جنوبی افریقہ سے سیریز فیلڈ سے باہرکے’’کھیل‘‘ ٹیم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں
عالمی نمبر ون جنوبی افریقہ کی صورت میں سخت چیلنج پاکستان کرکٹ ٹیم کا منتظر ہے۔
پاکستان بیٹنگ میں مصباح اور یونس جبکہ بولنگ میں اسپنر سعید اجمل پر بہت زیادہ انحصار کرے گا۔ فوٹو : فائل
زمبابوے کیخلاف ہزیمت کا سامنا کرنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اب ایک نئے امتحان کا سامنا ہے۔
عالمی نمبر ون جنوبی افریقہ کی صورت میں سخت چیلنج اس کا منتظر ہے۔ چند ماہ قبل ہی پروٹیز نے اپنی سرزمین پر گرین کیپس کا جو حال کیا وہ سب ہی کو یاد ہو گا جب تینوں ٹیسٹ میں بدترین ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، وہاں تو خیر پچز تیز تھیں مگر اب یو اے ای کی مختلف کنڈیشنز میں مقابلہ ٹکر کا ہونے کا امکان ہے، ہمیشہ کی طرح میزبان سائیڈ کو ایک بار پھر پریشانیوں کا سامنا ہے، اندرونی سیاست اور پسند ناپسند کے چکر میں جو کھیل کھیلے گئے وہ ٹیم کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
سب سے پہلے آؤٹ آف فارم حفیظ کو اسکواڈ میں برقرار رکھنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا، ان کے لیے میدان صاف کرنے کا سوچ کر ابتدائی اعلان شدہ 12 پلیئرز میں صرف ایک اوپنر خرم منظور کو رکھا گیا، عمران فرحت اور توفیق عمر بہت بڑے پلیئرز نہیں لیکن طویل عرصے سے ٹیم کے ساتھ ہیں، انھیں مستقبل کے لیے ٹیم کی تیاری کا کہہ کر منتخب نہیں کیا گیا۔ اگر یہ منطق مان لیں تو اس ٹیم میں شامل یونس خان، مصباح الحق، سعید اجمل،ذوالفقار بابر اور عبدالرحمان بھی کون سے نوجوان کھلاڑی ہیں۔
اسی طرح اگر کسی ینگسٹر کو ترجیح دینی تھی تو پھر شان مسعود کو کیوں سہ روزہ میچ کی صورت میں ٹرائل دینے پر مجبور کیا گیا، وہ تو زمبابوے کی سیر کر کے ہی واپس آئے تھے، ایسے میں اصولی طور پر حفیظ کی جگہ ان کو ٹیم میں پہلے ہی رکھ لینا چاہیے تھا، اصل منصوبہ ٹی ٹوئنٹی قائد کو اسکواڈ میں برقرار رکھنے کا تھا لیکن میڈیا میں تمام باتیں آنے کے بعد انھیں ڈراپ کرنے کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا، اس سے کپتان مصباح الحق کی قوت آدھی ہو چکی اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ مزید چند خراب نتائج ان کیلئے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
مصباح سے کپتانی ویسے بھی چھنتے چھنتے بچی ہے۔ نگران چیئرمین نجم سیٹھی کے قریبی لوگ بخوبی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ وہ انھیں ہٹانے کا فیصلہ کر چکے تھے مگر پھر انھیں کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں، توہین عدالت کا معاملہ ہو سکتا ہے، یوں بادل نخواستہ انھیں مصباح کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ سلیکٹرز نے یونس خان کو ون ڈے اور ٹیسٹ میں قیادت سونپنے کی بات کی تھی مگر مخصوص مزاج کے حامل بیٹسمین کو سمجھانا بھی ایک بڑا مسئلہ تھا، یوں معاملہ التوا کا شکارہو گیا، ویسے یہ بات ماننے کی ہے کہ اسکواڈ سے بڑی خوبصورتی سے فیصل اقبال کو باہر کیا گیا، گذشتہ کئی سیریز میں کھیلنے کا موقع نہ پانے والے بیٹسمین کو ''ٹرائل میچ'' کی سولی پر لٹکایا گیا، وہاں 10 رنز پر آؤٹ ہونے سے ان کی ساری ڈومیسٹک کرکٹ کی کارکردگی ملیامیٹ ہو گئی اور سلیکٹرز کو ڈراپ کرنے کا موقع مل گیا۔
