اردو کا مستقبل روشن ہےایکسپریس کی عالمی اردو کانفرنس
پاکستان میں لسانیات کے حوالے سے الگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کی ضرورت ہے، ڈیوڈ میتھیوز، تاش مرزا، عطش درانی ، خلیل توقار
ایکسپریس میڈیا گروپ کے زیر اہتمام لاہور میں دوسری عالمی اردوکانفرنس میں شریک مہمان اسٹیج پر موجود ہیں ۔فوٹو : ایکسپریس
اردو کا مستقبل روشن ہے، رسم الخط میں تبدیلی کی گنجائش نہیں، لسانیات کے حوالے سے الگ ادارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
میڈیا اردو زبان کو عام فہم بنائے۔ ان خیالات کا اظہار دنیا بھر سے آئے نامور ادیبوں، شاعروں اور محققین نے ہفتے کوایکسپریس میڈیا گروپ کے زیراہتمام یہاں دوسری 2 روزہ عالمی اردو کانفرنس کے پہلے روز مختلف سیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقامی ہوٹل میں شروع ہونیوالی کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ برطانیہ، ترکی، چین، روس، بھارت اور بنگلہ دیش سے آئے مہمان شرکت کر رہے ہیں، پہلے روز 3 سیشن ہوئے جن میں اردو زبان، اس کے مسائل اور حل کے حوالے سے اہم ترین موضوعات پر پرمغز گفتگو ہوئی اور مقالے پیش کیے گئے۔
استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے روزنامہ ایکسپریس کے میگزین ایڈیٹر، معروف شاعر، دانشور اور کانفرنس کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اہم رکن احفاظ الرحمٰن نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اردو ادب پڑھنے کی رفتار بہت کم ہوگئی ہے، بیشتر مواقع پر لکھنے والے کو خود اپنے اخراجات پر کتاب شائع کرنا پڑتی ہے، ان حالات میں اردو زبان کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ انھوں نے کہا برطانوی محقق اور اردو زبان کے معروف استاد ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز کو اس کانفرنس میں شرکت کیلیے ویزے کے حصول کے لیے لندن میں پاکستانی ہائی کمشن کے دفتر کا 7 مرتبہ چکر لگانا پڑا۔
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کی اس معاملے میں کتنی دلچسپی ہے۔ ''اردو رسم الخط کے مسائل '' کے موضوع پر پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز نے کی اور اس سے ڈاکٹر تاش مرزا، ڈاکٹر عطش درانی ، ڈاکٹر خلیل توقار اور ڈاکٹر محمودالاسلام نے خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر محمدکامران نے نظامت کی۔ ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز نے کہاکہ اردو رسم الخط خوبصورت اور نستعلیق رسم الخط ہے جسے محفوظ رہنا چاہیے۔ پاکستان اور بھارت میں اردو کا مستقبل روشن ہے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر تاش مرزا نے کہا کہ پاکستان میں لسانیات کے حوالے سے ایک الگ سے انسٹیٹیوٹ کی ضرورت ہیکیونکہ کوئی بڑا ادارہ ہی اردوزبان کی ترقی اور بقا کیلیے کام کر سکتا ہے۔ عطش درانی نے کہاکہ اردو زبان و ادب اگلے 50 برس کیلیے ہے، اس کے بعد کچھ نہیں ہوگا۔ جب حرف ہی نہیں ہوگا تو زبان کیا ہوگی۔
