انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا موقع مصباح الحق کے اصرار پر ملا سعید اجمل
پاکستان کے مایہ ناز اسپنر سعید اجمل کا ایکسپریس کو خصوصی انٹرویو
تربیتی کیمپ میں سرفراز نواز نے بولنگ ایکشن مشکوک قرار دیدیا تھا، سعید اجمل۔ فوٹو: فائل
ایکسپریس: ڈرائنگ روم میں بڑی تعداد میں ٹرافیز سجی ہیں، جو تھوڑی جگہ خالی نظر آرہی ہے، جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز ان کی تعداد میں اضافے کا اچھا موقع ہوگی،کیا ارادے ہیں؟
سعید اجمل: ٹرافیز اور کامیابیاں اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی، والدین اور پرستاروں کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں، جنوبی افریقہ کیخلاف متحدہ عرب امارات میں گزشتہ سیریز میں کارکردگی عمدہ رہی تھی، اس بار بھی اسپنرز کے لیے موزوں کنڈیشنز سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے بے تاب ہوں، پوری کوشش ہوگی کہ مین آف دی سیریز کی صورت میں ایک اور ٹرافی میرے شوکیس کی زینت بن جائے۔
ایکسپریس: پروٹیز کو اسپن کے جال میں پھانسنے کے لیے کوئی نئی ورائٹی تیار کررہے ہیں؟
سعید اجمل: میرے پاس پہلے ہی اتنے مؤثر ہتھیار موجود ہیں کہ پروٹیز کو قابو کرسکوں، کسی نئی ورائٹی کا نہیں سوچ رہا، ہر بیٹسمین کی تکنیک اور نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف حربے آزما کر ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔
ایکسپریس: کہا جاتا ہے کہ جنوبی افریقی بیٹسمین اسپن کو کھیلتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں، آپ کیا کہیں گے؟
سعید اجمل: پروٹیز نمبرون ہیں، اس مقام تک پہنچنے کے لیے ٹاپ کلاس بیٹسمینوں اور بولرز کی ضرورت ہوتی ہے، میرا نہیں خیال کہ انھیں کوئی گھبراہٹ ہوتی ہوگی، دنیا کی بہترین بیٹنگ لائن کو آؤٹ کرنے کے لیے ہمیں سخت محنت کی ضرورت ہوگی، ہمارے بولرز بھی صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں، امید ہے کہ ہم یو اے ای کی کنڈیشنز میں ان کا بھر پور مقابلہ کرتے ہوئے مثبت نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
ایکسپریس: جنوبی افریقہ کیخلاف سیریز میں کیسی وکٹوں پر کھیلنا پسند کریں گے؟
سعید اجمل: یو اے ای میں ہماری ہوم سیریز ہے، اپنی مرضی کی وکٹیں تیار کرنا ہمارا حق ہے، رواں سال پروٹیز نے ہمیں اپنی بولنگ اور بیٹنگ کے لیے سازگار کنڈیشنز میں گرین ٹاپ وکٹوں پر کھلایا، مینجمنٹ کو اب ایسے ٹریک منتخب کرنا ہوں گے جو ہماری ٹیم کے لیے موزوں ہوں۔
ایکسپریس: آپ کو خاصی تاخیر سے انٹرنیشنل کیریئر شروع کرنے کا موقع ملا، اس طویل سفر میں کسی مایوسی کا بھی شکار ہوئے؟
سعید اجمل: انٹرنیشنل ڈیبیو کے انتظار میں کئی پاپڑ بیلے، روزگار کے لیے مختلف کام کئے، گرمیوں میں خاندانی کاروبار کپڑے کی تجارت کے لیے دکان پر جاتا، سردیوں میں کرکٹ کھیلتا، شادی بھی ہوگئی، کے آر ایل کی طرف سے تنخواہ اتنی نہیں ملتی تھی کہ گزارا ہوتا، اسٹیٹ لائف کے ساتھ وابستہ ہوگیا تاکہ اضافی آمدنی حاصل ہوسکے، ان حالات میں گھر والوں نے وارننگ دیدی کہ تمہارے پاس آخری سال ہے، کرکٹ میں کیریئر آگے نہ بڑھا تو خاندانی کاروبار مستقل بنیادوں پر سنبھالنا ہوگا، خدا کا شکر ہے کہ مجھے قومی ٹیم میں جگہ مل گئی اور انٹرنیشنل کامیابیوں کا سفر بھی شروع ہوگیا، پھر پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
ایکسپریس: پاکستان کی نمائندگی کا موقع کیسے ملا، کچھ احوال بتائیں گے؟
سعید اجمل: حیرت کی بات یہ ہے کہ 2005ء میں سیزن میں ٹاپ کیا تو بھی قومی ٹیم کے لیے منتخب نہ کیا گیا، تربیتی کیمپ میں بلائے جانے کے باوجود کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا۔ اگلے سال بھی بھرپور فارم میں تھا مگر زیر غور نہیں لایا گیا۔ 2007ء میں صرف 17 آؤٹ کئے تھے کہ گرین شرٹ زیب تن کرنے کا موقع مل گیا۔
ایکسپریس: کس نے شناخت کیا کہ آپ کا ٹیلنٹ ملک کے کام آسکتا ہے؟
سعید اجمل: مصباح الحق میرے اچھے دوست ہیں، انھوں نے مینجمنٹ سے کہا کہ ٹیم میں کوالٹی اسپنر کی کمی محسوس ہوتی ہے،آپ ایک بار سعید کو چیک ضرور کرلیں، بعدازاں جو بھی فیصلہ کیا گیا قبول ہوگا، تربیتی کیمپ میں آیا تو یہاں ایک اور چیلنج کا سامنا کرنا پڑگیا۔ سرفراز نواز اور چند دیگر افراد نے کہا کہ یہ لڑکا بال تھرو کرتا ہے، انٹرنیشنل کرکٹ میں چل نہیں سکتا۔انھوں نے حادثے کی وجہ سے ہڈی میں خم اور بائیو مکینک ٹیسٹ تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا فیصلہ صادر کردیا۔
