آرڈیننس کو پارلیمنٹ سے منظور کراکے جلد قانون بنا یا جائے تاکہ حکومت کی سنجیدگی ظاہر ہو۔ وزیر اعظم نواز شریف ملک میں امن کے لیے طالبان سے مذاکرات کا مسلسل عندیہ دے رہے ہیں۔تحریک انصاف، جے یو آئی کے تمام گروپ اور جماعت اسلامی بھی مذاکرات کی حامی ہے تاہم ملک میں ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے آپریشن کے حق میں ہے۔

اس کا استدلال ہے کہ مذاکرات سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا جب کہ دوسرے حلقے کا کہنا ہے کہ آپریشن سے قبل طالبان کو ایک موقع ضرور دینا چاہیے اور قتل و غارت سے بچنے کے لیے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جائے۔ وزیر اعظم نے مذاکرات کا عندیہ دے کر گیند طالبان کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ اب ان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ فی الفور اپنی عسکری کارروائیاں روک کر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ حکومت طالبان سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دے اور واضح اور غیر مبہم ایجنڈے کا اعلان کرے کہ کن امور پر بات چیت کی جائے گی۔ اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو پھر حکومت کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔ دہشت گردی ایک حساس معاملہ ہے اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کو بہت سوچ بچار کے بعد آگے بڑھنا ہو گا، کوئی بھی کیا گیا غلط فیصلہ ملک و قوم کو مزید مسائل سے دوچار کر سکتا ہے۔
Load Next Story