اس لیے اسے محض ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی بچایا جاسکے گا۔ ہم غلا م ذہنیت رکھنے والے لوگ ہیں، ہم ایس ایم ایس بھی اردو رسم الخط میں نہیں بھیج سکتے۔ پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں اردو زبان کاکوئی شعبہ نہیں، سب اردو ادب کے شعبے ہیں۔ ڈاکٹر خلیل توقار نے کہاکہ رسم الخط اور زبان کا آپس میں گہرا رشتہ ہے جسے توڑنے سے بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ اردو رسم الخط میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ محمودالاسلام نے کہاکہ زبان اگر روح تو رسم الخط جسم ہے، اس لیے انھیں الگ نہیں کیاجاسکتا۔'' دیگرپاکستانی زبانوں سے اردو کی ہم آہنگی '' کے موضوع پر سیشن کی صدارت عبداﷲ حسین نے کی۔ مقررین میں ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر نجیب جمال اور ڈاکٹر نجیبہ عارف شامل تھے۔ انھوں نے کہا اگر ہم اردو زبان کا نفاذ نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کا نفوذ ضرور کیا جائے۔
اردو زبان کیلیے حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نجیبہ عارف نے کہا ہم نے اردو میں پڑھا،اردو میں لکھا، اردو میں سوچا اور اردو میں محبت کی اور اردو سے محبت کی۔ اگر اردو نہ ہوتی تو ہم کس طرح ایک دوسرے سے بات کرتے ۔ اردو ہماری کامیابی کی ضمانت ہے، انگریزی کلچر آنے کے باوجود ہمارے بچے اردو بولتے ہیں تاہم اس کا لہجہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ نجیب جمال نے کہا کہ اردو کو پاکستان میں مادری زبان کے طور پر بولنے والے چند کروڑ ہیں لیکن یہ پورے جنوبی ایشیاء کی زبان ہے۔ اردو زبان نے ساری زبانوں میں حصہ ڈالا ہے ،جتنی بھی مخلوط زبانیں ہیں ان میں اردو کے الفاظ موجود ہیں۔ اسکولوں میں اردو کو رائج کریں اور لازمی قراردیں۔ ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ اردو کی وجہ سے پاکستانی قوم میں محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے۔
ایک انگریزی نیوز چینل نے خود کو اردو میں تبدیل کیا کیونکہ عوام اردو کو پسند کرتے ہیں لیکن پالیسی سازوں کی آنکھیں نہیں کھلیں۔ خواجہ محمد ذکریا نے کہا کہہر علاقے میں علاقائی زبان اور قومی زبان دونوں کو پڑھایا جانا چاہیے، یہ ایک مشکل کام ہے تاہم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس سے بہتری ہوگی۔ پاکستان میں اب اردو کا نیا لہجہ بنتا جارہا ہے اور یہ مقامی زبانوں کے اشتراک سے بن رہا ہے۔ انگریزی ان زبانوں پر بہت اثر ڈال رہی ہے، اردو کی گنتی غائب ہوتی جا رہی ہے کیونکہ یہ مشکل ہے۔ عبداﷲ حسین نے کہا کہ ہماری5 بڑی زبانیں ہیں، جب میں نے اپنی پہلی کتاب لکھی تو لوگوں نے مجھے کہا کہ اس کو کتاب لکھنے سے پہلے اپنی اردو ٹھیک کرنی چاہیے۔ ہمیں اردو زبان کے لیے بہت کچھ کرنا ہے ۔
اس طرح کی کانفرنسوں کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اس حوالے سے کام کرنا ہوگا۔ تیسرے سیشن کا موضوع ''عام فہم زبان (میڈیا اور اردو )'' تھا جس کی صدارت ڈاکٹر شمیم حنفی نے کی۔ مقررین میں اشفاق حسین، ڈاکٹر تانگ منگ شنگ، ڈاکٹر شاہ محمد مری اور پروفیسر سحر انصاری شامل تھے۔ انھوں نے کہا اردو کو عام فہم بنانے کی ذمے داری میڈیا پر عائد ہوتی ہے، میڈیا کو آسان فہم زبان استعمال کرنی چاہیے۔ پروفیسر ڈاکٹر شمیم حنفی نے کہاکہ کسی بھی منافق معاشرے میں پہلا حملہ زبان پر ہوتا ہے۔ جارج آرول کے مطابق زبان اس وقت خراب ہوتی ہے جب وہ اظہارکے ذریعے کے بجائے اخفاء کا ذریعہ بن جائے۔ اردو 19ویں صدی میں بگڑنی شروع ہوئی۔ اصلاح کے نام پر ہم نے زبان کو بگاڑا ہے۔
