لیبیا کے وزیراعظم کا اغوا اور رہائی

وزیر اعظم کے اغوا کو لیبیا میں القاعدہ کے رہنما انس اللبی کی گرفتاری کا رد عمل بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم علی زیدان کو جمعرات کی صبح دارالحکومت طرابلس کے ایک ہوٹل سے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد اغواکار انھیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔ فوٹو: اے ایف پی

لیبیا کے وزیر اعظم علی زیدان کو ایک باغی گروپ کی مسلح تنظیم نے اغوا کر لیا تاہم ایک دوسرے مسلح گروہ نے کئی گھنٹوں بعد انھیں رہا کرا لیا۔ ان کی رہائی کی خبر وزارت خارجہ کے ترجمان محمد عبدالعزیز نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی وساطت سے جاری کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعظم علی زیدان کو رہا کر دیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔ لیبیا کے مرد آہن تصور کیے جانے والے کرنل معمر قذافی کی امریکی کارروائی کے نتیجے میں ہلاکت کے دو سال بعد بھی یہ بدنصیب ملک مسلسل افراتفری اور بدنظمی کا شکار ہے جہاں مختلف قسم کے مسلح گروہ دندناتے پھر تے ہیں اور من مانی کارروائیاں کر تے ہیں۔ لیبیا میں انتشار اور انارکی کا یہ عالم ہے کہ ایک گروپ وزیراعظم کو اغوا کرتا ہے تو دوسرا انھیں رہا کرانے کا دعویٰ کرتا ہے' اس سے لیبیا کی حکومت کی رٹ کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔


وزیر اعظم علی زیدان کو جمعرات کی صبح دارالحکومت طرابلس کے ایک ہوٹل سے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد اغواکار انھیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔ علی زیدان کے محافظوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان میں ڈسپلن کی کمی ہے اور وہ بہتر تربیت یافتہ بھی نہیں ہیں، اس لیے انھیں سنبھلنے کا موقع نہیں ملا تاہم انھوں نے اپنے تئیں مزاحمت کی کوشش ضرور کی جب کہ وزیر اعظم بغیر کسی مزاحمت کے اغوا کاروں کے ہمراہ چلے گئے۔ دریں اثنا خود کو انقلابیوں کا گروپ کہلوانے والی ایک تنظیم کے آپریشنل سیل نے اغوا کرنے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ علی زیدان کو لیبیا کے پینل کوڈ کے تحت اٹارنی جنرل کے ادارے کے حکم پر پکڑا گیا۔ وزارت انصاف کے ترجمان نے بتایا کہ جس ملیشیا کے ارکان نے انھیں حراست میں لیا تھا، وہ کرنل معمر قذافی کی معزولی کے بعد قائم لیبیا کی حکومت کی حامی رہی ہے۔ اس سے قبل اس گروہ کا کہنا تھا کہ علی زیدان کو وزراتِ داخلہ کی تحویل میں رکھا گیا اور وہاں ان کے ساتھ اچھا برتائو کیا گیا۔

وزیر اعظم کے اغوا کو لیبیا میں القاعدہ کے رہنما انس اللبی کی گرفتاری کا رد عمل بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ انس اللبی کو امریکی کمانڈوز نے گرفتار کیا تھا جس سے ملک میں خاصا اشتعال پایا جاتا ہے۔ برطانوی حکومت نے لیبیا کے وزیراعظم کے اغوا کی مذمت کی ہے۔ برطانوی سیکریٹری خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ لیبیا کے وزیر اعظم علی زیدان کے اغوا کی واردات کسی صورت قابل برداشت نہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جو ملائیشیا کے دورے پر ہیں کہا ہے کہ انھیں علی زیدان کے اغوا اور رہائی کے حوالے سے سرکاری تفصیلات کا انتظار ہے لہذا وہ فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔ لیبیا کے وزیراعظم کے اغوا اور رہائی میں بہت ابہام پایا جاتا ہے لیکن اس سے یہ حقیقت ضرور سامنے آجاتی ہے کہ لیبیا ایک ایسے دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں حکومت کی کوئی اہمیت نہیں ہے' ملک پر وار لارڈز کی حکومت ہے' یہ انتشار پیدا کرنے والے مغربی ممالک بھی اب اس صورت حال سے پریشان ہیں کیونکہ لیبیا میں انتشار سارے شمالی افریقہ کو متاثر کر سکتا ہے۔
Load Next Story