طالبان مجھے مار سکتے ہیں میرے خوابوں کو نہیں ملالہ یوسفزئی
بے نظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کی وزیراعظم بن کر قوم کی خدمت کرنے کی خواہاں ہوں،ملالہ
طالبان کا مجھے خاموش کرانے اور قتل کرنے کی کوشش سب سے بڑی غلطی تھی۔ فوٹو فائل
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی گولیوں کا نشانہ بننے والی ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ طالبان میرے جسم کو ختم کر سکتے ہیں لیکن میرے خوابوں کو ختم نہیں کر سکتے۔
وہ بے نظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کی وزیراعظم بن کر قوم کی خدمت کرنے کی خواہاں ہے، قوم کی قیادت کا بہترین پلیٹ فارم سیاست ہے، طالبان کا مجھے خاموش کرانے اور قتل کرنے کی کوشش سب سے بڑی غلطی تھی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ میں پاکستان کی وزیراعظم بننا چاہتی ہوں، پہلے میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن اب سیاست میں آنا چاہتی ہوں۔ طالبان کی جانب سے حملہ کے جانے کے باوجودتعلیم کے فروغ کیلیے اپنا کام جاری رکھوں گی۔ ملالہ نے کہا کہ میرا مقصد کبھی ختم نہیں ہو گا۔ ایک دن آئے گا جب ہر بچہ لڑکی ہو یا لڑکا، سیاہ ہو یا سفید ، عیسائی ہو یا مسلم وہ اسکول جا رہا ہو گا۔
وہ بے نظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کی وزیراعظم بن کر قوم کی خدمت کرنے کی خواہاں ہے، قوم کی قیادت کا بہترین پلیٹ فارم سیاست ہے، طالبان کا مجھے خاموش کرانے اور قتل کرنے کی کوشش سب سے بڑی غلطی تھی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ میں پاکستان کی وزیراعظم بننا چاہتی ہوں، پہلے میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی لیکن اب سیاست میں آنا چاہتی ہوں۔ طالبان کی جانب سے حملہ کے جانے کے باوجودتعلیم کے فروغ کیلیے اپنا کام جاری رکھوں گی۔ ملالہ نے کہا کہ میرا مقصد کبھی ختم نہیں ہو گا۔ ایک دن آئے گا جب ہر بچہ لڑکی ہو یا لڑکا، سیاہ ہو یا سفید ، عیسائی ہو یا مسلم وہ اسکول جا رہا ہو گا۔