مصباح الحق نے میری وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ایک بولر 15 سال سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہا ہے، ایکشن میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا، آپ ایک بار اسے انٹرنیشنل میچ میں کھیلنے کا موقع دیں، اگر کوئی مشکوک بات ہوئی تو آئی سی سی کے اعتراض پر کیریئر ختم ہوجائے گا، مجھے دوبارہ کیمپ میں بلا کر اچھی طرح چیک کرکے بھارت کیخلاف آزمانے کا فیصلہ کیا گیا۔ روایتی حریف کے ہوم گراؤنڈ پر کیریئر کا آغاز کرنے کی سوچ سے ہی میری ٹانگیں کانپ رہیں تھیں، پھر اپنی ہمت بندھائی کہ اتنا عرصہ ہوگیا فرسٹ کلاس کرکٹ میں پرفارم کررہاہوں، تجربہ کس دن کام آئے گا۔ مصباح الحق نے بھی خاصی حوصلہ افزائی کی۔ انھوں نے کہاکہ آج کیریئر کا پہلا اور آخری موقع سمجھ کر بولنگ کرو، کامیاب رہو گے۔
ایکسپریس: اولین میچ میں کیسی کارکردگی رہی؟
سعید اجمل: وکٹ تو صرف ایک ہی حاصل کرسکا لیکن ایک ایسے وقت میں جب دیگر بولرز کی بھر پور پٹائی ہورہی تھی، میں نے رنز روکے، آخر میں 5 اوورز کرکے بھارت کو 350 کا ٹوٹل حاصل کرنے سے باز رکھا، اس میچ میں میری ورائٹی اور لائن لینتھ نے گہرا اثر چھوڑا، مبصرین نے بھی کارکردگی کو سراہا جس کے بعد قومی ٹیم کا مستقل رکن بن گیا۔
ایکسپریس: ٹیسٹ میں کامیابیوں کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟
سعید اجمل: یونس خان کپتان تھے، انھوں نے کہا کہ سری لنکا اسپنرز کی جنت ہے، اپنی صلاحیتوں کے مطابق پرفارم کرو، تمہیں یہی ٹیسٹ نہیں، اگلے دو میچ بھی کھیلنا اور ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کرنا ہے۔ ان کی طرف سے اعتماد اور حوصلہ دیئے جانے کے بعد میں اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ بعدازاں آسٹریلیا کیخلاف ٹوئنٹی 20 کیریئر کے آغاز کا بھی موقع ملا جس میں بہترین کارکردگی سے مورال بلندیوں پر جا پہنچا۔
ایکسپریس: ''دوسرا'' میں مہارت کب اور کیسے حاصل کی؟
سعید اجمل: فیصل آباد کے ایک بولر عقیل مرلی ''دوسرا'' کو بطور خاص ہتھیار استعمال کرتے تھے۔ ثقلین مشتاق کے بعد انھیں اس حوالے سے پہچان حاصل ہوئی، فیصل آباد کی ٹیم بنی تو عقیل مرلی کو اسی اضافی خوبی کی وجہ سے مجھ پر ترجیح دی گئی۔ اس فیصلہ کے بعد میں ذرائع آمدن میں اضافے کی سوچ لے کر کلب کرکٹ کھیلنے کے لیے انگلینڈ چلا گیا، وہاں ہفتے میں 2 دن میچ کھیلتے باقی 5 دن فراغت ہوتی۔ میں نے ثقلین مشتاق کی ویڈیوز دیکھیں، سابق بولر کی انگلیوں کی حرکات کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہوئے ڈیڑھ ماہ تک صرف اور صرف ''دوسرا'' کی مشق کی۔
ایکسپریس: ثقلین مشتاق نے آپ کو سکھانے میں کوئی کردار ادا کیا؟
سعید اجمل: میں نے صرف ان کی ویڈیوز دیکھ کر اپنے تجربات اور مسلسل مشق سے سیکھا،اس دوران ان سے ملاقات کا موقع نہیں مل سکا، تاہم ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے کے بعد ان سے ملا اور بولنگ کے حوالے سے بات چیت ہوئی، انھوں نے قیمتی مشوروں سے بھی نوازا۔
ایکسپریس: چند سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ بیٹسمین آپ کی گیند کو سمجھنے لگے ہیں، بولنگ غیر مؤثر ہونے سے آپ کا کیریئر مختصر ہوجائے گا؟
سعید اجمل: اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر کے کوچز اور بیٹسمین حریف بولرز کے ویڈیوز کا جائزہ لے کر خوب ہوم ورک کرتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مختلف حربوں کو ناکام بنانے کے طریقے تلاش کئے جائیں لیکن ہم بھی آرام سے نہیں بیٹھے رہتے، اپنی ورائٹیز، لائن اور لینتھ پر مختلف تجربات کرتے رہتے ہیں تاکہ بیٹ اور بال کی جنگ میں ہمیں کامیابی حاصل ہو۔
ساری دنیا کو معلوم ہے کہ میں ''دوسرا'' کرتا ہوں، پھر بھی بیشتر بیٹسمین اچھی طرح کھیل نہیں پاتے اور غلطی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ گیند درست لینتھ پر پڑنے کے بعد گھومتی ہے تو سمجھنا آسان نہیں رہتا، میں تو اللہ کا نام لے کر میدان میں اترتا اور ہر گیند پر وکٹ لینے کی کوشش کرتا ہوں۔ کئی بار بیٹسمین بہت زیادہ ہوم ورک کے باوجود بولنگ کو نہیں سمجھ پاتے، میرا کام سو فیصد پرفارمنس دینا ہے، کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
ایکسپریس: کبھی کبھی آخری اوورز میں آپ کو خلاف توقع زیادہ رنز پڑجاتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
