عدالتی حکم پر نعمت علی رندھاوا کی قبر کشائی روک دی گئی

22 اکتوبر تک امتناع، قبرستان میں پولیس ورینجرز حکام اور اہل خانہ میں تلخ کلامی

والد کی قبرکشائی کے لیے آگاہ نہیں کیا، بیٹے نصیر رندھاوا کی ایکسپریس سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

مقتول سینئرایڈووکیٹ نعمت علی رندھاواکی قبرکشائی حکم امتناع کے بعدروک دی گئی۔

قبرستان میں پولیس ورینجرز حکام اوراہل خانہ کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق نارتھ ناظم آبادمیں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے سینئرایڈووکیٹ نعمت علی رندھاواکی قبرکشائی جمعے کوعدالت کی جانب سے حکم امتناع کے بعدروک دی گئی۔ اس موقع پرقبرستان میںپولیس ورینجرز حکام اوراہل خانہ کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ مقتول کے صاحبزادے نصیررندھاوا نے کہاکہ ان کے والدکی قبرکشائی کے سلسلے میں انھیں باضابطہ طورپر آگاہ نہیں کیا گیا۔ ایکسپریس سے گفتگوکرتے ہوئے انھوںنے کہاکہ واقعہ جمعرات26ستمبر کی شب تقریباً8بجے پیش آیاتھا۔4گھنٹے تک لاش اسپتال میںتھی، اعلیٰ پولیس حکام، ایم ایل او اور دیگربھی موجودتھے، اس دوران مختلف کارروائیاںکی جاتی رہیں۔




ہم نے بھی بھرپور تعاون کیااور لاش حوالے کرنے کے لیے کوئی جلدبازی نہیں کی۔ اگلے دن جمعے 27ستمبر کوبعد نمازجمعہ پاپوش نگرقبرستان میںتقریباً 18 گھنٹے تک بعد تدفین ہوئی۔ اگرپولیس حکام کو کوئی شک تھایا کارروائی کرناتھی تواس دوران کیوںنہیں کی گئی۔ گزشتہ روزانھیں میڈیاکے ذریعے اپنے والدکی قبر کشائی کاعلم ہواجبکہ اصولی طورپر پہلے ہم سے اجازت لینی چاہیے تھی۔ ہم اپنے والدکی میت کی بے حرمتی نہیں ہونے دیں گے۔

نصیررندھاوا نے کہاکہ ہم نے عدالت سے22 اکتوبرتک حکم امتناع حاصل کرلیا ہے۔ جمعے کوحکام جب قبرکشائی کے لیے پہنچے تو ہم بھی پہنچ گئے۔ اس دوران کچھ تلخ کلامی اورشور شرابابھی ہوا۔ قبل ازیں نصیر رندھاوا نے وکیل مشتاق جوئیہ کے توسط سے سیشن جج وسطی عالیہ لطیف انڑکے روبروپیش ہوکر قبرکشائی روکنے سے متعلق درخواست دی۔ فاضل عدالت نے فوری طورپر اسسٹنٹ کمشنرکو طلب کرکے قبرکشائی 22 اکتوبر تک روکنے کاحکم دیااور نوٹس جاری کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر، مقدمے کے تفتیشی افسرسمیت دیگرکو طلب کرلیا ہے۔
Load Next Story