یہ وہ فیصلہ تھا جو وہ فیصل کے ماموں جاوید میانداد کے ڈی جی پی سی بی ہونے کی وجہ سے نہیں کر پا رہے تھے، اب بیٹسمین کو دوبارہ صفر سے آغاز کرنا پڑے گا لیکن جس طرح ایک مخصوص لابی ان کیخلاف ہے واپسی کا سفر اتنا آسان نہ ہو گا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب 12رکنی اسکواڈ میں صرف ایک اوپنر تھا تو سہ روزہ میچ سے مزید 2 اوپنرز کا انتخاب تو ہونا ہی تھا ایسے میں ایک واحد جگہ بچی جس کیلئے فیصل ، اسد شفیق اور صہیب مقصود کا مقابلہ تھا۔
اسد گذشتہ کئی اننگز میں ناکامی کے باوجود 42 رنز بنا کر منتخب ہو گئے، ایسا لگتا تھا کہ صہیب کو سلیکٹ ہی نہیں کرنا تھا ورنہ جب وہ 34 پر ناٹ آؤٹ تھے تو اننگز ڈکلیئر نہ کی جاتی۔صہیب کے 60،70رنز اسد کو مشکل میں ڈال سکتے تھے لہٰذا ایسی نوبت ہی نہ آنے دی گئی۔ یوں پہلے سے جن 3 کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کا ذہن بنایا گیا تھا انہی کو لیا گیا۔ پی سی بی ان دنوں عمر امین پر بڑا مہربان ہے، نجانے انکی ایسی کون سی صلاحیت ارباب اختیار نے دیکھ لی کہ خوب پروموٹ کیا جا رہا ہے، اظہر علی، فیصل اور اسد جیسے سینئرز کی موجودگی میں انھیں اے ٹیم کاکپتان بنایا گیا پھر 12رکنی ٹیم میں بھی آگئے، ہو سکتا ہے کہ وہ واقعی اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہوں لیکن پاکستان کرکٹ میں کوئی کسی پر ایسے ہی مہربان نہیں ہوتا، حقیقت کیا ہے یہ جاننے کے لیے کچھ انتظار کرنا پڑیگا۔
3برس قبل یو اے ای میں پاکستان نے پروٹیز سے مقابلے کے لیے بیٹنگ کے لیے انتہائی سازگار وکٹیں تیار کرائیں جس کا نتیجہ ڈرا کی صورت میں سامنے آیا۔ ابوظہبی کے دوسرے ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 1374رنز بنے اور 27وکٹیں گریں، یوں ایک پلیئر کا اوسط اسکور تقریباً51رنز رہا۔ ابراہم ڈی ویلیئرز نے ناقابل شکست 274رنز بنائے تھے، اس سے قبل پہلے میچ میں بھی خوب رنز اسکور ہوئے تھے۔ اس بار بھی وارم اپ میچز سے اندازہ ہو گیا کہ سیدھی پچز بنائی گئی ہیں، یوں بیٹسمینوں کو رنز کے انبار لگانے کا موقع ملے گا، البتہ زمبابوے میں خراب کارکردگی کے سبب پاکستانی بیٹسمین دباؤ میں ہونگے۔
ایسے میں مصباح اور یونس کو ذمے داری سنبھالنا ہو گی، بولنگ میں اسپنر سعید اجمل پر بہت زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے، پروٹیز کے بارے میں پہلے مشہور تھا کہ وہ اسپنرز کو اچھا نہیں کھیلتے مگر اب ایسا نہیں رہا ورنہ وہ ٹیسٹ نمبر ون ٹیم کیسے بنتے۔ پاکستانی ٹیم کا ایک مسئلہ فاسٹ بولرز کا بھی ہے، عرفان کی فٹنس پر خود کوچ واٹمور سوال اٹھا چکے اور اب انھیں منتخب بھی کر لیا، جنید خان اور راحت علی تاحال تسلسل سے پرفارم نہیں کر سکے۔