سعید اجمل: کوئی بولر صورتحال کو ہاتھ سے نکلتا دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ تاہم کرکٹ میں ایسے لمحات بھی آجاتے ہیں کہ کچھ بھی آپ کے حق میں نہیں جاتا، پوری کوشش ہوتی ہے کہ ایک ایک گیند ناپ تول کر پھینکوں، جس سے نتائج ہمارے حق میں ہوں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ بھر پور کوشش کے باوجود اپنی حکمت عملی میں کامیاب نہیں ہوتے، بیٹسمین کا دن اچھا اور آپ کا برا ہوتا ہے۔
ایکسپریس: کسی بیٹسمین کے سامنے بولنگ کرتے ہوئے گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں؟
سعید اجمل: مجھے اکثر اوقات مشکل صورتحال یا اہم مواقع پر ہی بولنگ کے لیے کہا جاتا ہے، اسی لیے خود کو ہر چیلنج کے لیے تیار رکھتا ہوں۔ کسی سے خوفزدہ نہیں ہوتا، اسی اعتماد کی بدولت کرس گیل سمیت کئی چھکے چھڑانے والے بیٹسمین قابو کئے۔ کیون پیٹرسن کی بھی ایک نہ چلنے دی، کسی کے سامنے گھبراہٹ نہیں ہوتی، اگر کسی کا اسٹائل جارحانہ ہے تو ہم بھی ایک ایک بیٹسمین کی ویڈیوز دیکھ کر کوچ اور کپتان کی مشاورت سے پورا ہوم ورک کرتے ہیں کہ ان کو کس طرح قابو کیا جائے۔ ٹیسٹ میں مجھے سنگا کارا نے بے حد متاثر کیا ہے۔ سری لنکن بیٹسمین ابتدا میں بڑے محتاط انداز میں پچ اور بولنگ کو سمجھتے ہیں، کریز پر سیٹ ہونے کے بعد ان کو روکنا ممکن نہیں ہوتا۔
ایکسپریس: آپ کے بولنگ ایکشن پر بھی کئی بار خوب شور مچایا گیا، کیا وجہ ہے؟
سعید اجمل: سری لنکن اسپنر مرلی دھرن کی طرح میرے بھی کندھے میں بچپن سے ہی ٹیڑھا پن ہے جس کی وجہ سے شکوک ظاہر کئے گئے تاہم ایک بار بائیومکینک لیب میں مکمل ہر ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد آئی سی سی نے کلیئر کردیا تو کوئی مسئلہ نہیں رہا۔
ایکسپریس: حال ہی میں جان ایمبری نے ایک بار شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی؟
سعید اجمل: ان کا اپنے ملک کا بولر ہو تو سب صحیح ہے۔انھیں بھارت، آسٹریلیا کے بولرز میں کوئی نقص نظر نہیں آتا، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، زمبابوے کے کھلاڑیوں پر کوئی انگلی اُٹھے تو جواب میں کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ میرے پاس کلیئرنس سرٹیفکیٹ موجود ہے، آئی سی سی اعتراض کرے تو چلا جاؤں گا، بے جا تنقید کرنے والوں کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کپتان کا بھی مشورہ ہے کہ فضول بیانات کو خاطر میں لانے کے بجائے اپنی پرفارمنس پرنظر رکھو۔
ایکسپریس: آپ کے خیال میں کیریئر کے مزید کتنے سال باقی ہیں؟
سعید اجمل: خود کو ورلڈ کپ 2015ء تک سپرفٹ دیکھنا چاہتا ہوں۔ لمبی چوڑی منصوبہ بندی نہیں کرتا، پوری کوشش ہوگی کہ جب تک ہمت ہے ملک و قوم کے لیے پرفارم کرتا رہوں، تاہم جب محسوس کیا کہ کوئی نوجوان اسپنر میرا خلا پر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو خود ہی اس کے لیے جگہ خالی کردوں گا۔
ایکسپریس: آپ ان دنوں بیٹنگ سے بھی لطف اندوز ہورہے ہیں، رواں سال آپ کے ٹیسٹ رنز محمد حفیظ سے زیادہ ہیں؟
سعید اجمل: کبھی کبھی ایسا ہوجاتا ہے، ایک سال فرسٹ کلاس میں بھی میرے محمد حفیظ سے زیادہ رنز تھے، آل راؤنڈر بہت اچھے کھلاڑی ہیں، ہر بیٹسمین پر کبھی نہ کبھی برا دور آجاتا ہے، ویسے بھی ہماری بیٹنگ ایسی جارہی ہے کہ ٹیل انڈرز بھی رنز کریں تو ٹیم کے مفاد میں ہوتا ہے، کوچ کا خیال ہے کہ مجھ میں وکٹ پر قیام کرنے اور رنز بنانے کی صلاحیت موجود ہے، اسی لیے بیٹنگ بہتر بنانے پر بھی تھوڑی توجہ دی، جس کا فائدہ بھی ہورہا ہے، کریز پر جاکر کبھی صورتحال سے گھبراتا نہیں، بولنگ میں مجھے مشکل مواقع پر آزمایا جاتا ہے، رنز بھی روکنا ہوتے ہیں اور وکٹیں گرانے کی ذمے داری بھی مجھ پر ہوتی ہے، بیٹنگ میں بھی اسی جذبہ سے پر فارم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
ایکسپریس: سچن ٹنڈولکر کو آؤٹ کرکے اس کا کیریئر ختم کرنے کی بات پر بھارتی میڈیا نے خوب شور مچایا، آپ نے کیا کہا تھا؟
سعید اجمل: اتفاق سے آخری اننگز میں ماسٹر بلاسٹر کی وکٹ حاصل کرنے کا موقع مجھے مل گیا، میں نے مذاق میں ایک بات کردی تھی جس کا غلط مطلب نکال کر رائی کا پہاڑ بنادیا گیا، ٹیم منیجر نے بھی مجھے کہا کہ تم نے کیا بول دیا، ٹنڈولکر ورلڈ کلاس پلیئر ہیں، انھوں نے ڈھیروں ریکارڈز اپنے قدموں تلے روند دیئے، ان کو تین چار بار آؤٹ کرنا بھی اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں، کوئی بولر اتنے بڑے اسٹار کو کیریئر ختم کرنے پر مجبور کیسے کرسکتا ہے۔ بھارتی میڈیا نے اس معاملے کو کسی اور ہی انداز میں اچھالا، اس معاملے میں وضاحت کے سوا کیا کرسکتا تھا۔
