بھارت کے جھوٹے دعوے بے نقاب

وقت آ گیا ہے کہ بھارت عسکری اقدار و آداب کو بھی ملحوظ رکھے

وقت آ گیا ہے کہ بھارت عسکری اقدار و آداب کو بھی ملحوظ رکھے

ROME:
پاکستان نے بھارت کے سرجیکل اسٹرائیک کے تمام جھوٹے دعوؤں کا پول کھول کر رکھ دیا۔ اس کا فیصلہ کرتے ہوئے بھارت سمیت اسلام آباد میں تعینات تمام ڈپلومیٹک کورکوکنٹرول لائن پر ان مقامات پر جنھیں بھارتی فوج نے ہدف بنایا کے دورے کی دعوت دی، تمام ممالک کے سفارت خانوں کو منگل کو لائن آف کنٹرول کا دورہ کرایا اور انھیں پیشکش کی کہ وہ جہاں مرضی ہو جانا چاہییں جائیں ۔

واضح رہے غیر ملکی سفارت کاروں اور میڈیا نمایندوں کو دورے کے لیے دعوت نامے بھیج دیے گئے تھے، دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے دعوت دیے جانے کے باوجود پاکستان میں تعینات بھارتی ناظم الامورگورو واہلو والیا سمیت کوئی بھی بھارتی سفارتکار ایل او سی کے دورے پر نہیں آیا۔

ادھر بھارتی ناظم الامورکو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستان نے تمام بھارتی الزامات مسترد کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا ۔ سفارتی ذرایع کے مطابق پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنرکو بتایا کہ ہفتہ کی رات سے اتوارکو دن گئے تک لائن آف کنٹرول پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔

نوسدا گاؤں میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا ، ایک فوجی جوان اور پانچ شہری شہید ہوئے، بھارت جان بوجھ کر سویلین کو ہدف بنا رہا ہے ، بھارتی آرمی چیف کے بقول دہشت گردوں کے تین لانچنگ پیڈ تباہ کیے گئے، پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا کہ شہید ہونے والے پانچ شہری کون ہے، بھارت کو بتادیا ہے کہ اگر ایسی حرکتیں جاری رکھی گئیں تو پھر ہمارا جواب انتہائی سخت ہوگا ، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر سے کہا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے جو الزام لگایا گیا، اس کی درست جگہ بتائیں وہاں انھیں لے جاتے ہیں۔

ڈپلومیٹک کورکے سامنے ثابت کریں کہ دہشت گردی کا کیمپ کہاں ہے، جب کہ بھارتی ناظم الامورگورو واہلو والیا کو باور کرا دیا گیا کہ آزاد کشمیر میں کوئی کیمپ نہیں۔ بھارتی فورسز نے شہری آبادی کو بھاری توپخانہ سے نشانہ بنایا، سفارتی ذرایع کے مطابق پاکستان نے بھارت کے تمام جھوٹے دعوؤں کا پول کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بھارت سمیت اسلام آباد میں تعینات تمام ڈپلومیٹک کور کو کنٹرول لائن پر ان مقامات پر جنھیں بھارتی فوج نے ہدف بنایا کے دورے کی دعوت دے دی ہے ، تمام ممالک کے سفارت خانوں کو دعوت نامہ بھیج دیاگیا ہے۔

پاکستان نے بھارت کو کہا ہے کہ اہداف بنائے جانے والے مبینہ کیمپس کی لوکیشن بتائیں۔ پاکستان بھارت کے جواب کا منتظر ہے، بھارتی ناظم الامور نے کہا ہے کہ وہ دلی سے رابطہ کریں گے۔ سفارتی ذرایع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا جواب ایسے دیا جائے گا جسے پہلے دیا گیا تھا اورپاکستان کسی کی مدد کے بغیر بھی ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ سفارتی ذرایع کے مطابق تمام غیر ملکی سفراء ، ہائی کمشنرز کو آج ایل او سی کے تین سیکٹرز نوسہری، شاہ کوٹ اور جوڑا میں لیجایا جائے گا۔

بھارتی ناظم الامورگورو واہلو والیا کو بھی خصوصی دعوت دے دی گئی، بھارت نے تاحال پاکستان کی پیشکش کا جواب نہیں دیا۔ یاد رہے کہ بھارت کے جتنے مبینہ ، جھوٹے اور بے بنیاد سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے اور دھمکیاں تھیں وہ دنیا کے سامنے پاک فوج نے بے نقاب کیں، حتیٰ کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جن سرجیکل اسٹرائیک پر بڑھکیں ماریں انھیں بھی بھارتی فضائیہ اور عسکری قیادت ثابت نہیں کرسکی، بعض اسٹرائیک کے بارے میں جھوٹی خبروں کا تو بھارتی میڈیا اور اپوزیشن جماعتوںنے بھی مذاق اڑایا اور 2016,،2017، 2018 میں سرجیکل اسٹرائیکس کا بھانڈہ پھوٹ گیا جب کہ ڈی جی ایم آپریشنز نے بیان بھی جاری کیا کہ سرجیکل اسٹرائیکس کا کوئی سرکاری ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔


دریں اثناء پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت کے پاس اپنے آرمی چیف کے جھوٹے دعوے کی حمایت میں کوئی بنیاد نہیں ہے جب کہ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی سفارتخانے کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پیشکش کے جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ بھارت کے پاس اپنے آرمی چیف کے جھوٹے دعوے کی حمایت میں کوئی جواز نہیں، بھارتی سفارتکار مبینہ اہداف پر نہیں جانا چاہتے تو نہ جائیں مگر ان اہداف کے مقامات کی ہمارے دفتر خارجہ کو نشاندہی کر دیں،ہم کل غیر ملکی سفیروں اور میڈیا کو متعلقہ مقامات پر لے جائیں گے تا کہ خود زمینی حقائق جان سکیں،اس سے۔

قبل ازیں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ بھارتی سفارتخانے نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پیشکش کا جواب تاحال نہیں دیاجس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن کے پاس اپنے آرمی چیف کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی جواز نہیں، ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کی پیشکش پر بھارتی ہائی کمیشن کے جواب کے منتظر ہیں، توقع ہے کہ بھارتی حکام جلد جواب دیں گے۔

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے سفارتکاروں کو بریفنگ اور سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا کہ بھارتی ہائی کمیشن اپنے آرمی چیف کے دعوے پر کھڑا نہیں رہ سکا۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی سفارت کاروں میں سے کوئی لائن آف کنٹرول پر نہیں پہنچا، جب کہ غیر ملکی سفارت کار وادی نیلم پہنچ گئے جہاں انھوں نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ بھارتی ہائی کمیشن کے اسٹاف میں کسی سفارتکار کے ساتھ کنٹرول لائن جانے کی اخلاقی جرات نہیں۔ غیر ملکی سفارت کاراور میڈیا ارکان کاگروپ کنٹرول لائن پر سچ سامنے لائے گا۔

واضح رہے بھارتی آرمی چیف بپن راوت کے آزاد کشمیر کے مبینہ چار کیمپوں کو نشانہ بنانے کے جھوٹے اور بے بنیاد دعوے کو بے نقاب کرنے کے لیے پاک فوج نے پاکستان میں غیر ملکی سفارت کاروں کوکنٹرول پر نوسہری، شاہ کوٹ اور جورا سیکٹرکا دورہ کرایا۔ دریں اثنا پاکستان نے بھارتی آرمی چیف بپن راوت کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے کھلا چیلنج دیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 19 اور 20 اکتوبر کو بھارتی فورسز نے لائن آف کنٹرول کے 3 سیکٹرز پر بلا اشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک فوجی اور 5 شہری شہید ہوئے تھے جب کہ پاکستان کی جوابی کارروائی میں 9 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، دو بنکر بھی تباہ کیے گئے۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ سفارت کاروں کو دکھانا تھا کہ وہ مبینہ دہشتگردوں کے کیمپوں پر اسٹرائیک کے اثرات کا مشاہدہ یاجائزہ لیں۔ حقیقت میں پاکستان کو ایک ایسے مکار اور جعلساز دشمن کا سامنا ہے جو جھوٹے پروپیگنڈہ سے عالمی برادری کو پاکستان کے بارے میں بے بنیاد باتیں پھیلانا چاہتا ہے۔مگر فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی آرٹلری شیل بھی سفارت کاروں کو دکھائے جو بھارتی فورسز نے فائرکیے تھے۔

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ 2018ء میں بھارت نے کنٹرول لائن کی3038 بار خلاف ورزی کی۔ 58 شہری ہلاک ، 319 زخمی ہوئے۔ 2019ء میں 2068 بار خلاف ورزی کی گئی،44 شہری ہلاک اور 230 بھارتی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان اور بھارتی فوج کے درمیان فرق یہ ہے کہ ہماری فورسز عسکری روایات کی پابند ہیں اور صرف انڈین پوسٹ کو ٹارگٹ کرتی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ بھارت عسکری اقداروآداب کو بھی ملحوظ رکھے اور خطے میں امن کو ترجیح دینے کی پاکستانی کوششوں کا احترام کرے۔
Load Next Story