مہنگی اراضی انفرااسٹرکچر مسائل صنعتوں کے قیام میں رکاوٹ

ڈی ویلیو ایشن کے بعد برآمدی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے

پاکستان ہوزری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین بابرخان سے گفتگو (فوٹو: فائل)

پاکستان میں صنعتی اراضیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اورانفرااسٹراکچر کے مسائل پرانی صنعتوں کی توسیع اور نئی صنعتوں کے قیام میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔


وفاقی حکومت چین کے ''ایووسٹی'' کے طرز پر انڈسٹریل پارک بناکر اگرصنعتوں کومکمل انفرااسٹرکچر کے ساتھ رعایتی قیمت پرزمین فراہم کرے تو صنعتکاری کافروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ملکی برآمدات میں تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ ممکن ہے۔یہ بات ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے ایک بڑے برآمدکنندہ اورپاکستان ہوزری مینوفیکچررزایسوسی ایشن کے سابق چئیرمین بابرخان نے ایکسپریس سے بات چیت کے دوران کہی۔

انہوں نے بتایا کہ مطلوبہ انفرااسٹرکچر اور سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث مقامی ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری 60سے70فیصد کی پیداواری استعداد پر آپریشنل ہیں۔ اگر ان صنعتوں کو پانی، بجلی، گیس کی بلاتعطل سپلائی کی جائے اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 72گھنٹوں میں سیلزٹیکس ریفنڈ کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کیاجائے تو مقامی ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری 100 فیصد پیداواری استعداد کے ساتھ متحرک ہوکر ملکی برآمدات میں مزیداضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
Load Next Story