ایکسپریس: دورہ زمبابوے میں ٹیم کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہی اس کی کیا وجوہات تھیں؟
سعید اجمل: میزبان ٹیم نے اپنی قوت اور پلاننگ کے مطابق بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے اپنی کنڈیشنز کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔ پہلے ٹیسٹ میں ہمارے اسپنرز نے 15 آؤٹ کئے، دوسرے میں انھوں نے وینیو تبدیل کرکے ایسی پچ پر کھلایا جس پر 10 ملی میٹر گھاس تھی، ان حالات میں ان کے میڈیم پیسر بھی بڑے مؤثر ثابت ہوئے۔
انھوں نے اپنی لائن اور لینتھ میں مستقل مزاجی کے ساتھ پاکستانی بیٹنگ کا امتحان لیا، ڈاٹ بالز کے نتیجے میں ہمارے پلیئرز نے بالآخر صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر وکٹیں گنوائیں، مصباح کو بھی انھوں نے اسی پلاننگ کے ساتھ آؤٹ کیا، میں منفی بولنگ کرنے کے بجائے وکٹ لینے کے لیے گیند کرتا ہوں، میں نے ایسے ہی کیا، تاہم مجموعی طور پر انھوں نے توقعات سے بڑھ کر کھیل پیش کیا۔
ایکسپریس: دورہ زمبابوے کو بیٹنگ کی ناکامی کہہ سکتے ہیں؟
سعید اجمل: صرف بیٹنگ کی ناکامی نہیں کہہ سکتے۔ گزشتہ 3 سال سے سلسلہ ایسے ہی چل رہا ہے۔ زمبابوین پلیئرز کا دونوں شعبوں میں ڈسپلن نہ صرف ٹیسٹ بلکہ ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 میں بہترین رہا، فتح و شکست سے قطع نظر انھوں نے ہر فارمیٹ میں ہمیں ٹف ٹائم دیا۔
ایکسپریس: فیصل آباد وولفز کی چیمپئز لیگ میں کارکردگی اچھی نہیں رہی، بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں معیار کا واضح فرق دیکھنے میں آیا۔ کیا ہماری فرسٹ کلاس اتنی کمزور ہوگئی؟
سعید اجمل: ہماری اور دوسرے ملکوں کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں واضح فرق موجود ہے۔ معیار کے لحاظ سے ہم انگلینڈ کی کلب کرکٹ کے برابر ہیں۔ ہمارے ہاں بڑی تعداد میں کھلاڑی فرسٹ کلاس کرکٹر کا لیبل حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،ڈومیسٹک سیزن کے دوران 420 کے قریب پلیئر ایکشن میں ہوتے ہیں، ہمیں مختلف لیول بناکر ترجیحات طے کرنا ہوں گی تاکہ ڈومیسٹک سطح پر کوئی معیار سامنے آسکے، کھلاڑی مختلف مدارج طے کرکے آگے آئیں اور ٹاپ 60 یا 70 فرسٹ کلاس کھیلیں، اسی طرح معاوضے بھی طے کئے جائیں،کرکٹر سی گریڈ کے ساتھ شروع کرکے اگلے مرحلوں میں جائے تو اسے ملنے والی رقم بھی بڑھائی جانی چاہیے، معاوضہ اتنا ضرور ہونا چاہیے کہ کھلاڑی معاشی تفکرات سے آزاد ہوکر صرف اور صرف اپنی پرفارمنس پر توجہ مرکوز رکھ سکے۔
ہمارے فرسٹ کلاس میچ کی 4 سے 5 ہزار فیس ہے، اس سے گھر کاخرچہ نہیں چل سکتا،کرکٹر کھیل کے ساتھ روزگار کے لیے کوئی اور کام دھندا کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے لیے دوسرا راستہ ہے کہ کلب اور لیگ کھیلنے انگلینڈ چلے جائیں، ٹاپ پلیئر کو باہر جانے سے روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کے معاوضے معقول کئے جائیں۔ بھارت کا کرکٹر فرسٹ کلاس سیزن میں ایک کروڑ جبکہ ہمارا صرف لاکھ کماتا ہے، ان کی رنجی ٹرافی میچ کی فیس ہماری ٹیسٹ فیس سے زیادہ ہے۔ پی سی بی فرسٹ کلاس کرکٹرز کی ایسوسی ایشنز کو الگ کردے، ان کو سپانسرز تلاش کرنے کی اجازت دی جائے، کھلاڑیوں کے معاشی مسائل حل ہونا شروع ہوجائیں گے۔
ایکسپریس: کیا آپ کی تجویز کے مطابق فرسٹ کلاس ٹیموں کو سپانسرز مل جائیں گے؟
سعید اجمل: لوگ کرکٹ سے بے پناہ لگاؤ رکھتے ہیں، سپانسرز کی کوئی کمی نہیں ہوگی، فیصل آباد میں ہی کئی ایسے ادارے موجود ہیں جو اس ضمن میں بھر پور کردار ادا کرسکتے ہیں، کوئی ٹیم خریدے تو بورڈ کے اخراجات میں کمی ہوگی، کھلاڑیوں کو معقول معاوضے ملیں گے مگر ہماری ایسوسی ایشنز میں تو سیاست ہی ختم نہیں ہوتی۔
ایکسپریس: فیصل آباد میں کرکٹ اکیڈمی بنانے کا خیال کیسے آیا، کام کہاں تک پہنچا؟
سعید اجمل: پاکستان نے مجھے عزت، شہرت، دولت دی،مٹی کا قرض اتارنے کے لیے ملکی کرکٹ کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔ حمزہ شہباز ایک تقریب کے لیے زرعی یونیورسٹی آئے تو اس سلسلے میں بات چیت ہوئی۔ وائس چانسلر رانا اقرار احمد نے اپنے ادارے میں ہی جگہ فراہم کرنے کا وعدہ پورا کردیا۔
اس اراضی پر پہلے فش فارم تھے، سطح ہموار کرنے میں کئی ماہ لگ گئے، پوری کوشش ہے کہ یہاں ایسا سسٹم بناؤں کے قومی ٹیم کو 3 یا 4 کھلاڑی دے سکوں۔ یہاں ہر باصلاحیت کرکٹر کو خوش آمدید کہا جائے گا، کسی سے کوئی معاوضہ نہیں لیں گے بلکہ پلیئرز کو تنخواہیں دیں گے۔ میں 3 ٹیمیں بناکر ٹاپ سائیڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں کو معقول معاوضہ دوںگا تاکہ میری طرح ان کو معاشی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسکول کالج گلی محلوں میں بن گئے، گراؤنڈز نہیں ہیں، ان حالات میں اچھی اکیڈمیز کی اشد ضرورت ہے، اس کمی کو کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔
سعید اجمل: ٹرافیز اور کامیابیاں اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی، والدین اور پرستاروں کی دعاؤں کا نتیجہ ہیں، جنوبی افریقہ کیخلاف متحدہ عرب امارات میں گزشتہ سیریز میں کارکردگی عمدہ رہی تھی، اس بار بھی اسپنرز کے لیے موزوں کنڈیشنز سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لیے بے تاب ہوں، پوری کوشش ہوگی کہ مین آف دی سیریز کی صورت میں ایک اور ٹرافی میرے شوکیس کی زینت بن جائے۔
ایکسپریس: پروٹیز کو اسپن کے جال میں پھانسنے کے لیے کوئی نئی ورائٹی تیار کررہے ہیں؟
سعید اجمل: میرے پاس پہلے ہی اتنے مؤثر ہتھیار موجود ہیں کہ پروٹیز کو قابو کرسکوں، کسی نئی ورائٹی کا نہیں سوچ رہا، ہر بیٹسمین کی تکنیک اور نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف حربے آزما کر ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔
ایکسپریس: کہا جاتا ہے کہ جنوبی افریقی بیٹسمین اسپن کو کھیلتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں، آپ کیا کہیں گے؟
سعید اجمل: پروٹیز نمبرون ہیں، اس مقام تک پہنچنے کے لیے ٹاپ کلاس بیٹسمینوں اور بولرز کی ضرورت ہوتی ہے، میرا نہیں خیال کہ انھیں کوئی گھبراہٹ ہوتی ہوگی، دنیا کی بہترین بیٹنگ لائن کو آؤٹ کرنے کے لیے ہمیں سخت محنت کی ضرورت ہوگی، ہمارے بولرز بھی صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں، امید ہے کہ ہم یو اے ای کی کنڈیشنز میں ان کا بھر پور مقابلہ کرتے ہوئے مثبت نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
ایکسپریس: جنوبی افریقہ کیخلاف سیریز میں کیسی وکٹوں پر کھیلنا پسند کریں گے؟
سعید اجمل: یو اے ای میں ہماری ہوم سیریز ہے، اپنی مرضی کی وکٹیں تیار کرنا ہمارا حق ہے، رواں سال پروٹیز نے ہمیں اپنی بولنگ اور بیٹنگ کے لیے سازگار کنڈیشنز میں گرین ٹاپ وکٹوں پر کھلایا، مینجمنٹ کو اب ایسے ٹریک منتخب کرنا ہوں گے جو ہماری ٹیم کے لیے موزوں ہوں۔
ایکسپریس: آپ کو خاصی تاخیر سے انٹرنیشنل کیریئر شروع کرنے کا موقع ملا، اس طویل سفر میں کسی مایوسی کا بھی شکار ہوئے؟
سعید اجمل: انٹرنیشنل ڈیبیو کے انتظار میں کئی پاپڑ بیلے، روزگار کے لیے مختلف کام کئے، گرمیوں میں خاندانی کاروبار کپڑے کی تجارت کے لیے دکان پر جاتا، سردیوں میں کرکٹ کھیلتا، شادی بھی ہوگئی، کے آر ایل کی طرف سے تنخواہ اتنی نہیں ملتی تھی کہ گزارا ہوتا، اسٹیٹ لائف کے ساتھ وابستہ ہوگیا تاکہ اضافی آمدنی حاصل ہوسکے، ان حالات میں گھر والوں نے وارننگ دیدی کہ تمہارے پاس آخری سال ہے، کرکٹ میں کیریئر آگے نہ بڑھا تو خاندانی کاروبار مستقل بنیادوں پر سنبھالنا ہوگا، خدا کا شکر ہے کہ مجھے قومی ٹیم میں جگہ مل گئی اور انٹرنیشنل کامیابیوں کا سفر بھی شروع ہوگیا، پھر پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
ایکسپریس: پاکستان کی نمائندگی کا موقع کیسے ملا، کچھ احوال بتائیں گے؟
سعید اجمل: حیرت کی بات یہ ہے کہ 2005ء میں سیزن میں ٹاپ کیا تو بھی قومی ٹیم کے لیے منتخب نہ کیا گیا، تربیتی کیمپ میں بلائے جانے کے باوجود کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا۔ اگلے سال بھی بھرپور فارم میں تھا مگر زیر غور نہیں لایا گیا۔ 2007ء میں صرف 17 آؤٹ کئے تھے کہ گرین شرٹ زیب تن کرنے کا موقع مل گیا۔
ایکسپریس: کس نے شناخت کیا کہ آپ کا ٹیلنٹ ملک کے کام آسکتا ہے؟
سعید اجمل: مصباح الحق میرے اچھے دوست ہیں، انھوں نے مینجمنٹ سے کہا کہ ٹیم میں کوالٹی اسپنر کی کمی محسوس ہوتی ہے،آپ ایک بار سعید کو چیک ضرور کرلیں، بعدازاں جو بھی فیصلہ کیا گیا قبول ہوگا، تربیتی کیمپ میں آیا تو یہاں ایک اور چیلنج کا سامنا کرنا پڑگیا۔ سرفراز نواز اور چند دیگر افراد نے کہا کہ یہ لڑکا بال تھرو کرتا ہے، انٹرنیشنل کرکٹ میں چل نہیں سکتا۔انھوں نے حادثے کی وجہ سے ہڈی میں خم اور بائیو مکینک ٹیسٹ تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا فیصلہ صادر کردیا۔