ایسے میں تمام تر بوجھ اسپنر سعید اجمل پر ہو گا جو کوئی اچھی علامت نہیں۔ پروٹیز نے ان کیخلاف یقینا کوئی منصوبہ تو بنایا ہو گا جو اگر کامیاب ہو گیا تو پاکستانی ٹیم کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عالمی نمبر ون جنوبی افریقہ کی صورت میں سخت چیلنج اس کا منتظر ہے۔ چند ماہ قبل ہی پروٹیز نے اپنی سرزمین پر گرین کیپس کا جو حال کیا وہ سب ہی کو یاد ہو گا جب تینوں ٹیسٹ میں بدترین ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، وہاں تو خیر پچز تیز تھیں مگر اب یو اے ای کی مختلف کنڈیشنز میں مقابلہ ٹکر کا ہونے کا امکان ہے، ہمیشہ کی طرح میزبان سائیڈ کو ایک بار پھر پریشانیوں کا سامنا ہے، اندرونی سیاست اور پسند ناپسند کے چکر میں جو کھیل کھیلے گئے وہ ٹیم کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
سب سے پہلے آؤٹ آف فارم حفیظ کو اسکواڈ میں برقرار رکھنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا، ان کے لیے میدان صاف کرنے کا سوچ کر ابتدائی اعلان شدہ 12 پلیئرز میں صرف ایک اوپنر خرم منظور کو رکھا گیا، عمران فرحت اور توفیق عمر بہت بڑے پلیئرز نہیں لیکن طویل عرصے سے ٹیم کے ساتھ ہیں، انھیں مستقبل کے لیے ٹیم کی تیاری کا کہہ کر منتخب نہیں کیا گیا۔ اگر یہ منطق مان لیں تو اس ٹیم میں شامل یونس خان، مصباح الحق، سعید اجمل،ذوالفقار بابر اور عبدالرحمان بھی کون سے نوجوان کھلاڑی ہیں۔
اسی طرح اگر کسی ینگسٹر کو ترجیح دینی تھی تو پھر شان مسعود کو کیوں سہ روزہ میچ کی صورت میں ٹرائل دینے پر مجبور کیا گیا، وہ تو زمبابوے کی سیر کر کے ہی واپس آئے تھے، ایسے میں اصولی طور پر حفیظ کی جگہ ان کو ٹیم میں پہلے ہی رکھ لینا چاہیے تھا، اصل منصوبہ ٹی ٹوئنٹی قائد کو اسکواڈ میں برقرار رکھنے کا تھا لیکن میڈیا میں تمام باتیں آنے کے بعد انھیں ڈراپ کرنے کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا، اس سے کپتان مصباح الحق کی قوت آدھی ہو چکی اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ مزید چند خراب نتائج ان کیلئے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔
مصباح سے کپتانی ویسے بھی چھنتے چھنتے بچی ہے۔ نگران چیئرمین نجم سیٹھی کے قریبی لوگ بخوبی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ وہ انھیں ہٹانے کا فیصلہ کر چکے تھے مگر پھر انھیں کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں، توہین عدالت کا معاملہ ہو سکتا ہے، یوں بادل نخواستہ انھیں مصباح کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ سلیکٹرز نے یونس خان کو ون ڈے اور ٹیسٹ میں قیادت سونپنے کی بات کی تھی مگر مخصوص مزاج کے حامل بیٹسمین کو سمجھانا بھی ایک بڑا مسئلہ تھا، یوں معاملہ التوا کا شکارہو گیا، ویسے یہ بات ماننے کی ہے کہ اسکواڈ سے بڑی خوبصورتی سے فیصل اقبال کو باہر کیا گیا، گذشتہ کئی سیریز میں کھیلنے کا موقع نہ پانے والے بیٹسمین کو ''ٹرائل میچ'' کی سولی پر لٹکایا گیا، وہاں 10 رنز پر آؤٹ ہونے سے ان کی ساری ڈومیسٹک کرکٹ کی کارکردگی ملیامیٹ ہو گئی اور سلیکٹرز کو ڈراپ کرنے کا موقع مل گیا۔
