شمالی شام میں جنگ بندی یقینی بنانے کی ضرورت
کرد فورسز ترک شام سرحد سے 30 کلومیٹر پیچھے ہٹنے پر تیا ر ہوگئے ہیں
کرد فورسز ترک شام سرحد سے 30 کلومیٹر پیچھے ہٹنے پر تیا ر ہوگئے ہیں ۔ فوٹو : فائل
QUETTA:
ترکی کی جانب سے شمالی شام میں جنگ بندی کے بعد کْرد ملیشیا سرحدی علاقہ خالی کرنے پر رضا مند ہوگئی۔ کردوں کی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد سیرئین ڈیموکریٹک فورس (ایس ڈی ایف) کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ کْرد ملیشیا کے اہلکار شمالی شام کے سرحدی علاقے سے اتوار تک نکل جائیں گے۔
گزشتہ روز کرد ملیشیا نے شامی قصبہ راس العین خالی کردیا ہے۔ کرد فورسز ترک شام سرحد سے 30 کلومیٹر پیچھے ہٹنے پر تیا ر ہوگئے ہیں۔ تاہم ووکس میڈیا نے پنٹاگان کے حوالے سے کہا ہے کہ سیز فائر ڈیل نازک ہے،ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی ڈیل کو عظیم اقدام قراردے چکے ہیں مگر شمالی شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ترجمان مصطفی بالی کا کہنا ہے کہ ترکی فوجیوں کے فضائی اور زمینی حملے شہریوں پر جاری ہیں، شامی سیزفائر غیر یقینی ہے، واضح رہے کہ ترکی 17 اکتوبر کو صدر رجب طیب اردوان اور امریکی نائب صدر مائیک پنس کے درمیان مذاکرات کے بعد 5 روز کے لیے آپریشن روکنے پر رضا مند ہوگیا تھا۔
آپریشن معطل کیے جانے کا مقصد یہ تھا کہ اس دوران کرد ملیشیا کے اہلکار اس علاقے سے نکل جائیں جسے ترکی سیف زون بنانا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ ترکی کی جانب سے شمالی شام میں 9 اکتوبر کو کرد باغیوں کے خلاف بہارِ امن کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جس میں 600 سے زائد کرد ملیشیا کے اہلکاروں کے مارے جانے اور کئی قصبوں پر قبضے کا دعویٰ کیا گیا۔ دوسری جانب ترک وزارت دفاع کے مطابق تل ابیض میں پٹرولنگ کے دوران کردوں کے ایک حملے میں ایک ترک فوجی ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود کرد ملیشیا مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور 17اکتوبر کو امریکا اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد سے اب تک کرد ملیشیا نے 20مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اب ذمے داری صدر ٹرمپ کی ہے وہ کرد ملیشیا پر زور دیں کہ وہ ڈیل کی کمٹمنٹ پوری کریں۔
دوسری جانب سیرئین مانیٹرنگ گروپ کے مطابق ترک آپریشن کے آغاز کے بعد سے ترک شام سرحدی علاقوں سے 3 لاکھ سے زائد شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ترک ہم منصب کو ٹیلی فون کر کے شمالی شام کے تازہ ترین حالات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔بلاشبہ شام کی صورتحال فوری توجہ چاہتی ہے ۔جنگ بندی کے اثرات مثبت ہونے لازمی ہیں، تاکہ دو طرفہ حملے رک سکیں۔
ترکی کی جانب سے شمالی شام میں جنگ بندی کے بعد کْرد ملیشیا سرحدی علاقہ خالی کرنے پر رضا مند ہوگئی۔ کردوں کی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد سیرئین ڈیموکریٹک فورس (ایس ڈی ایف) کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ کْرد ملیشیا کے اہلکار شمالی شام کے سرحدی علاقے سے اتوار تک نکل جائیں گے۔
گزشتہ روز کرد ملیشیا نے شامی قصبہ راس العین خالی کردیا ہے۔ کرد فورسز ترک شام سرحد سے 30 کلومیٹر پیچھے ہٹنے پر تیا ر ہوگئے ہیں۔ تاہم ووکس میڈیا نے پنٹاگان کے حوالے سے کہا ہے کہ سیز فائر ڈیل نازک ہے،ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی ڈیل کو عظیم اقدام قراردے چکے ہیں مگر شمالی شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ترجمان مصطفی بالی کا کہنا ہے کہ ترکی فوجیوں کے فضائی اور زمینی حملے شہریوں پر جاری ہیں، شامی سیزفائر غیر یقینی ہے، واضح رہے کہ ترکی 17 اکتوبر کو صدر رجب طیب اردوان اور امریکی نائب صدر مائیک پنس کے درمیان مذاکرات کے بعد 5 روز کے لیے آپریشن روکنے پر رضا مند ہوگیا تھا۔
آپریشن معطل کیے جانے کا مقصد یہ تھا کہ اس دوران کرد ملیشیا کے اہلکار اس علاقے سے نکل جائیں جسے ترکی سیف زون بنانا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ ترکی کی جانب سے شمالی شام میں 9 اکتوبر کو کرد باغیوں کے خلاف بہارِ امن کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا جس میں 600 سے زائد کرد ملیشیا کے اہلکاروں کے مارے جانے اور کئی قصبوں پر قبضے کا دعویٰ کیا گیا۔ دوسری جانب ترک وزارت دفاع کے مطابق تل ابیض میں پٹرولنگ کے دوران کردوں کے ایک حملے میں ایک ترک فوجی ہلاک اور دوسرا زخمی ہو گیا۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ترکی کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود کرد ملیشیا مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور 17اکتوبر کو امریکا اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد سے اب تک کرد ملیشیا نے 20مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اب ذمے داری صدر ٹرمپ کی ہے وہ کرد ملیشیا پر زور دیں کہ وہ ڈیل کی کمٹمنٹ پوری کریں۔
دوسری جانب سیرئین مانیٹرنگ گروپ کے مطابق ترک آپریشن کے آغاز کے بعد سے ترک شام سرحدی علاقوں سے 3 لاکھ سے زائد شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ترک ہم منصب کو ٹیلی فون کر کے شمالی شام کے تازہ ترین حالات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔بلاشبہ شام کی صورتحال فوری توجہ چاہتی ہے ۔جنگ بندی کے اثرات مثبت ہونے لازمی ہیں، تاکہ دو طرفہ حملے رک سکیں۔