مصباح الحق نے میری وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ایک بولر 15 سال سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیل رہا ہے، ایکشن میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا، آپ ایک بار اسے انٹرنیشنل میچ میں کھیلنے کا موقع دیں، اگر کوئی مشکوک بات ہوئی تو آئی سی سی کے اعتراض پر کیریئر ختم ہوجائے گا، مجھے دوبارہ کیمپ میں بلا کر اچھی طرح چیک کرکے بھارت کیخلاف آزمانے کا فیصلہ کیا گیا۔ روایتی حریف کے ہوم گراؤنڈ پر کیریئر کا آغاز کرنے کی سوچ سے ہی میری ٹانگیں کانپ رہیں تھیں، پھر اپنی ہمت بندھائی کہ اتنا عرصہ ہوگیا فرسٹ کلاس کرکٹ میں پرفارم کررہاہوں، تجربہ کس دن کام آئے گا۔ مصباح الحق نے بھی خاصی حوصلہ افزائی کی۔ انھوں نے کہاکہ آج کیریئر کا پہلا اور آخری موقع سمجھ کر بولنگ کرو، کامیاب رہو گے۔
ایکسپریس: اولین میچ میں کیسی کارکردگی رہی؟
سعید اجمل: وکٹ تو صرف ایک ہی حاصل کرسکا لیکن ایک ایسے وقت میں جب دیگر بولرز کی بھر پور پٹائی ہورہی تھی، میں نے رنز روکے، آخر میں 5 اوورز کرکے بھارت کو 350 کا ٹوٹل حاصل کرنے سے باز رکھا، اس میچ میں میری ورائٹی اور لائن لینتھ نے گہرا اثر چھوڑا، مبصرین نے بھی کارکردگی کو سراہا جس کے بعد قومی ٹیم کا مستقل رکن بن گیا۔
ایکسپریس: ٹیسٹ میں کامیابیوں کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟
سعید اجمل: یونس خان کپتان تھے، انھوں نے کہا کہ سری لنکا اسپنرز کی جنت ہے، اپنی صلاحیتوں کے مطابق پرفارم کرو، تمہیں یہی ٹیسٹ نہیں، اگلے دو میچ بھی کھیلنا اور ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کرنا ہے۔ ان کی طرف سے اعتماد اور حوصلہ دیئے جانے کے بعد میں اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ بعدازاں آسٹریلیا کیخلاف ٹوئنٹی 20 کیریئر کے آغاز کا بھی موقع ملا جس میں بہترین کارکردگی سے مورال بلندیوں پر جا پہنچا۔
ایکسپریس: ''دوسرا'' میں مہارت کب اور کیسے حاصل کی؟
سعید اجمل: فیصل آباد کے ایک بولر عقیل مرلی ''دوسرا'' کو بطور خاص ہتھیار استعمال کرتے تھے۔ ثقلین مشتاق کے بعد انھیں اس حوالے سے پہچان حاصل ہوئی، فیصل آباد کی ٹیم بنی تو عقیل مرلی کو اسی اضافی خوبی کی وجہ سے مجھ پر ترجیح دی گئی۔ اس فیصلہ کے بعد میں ذرائع آمدن میں اضافے کی سوچ لے کر کلب کرکٹ کھیلنے کے لیے انگلینڈ چلا گیا، وہاں ہفتے میں 2 دن میچ کھیلتے باقی 5 دن فراغت ہوتی۔ میں نے ثقلین مشتاق کی ویڈیوز دیکھیں، سابق بولر کی انگلیوں کی حرکات کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہوئے ڈیڑھ ماہ تک صرف اور صرف ''دوسرا'' کی مشق کی۔
ایکسپریس: ثقلین مشتاق نے آپ کو سکھانے میں کوئی کردار ادا کیا؟
سعید اجمل: میں نے صرف ان کی ویڈیوز دیکھ کر اپنے تجربات اور مسلسل مشق سے سیکھا،اس دوران ان سے ملاقات کا موقع نہیں مل سکا، تاہم ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے کے بعد ان سے ملا اور بولنگ کے حوالے سے بات چیت ہوئی، انھوں نے قیمتی مشوروں سے بھی نوازا۔
ایکسپریس: چند سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ بیٹسمین آپ کی گیند کو سمجھنے لگے ہیں، بولنگ غیر مؤثر ہونے سے آپ کا کیریئر مختصر ہوجائے گا؟
سعید اجمل: اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر کے کوچز اور بیٹسمین حریف بولرز کے ویڈیوز کا جائزہ لے کر خوب ہوم ورک کرتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مختلف حربوں کو ناکام بنانے کے طریقے تلاش کئے جائیں لیکن ہم بھی آرام سے نہیں بیٹھے رہتے، اپنی ورائٹیز، لائن اور لینتھ پر مختلف تجربات کرتے رہتے ہیں تاکہ بیٹ اور بال کی جنگ میں ہمیں کامیابی حاصل ہو۔
ساری دنیا کو معلوم ہے کہ میں ''دوسرا'' کرتا ہوں، پھر بھی بیشتر بیٹسمین اچھی طرح کھیل نہیں پاتے اور غلطی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ گیند درست لینتھ پر پڑنے کے بعد گھومتی ہے تو سمجھنا آسان نہیں رہتا، میں تو اللہ کا نام لے کر میدان میں اترتا اور ہر گیند پر وکٹ لینے کی کوشش کرتا ہوں۔ کئی بار بیٹسمین بہت زیادہ ہوم ورک کے باوجود بولنگ کو نہیں سمجھ پاتے، میرا کام سو فیصد پرفارمنس دینا ہے، کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
ایکسپریس: کبھی کبھی آخری اوورز میں آپ کو خلاف توقع زیادہ رنز پڑجاتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
سعید اجمل: کوئی بولر صورتحال کو ہاتھ سے نکلتا دیکھنا پسند نہیں کرتا۔ تاہم کرکٹ میں ایسے لمحات بھی آجاتے ہیں کہ کچھ بھی آپ کے حق میں نہیں جاتا، پوری کوشش ہوتی ہے کہ ایک ایک گیند ناپ تول کر پھینکوں، جس سے نتائج ہمارے حق میں ہوں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ بھر پور کوشش کے باوجود اپنی حکمت عملی میں کامیاب نہیں ہوتے، بیٹسمین کا دن اچھا اور آپ کا برا ہوتا ہے۔