یہ وہ فیصلہ تھا جو وہ فیصل کے ماموں جاوید میانداد کے ڈی جی پی سی بی ہونے کی وجہ سے نہیں کر پا رہے تھے، اب بیٹسمین کو دوبارہ صفر سے آغاز کرنا پڑے گا لیکن جس طرح ایک مخصوص لابی ان کیخلاف ہے واپسی کا سفر اتنا آسان نہ ہو گا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب 12رکنی اسکواڈ میں صرف ایک اوپنر تھا تو سہ روزہ میچ سے مزید 2 اوپنرز کا انتخاب تو ہونا ہی تھا ایسے میں ایک واحد جگہ بچی جس کیلئے فیصل ، اسد شفیق اور صہیب مقصود کا مقابلہ تھا۔
اسد گذشتہ کئی اننگز میں ناکامی کے باوجود 42 رنز بنا کر منتخب ہو گئے، ایسا لگتا تھا کہ صہیب کو سلیکٹ ہی نہیں کرنا تھا ورنہ جب وہ 34 پر ناٹ آؤٹ تھے تو اننگز ڈکلیئر نہ کی جاتی۔صہیب کے 60،70رنز اسد کو مشکل میں ڈال سکتے تھے لہٰذا ایسی نوبت ہی نہ آنے دی گئی۔ یوں پہلے سے جن 3 کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کا ذہن بنایا گیا تھا انہی کو لیا گیا۔ پی سی بی ان دنوں عمر امین پر بڑا مہربان ہے، نجانے انکی ایسی کون سی صلاحیت ارباب اختیار نے دیکھ لی کہ خوب پروموٹ کیا جا رہا ہے، اظہر علی، فیصل اور اسد جیسے سینئرز کی موجودگی میں انھیں اے ٹیم کاکپتان بنایا گیا پھر 12رکنی ٹیم میں بھی آگئے، ہو سکتا ہے کہ وہ واقعی اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہوں لیکن پاکستان کرکٹ میں کوئی کسی پر ایسے ہی مہربان نہیں ہوتا، حقیقت کیا ہے یہ جاننے کے لیے کچھ انتظار کرنا پڑیگا۔
3برس قبل یو اے ای میں پاکستان نے پروٹیز سے مقابلے کے لیے بیٹنگ کے لیے انتہائی سازگار وکٹیں تیار کرائیں جس کا نتیجہ ڈرا کی صورت میں سامنے آیا۔ ابوظہبی کے دوسرے ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 1374رنز بنے اور 27وکٹیں گریں، یوں ایک پلیئر کا اوسط اسکور تقریباً51رنز رہا۔ ابراہم ڈی ویلیئرز نے ناقابل شکست 274رنز بنائے تھے، اس سے قبل پہلے میچ میں بھی خوب رنز اسکور ہوئے تھے۔ اس بار بھی وارم اپ میچز سے اندازہ ہو گیا کہ سیدھی پچز بنائی گئی ہیں، یوں بیٹسمینوں کو رنز کے انبار لگانے کا موقع ملے گا، البتہ زمبابوے میں خراب کارکردگی کے سبب پاکستانی بیٹسمین دباؤ میں ہونگے۔
ایسے میں مصباح اور یونس کو ذمے داری سنبھالنا ہو گی، بولنگ میں اسپنر سعید اجمل پر بہت زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے، پروٹیز کے بارے میں پہلے مشہور تھا کہ وہ اسپنرز کو اچھا نہیں کھیلتے مگر اب ایسا نہیں رہا ورنہ وہ ٹیسٹ نمبر ون ٹیم کیسے بنتے۔ پاکستانی ٹیم کا ایک مسئلہ فاسٹ بولرز کا بھی ہے، عرفان کی فٹنس پر خود کوچ واٹمور سوال اٹھا چکے اور اب انھیں منتخب بھی کر لیا، جنید خان اور راحت علی تاحال تسلسل سے پرفارم نہیں کر سکے۔ایسے میں تمام تر بوجھ اسپنر سعید اجمل پر ہو گا جو کوئی اچھی علامت نہیں۔ پروٹیز نے ان کیخلاف یقینا کوئی منصوبہ تو بنایا ہو گا جو اگر کامیاب ہو گیا تو پاکستانی ٹیم کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