بلیک وارنٹ کے اجرا پر پھانسی کے قیدی کراچی منتقل کردینگے آئی جی جیل

سزائے موت کے قیدیوں کی سکھر منتقلی کیخلاف درخواستوں پر عدالت عالیہ میں پیشی۔

اعظم اور عطااللہ کو ڈاکٹر رضا کے قتل پر سزائے موت دی گئی،اپیلیں مسترد ہوچکی ہیں فوٹو : فائل

پھانسی کے منتظر کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں اعظم اور عطا اللہ کو بلیک وارنٹ جاری ہونے پر15دن میں سکھر سے سینٹرل جیل کراچی منتقل کردیا جائے گا۔

تاکہ انھیں پھانسی دی جاسکے، یہ بات آئی جی جیل خانہ جات نے سندھ ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر کہی جہاں دونوں قیدیوں کو کراچی سے سکھر جیل منتقل کرنے کے خلاف درخواستیں دائر ہیں، جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی،مسمات زہرا بی بی اور مسمات صائمہ کی جانب سے دائر درخواستوں میں کہاگیا ہے کہ اعظم اور عطا اللہ کو 2001 میں ڈاکٹر رضا کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی، بعدازاں عدالت عالیہ اور سپریم کورٹ نے بھی سزابرقرار رکھی ، دونوں قیدیوں کے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیے گئے تھے۔




مگر صدارتی حکم کے تحت سزا روک دی گئی ،جیل انتظامیہ نے کسی ٹھوس وجہ کے بغیر ان قیدیوں کو سکھر جیل منتقل کردیا، جس کے بعد ان کے اہل خانہ کو بھی ان سے ملاقات میں دشواری کا سامنا ہے، دوونوں کو کراچی منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، سماعت کے موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں آئی جی جیل خانہ جات کا بیان پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث دونوں قیدیوں کو سکھر منتقل کیا گیا ہے تاہم اعظم اور عطا اللہ کوبلیک وارنٹ جاری ہونے پر15دن میں سکھر سے سینٹرل جیل کراچی منتقل کردیا جائے گا تاکہ انھیں پھانسی دی جاسکے، سرکاری موقف آنے کے بعد فاضل عدالت نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے درخواستیں نمٹادیں۔
Load Next Story