ایکسپریس: کسی بیٹسمین کے سامنے بولنگ کرتے ہوئے گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں؟
سعید اجمل: مجھے اکثر اوقات مشکل صورتحال یا اہم مواقع پر ہی بولنگ کے لیے کہا جاتا ہے، اسی لیے خود کو ہر چیلنج کے لیے تیار رکھتا ہوں۔ کسی سے خوفزدہ نہیں ہوتا، اسی اعتماد کی بدولت کرس گیل سمیت کئی چھکے چھڑانے والے بیٹسمین قابو کئے۔ کیون پیٹرسن کی بھی ایک نہ چلنے دی، کسی کے سامنے گھبراہٹ نہیں ہوتی، اگر کسی کا اسٹائل جارحانہ ہے تو ہم بھی ایک ایک بیٹسمین کی ویڈیوز دیکھ کر کوچ اور کپتان کی مشاورت سے پورا ہوم ورک کرتے ہیں کہ ان کو کس طرح قابو کیا جائے۔ ٹیسٹ میں مجھے سنگا کارا نے بے حد متاثر کیا ہے۔ سری لنکن بیٹسمین ابتدا میں بڑے محتاط انداز میں پچ اور بولنگ کو سمجھتے ہیں، کریز پر سیٹ ہونے کے بعد ان کو روکنا ممکن نہیں ہوتا۔
ایکسپریس: آپ کے بولنگ ایکشن پر بھی کئی بار خوب شور مچایا گیا، کیا وجہ ہے؟
سعید اجمل: سری لنکن اسپنر مرلی دھرن کی طرح میرے بھی کندھے میں بچپن سے ہی ٹیڑھا پن ہے جس کی وجہ سے شکوک ظاہر کئے گئے تاہم ایک بار بائیومکینک لیب میں مکمل ہر ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد آئی سی سی نے کلیئر کردیا تو کوئی مسئلہ نہیں رہا۔
ایکسپریس: حال ہی میں جان ایمبری نے ایک بار شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی؟
سعید اجمل: ان کا اپنے ملک کا بولر ہو تو سب صحیح ہے۔انھیں بھارت، آسٹریلیا کے بولرز میں کوئی نقص نظر نہیں آتا، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، زمبابوے کے کھلاڑیوں پر کوئی انگلی اُٹھے تو جواب میں کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ میرے پاس کلیئرنس سرٹیفکیٹ موجود ہے، آئی سی سی اعتراض کرے تو چلا جاؤں گا، بے جا تنقید کرنے والوں کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کپتان کا بھی مشورہ ہے کہ فضول بیانات کو خاطر میں لانے کے بجائے اپنی پرفارمنس پرنظر رکھو۔
ایکسپریس: آپ کے خیال میں کیریئر کے مزید کتنے سال باقی ہیں؟
سعید اجمل: خود کو ورلڈ کپ 2015ء تک سپرفٹ دیکھنا چاہتا ہوں۔ لمبی چوڑی منصوبہ بندی نہیں کرتا، پوری کوشش ہوگی کہ جب تک ہمت ہے ملک و قوم کے لیے پرفارم کرتا رہوں، تاہم جب محسوس کیا کہ کوئی نوجوان اسپنر میرا خلا پر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو خود ہی اس کے لیے جگہ خالی کردوں گا۔
ایکسپریس: آپ ان دنوں بیٹنگ سے بھی لطف اندوز ہورہے ہیں، رواں سال آپ کے ٹیسٹ رنز محمد حفیظ سے زیادہ ہیں؟
سعید اجمل: کبھی کبھی ایسا ہوجاتا ہے، ایک سال فرسٹ کلاس میں بھی میرے محمد حفیظ سے زیادہ رنز تھے، آل راؤنڈر بہت اچھے کھلاڑی ہیں، ہر بیٹسمین پر کبھی نہ کبھی برا دور آجاتا ہے، ویسے بھی ہماری بیٹنگ ایسی جارہی ہے کہ ٹیل انڈرز بھی رنز کریں تو ٹیم کے مفاد میں ہوتا ہے، کوچ کا خیال ہے کہ مجھ میں وکٹ پر قیام کرنے اور رنز بنانے کی صلاحیت موجود ہے، اسی لیے بیٹنگ بہتر بنانے پر بھی تھوڑی توجہ دی، جس کا فائدہ بھی ہورہا ہے، کریز پر جاکر کبھی صورتحال سے گھبراتا نہیں، بولنگ میں مجھے مشکل مواقع پر آزمایا جاتا ہے، رنز بھی روکنا ہوتے ہیں اور وکٹیں گرانے کی ذمے داری بھی مجھ پر ہوتی ہے، بیٹنگ میں بھی اسی جذبہ سے پر فارم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
ایکسپریس: سچن ٹنڈولکر کو آؤٹ کرکے اس کا کیریئر ختم کرنے کی بات پر بھارتی میڈیا نے خوب شور مچایا، آپ نے کیا کہا تھا؟
سعید اجمل: اتفاق سے آخری اننگز میں ماسٹر بلاسٹر کی وکٹ حاصل کرنے کا موقع مجھے مل گیا، میں نے مذاق میں ایک بات کردی تھی جس کا غلط مطلب نکال کر رائی کا پہاڑ بنادیا گیا، ٹیم منیجر نے بھی مجھے کہا کہ تم نے کیا بول دیا، ٹنڈولکر ورلڈ کلاس پلیئر ہیں، انھوں نے ڈھیروں ریکارڈز اپنے قدموں تلے روند دیئے، ان کو تین چار بار آؤٹ کرنا بھی اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں، کوئی بولر اتنے بڑے اسٹار کو کیریئر ختم کرنے پر مجبور کیسے کرسکتا ہے۔ بھارتی میڈیا نے اس معاملے کو کسی اور ہی انداز میں اچھالا، اس معاملے میں وضاحت کے سوا کیا کرسکتا تھا۔
ایکسپریس: دورہ زمبابوے میں ٹیم کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہ رہی اس کی کیا وجوہات تھیں؟
سعید اجمل: میزبان ٹیم نے اپنی قوت اور پلاننگ کے مطابق بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے اپنی کنڈیشنز کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔ پہلے ٹیسٹ میں ہمارے اسپنرز نے 15 آؤٹ کئے، دوسرے میں انھوں نے وینیو تبدیل کرکے ایسی پچ پر کھلایا جس پر 10 ملی میٹر گھاس تھی، ان حالات میں ان کے میڈیم پیسر بھی بڑے مؤثر ثابت ہوئے۔
انھوں نے اپنی لائن اور لینتھ میں مستقل مزاجی کے ساتھ پاکستانی بیٹنگ کا امتحان لیا، ڈاٹ بالز کے نتیجے میں ہمارے پلیئرز نے بالآخر صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر وکٹیں گنوائیں، مصباح کو بھی انھوں نے اسی پلاننگ کے ساتھ آؤٹ کیا، میں منفی بولنگ کرنے کے بجائے وکٹ لینے کے لیے گیند کرتا ہوں، میں نے ایسے ہی کیا، تاہم مجموعی طور پر انھوں نے توقعات سے بڑھ کر کھیل پیش کیا۔
ایکسپریس: دورہ زمبابوے کو بیٹنگ کی ناکامی کہہ سکتے ہیں؟
سعید اجمل: صرف بیٹنگ کی ناکامی نہیں کہہ سکتے۔ گزشتہ 3 سال سے سلسلہ ایسے ہی چل رہا ہے۔ زمبابوین پلیئرز کا دونوں شعبوں میں ڈسپلن نہ صرف ٹیسٹ بلکہ ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 میں بہترین رہا، فتح و شکست سے قطع نظر انھوں نے ہر فارمیٹ میں ہمیں ٹف ٹائم دیا۔
ایکسپریس: فیصل آباد وولفز کی چیمپئز لیگ میں کارکردگی اچھی نہیں رہی، بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں معیار کا واضح فرق دیکھنے میں آیا۔ کیا ہماری فرسٹ کلاس اتنی کمزور ہوگئی؟
سعید اجمل: ہماری اور دوسرے ملکوں کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں واضح فرق موجود ہے۔ معیار کے لحاظ سے ہم انگلینڈ کی کلب کرکٹ کے برابر ہیں۔ ہمارے ہاں بڑی تعداد میں کھلاڑی فرسٹ کلاس کرکٹر کا لیبل حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،ڈومیسٹک سیزن کے دوران 420 کے قریب پلیئر ایکشن میں ہوتے ہیں، ہمیں مختلف لیول بناکر ترجیحات طے کرنا ہوں گی تاکہ ڈومیسٹک سطح پر کوئی معیار سامنے آسکے، کھلاڑی مختلف مدارج طے کرکے آگے آئیں اور ٹاپ 60 یا 70 فرسٹ کلاس کھیلیں، اسی طرح معاوضے بھی طے کئے جائیں،کرکٹر سی گریڈ کے ساتھ شروع کرکے اگلے مرحلوں میں جائے تو اسے ملنے والی رقم بھی بڑھائی جانی چاہیے، معاوضہ اتنا ضرور ہونا چاہیے کہ کھلاڑی معاشی تفکرات سے آزاد ہوکر صرف اور صرف اپنی پرفارمنس پر توجہ مرکوز رکھ سکے۔
ہمارے فرسٹ کلاس میچ کی 4 سے 5 ہزار فیس ہے، اس سے گھر کاخرچہ نہیں چل سکتا،کرکٹر کھیل کے ساتھ روزگار کے لیے کوئی اور کام دھندا کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے لیے دوسرا راستہ ہے کہ کلب اور لیگ کھیلنے انگلینڈ چلے جائیں، ٹاپ پلیئر کو باہر جانے سے روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کے معاوضے معقول کئے جائیں۔ بھارت کا کرکٹر فرسٹ کلاس سیزن میں ایک کروڑ جبکہ ہمارا صرف لاکھ کماتا ہے، ان کی رنجی ٹرافی میچ کی فیس ہماری ٹیسٹ فیس سے زیادہ ہے۔ پی سی بی فرسٹ کلاس کرکٹرز کی ایسوسی ایشنز کو الگ کردے، ان کو سپانسرز تلاش کرنے کی اجازت دی جائے، کھلاڑیوں کے معاشی مسائل حل ہونا شروع ہوجائیں گے۔
ایکسپریس: کیا آپ کی تجویز کے مطابق فرسٹ کلاس ٹیموں کو سپانسرز مل جائیں گے؟
سعید اجمل: لوگ کرکٹ سے بے پناہ لگاؤ رکھتے ہیں، سپانسرز کی کوئی کمی نہیں ہوگی، فیصل آباد میں ہی کئی ایسے ادارے موجود ہیں جو اس ضمن میں بھر پور کردار ادا کرسکتے ہیں، کوئی ٹیم خریدے تو بورڈ کے اخراجات میں کمی ہوگی، کھلاڑیوں کو معقول معاوضے ملیں گے مگر ہماری ایسوسی ایشنز میں تو سیاست ہی ختم نہیں ہوتی۔
ایکسپریس: فیصل آباد میں کرکٹ اکیڈمی بنانے کا خیال کیسے آیا، کام کہاں تک پہنچا؟
سعید اجمل: پاکستان نے مجھے عزت، شہرت، دولت دی،مٹی کا قرض اتارنے کے لیے ملکی کرکٹ کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔ حمزہ شہباز ایک تقریب کے لیے زرعی یونیورسٹی آئے تو اس سلسلے میں بات چیت ہوئی۔ وائس چانسلر رانا اقرار احمد نے اپنے ادارے میں ہی جگہ فراہم کرنے کا وعدہ پورا کردیا۔
اس اراضی پر پہلے فش فارم تھے، سطح ہموار کرنے میں کئی ماہ لگ گئے، پوری کوشش ہے کہ یہاں ایسا سسٹم بناؤں کے قومی ٹیم کو 3 یا 4 کھلاڑی دے سکوں۔ یہاں ہر باصلاحیت کرکٹر کو خوش آمدید کہا جائے گا، کسی سے کوئی معاوضہ نہیں لیں گے بلکہ پلیئرز کو تنخواہیں دیں گے۔ میں 3 ٹیمیں بناکر ٹاپ سائیڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں کو معقول معاوضہ دوںگا تاکہ میری طرح ان کو معاشی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسکول کالج گلی محلوں میں بن گئے، گراؤنڈز نہیں ہیں، ان حالات میں اچھی اکیڈمیز کی اشد ضرورت ہے، اس کمی کو کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