متروکات کے نام پر ہم نے کتنے اچھے اچھے لفظ کھو دیے۔ انقلاب کا لفظ سننے پر دل کی دھڑکن تیز ہوجایا کرتی تھی لیکن اب اسکی جگہ ریوولیوشن کا لفظ استعمال ہورہا ہے۔ اردو کی رگوں میں پنجابی کا خون دوڑانے کی ضرورت ہے۔ اردو میں ہم پرتگیزی اور اطالوی زبانوں کے الفاظ تو بڑے فخر سے استعمال کرتے ہیں لیکن اگر کوئی پنجابی کا لفظ استعمال کرتا تو لوگوں کی شکنوں پر غصے سے بل پڑجاتے۔ گلوبلائزیشن کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیاں حاوی ہو رہی ہیں۔ زبان، تعلیم اور ادب کی سب سے بڑی دشمن سائنس ہے۔ اشفاق حسین نے کہاکہ کسی بھی بات کا آسانی کے ساتھ پہنچا دینا سلیس زبان کی پہلی شرط ہے۔ اردو کی پچھلی پیڑیوں کیلیے جو الفاظ اور محاورے آسان تھے ممکن ہے نئی نسل کو ان محاوروں کو سمجھنے کیلیے زیادہ آسانیاں نہ ہوں۔ ذرائع ابلاغ کی بجائے آج بھی لفظ میڈیا استعمال کیا گیا ہے تو کیا ہم اپنی صحافتی لغت سے ذرائع ابلاغ کا لفظ یکسر نکال دیں۔ آسان سے آسان لفظ بھی ایک عرصے تک بولانہ جائے تو وہی لفظ اگلی نسل کیلیے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر تانگ منگ شنگ نے کہاکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ چین میں اردو کو کس طرح پڑھانا ہے۔ پاکستان میں آکر جب ہم اردو بولتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ کتابی اردو بول رہے ہیں۔ ایک پاکستانی ایمبیسڈر نے مجھے کہاکہ اردو بولنے میں مجھے شرم آتی ہے۔ میں نے ایک کتاب کا اردو ترجمہ کیا ہے جسے پاکستانی دوست پھینک دیتے ہیں اور مجھ سے انگریزی کتاب لے لیتے ہیں۔ اقتصادی مسئلہ حل ہونے سے زبان کا مسئلہ خود بخود حل ہوجائے گا۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کہا زبانیں اگر خالص ہونے لگیں تو تہذیبوں کی موت کو کوئی شیکسپیئر بھی روک نہیں سکے گا۔ پنجابی، شینہ ، بلوچی علاقائی زبانیں نہیں بلکہ قومی زبانیں ہیں، انھیں علاقائی زبانیں نہیں کہنا چاہیے۔ انھوں نے کہاکہ زبان کو سہل صرف جون جولائی میں کپاس چنتی سندھنی ہی گاکر سہل بناسکتی ہے۔
اردو کو سرکاری زبان کہیں یا نہ کہیں ، یہ اقتدار کی زبان ہے۔ اردو کو عام فہم ہونا بھی نہیں چاہیے۔ ایک خدا ، ایک رسول اور ایک قرآن تو ٹھیک ہے لیکن ایک زبان والا فلسفہ ہی غلط ہے۔ عربی عبرانی سمیت دنیا میں کسی زبان کو کسی مذہب سے جوڑا نہیں جا سکتا۔اردو کے ساتھ ایک اور مسئلہ رہا کہ مڈل کلاس کی زبان رہی جو سارے کے سارے قدامتی بن کر رہ گئے ہیں۔ بہت کم بلوچوں نے اپنے خیالات کے اظہار کیلیے اردو کو ذریعہ بنایا۔ پروفیسر سحر انصاری نے کہاکہ ذرائع ابلاغ کو ثقافتی صنعت بھی کہا گیا ہے۔ معاشرے سے جب کوئی تعلق ہوتا ہے تو سماجی اقدار اور ادارے ہوتے ہیں جو کچھ اخلاقی پیمانے بناتے ہیں جس سے کہا جاتا ہے کہ ہماری آزادی پر قدغن لگ رہی ہے۔ زبان کا معیار ایک جیسا نہیں ہوتا اور ایک رخ بھی نہیں ہے اسی طرح زبان کوئی ایک شخس یا گروہ نہیں بناتا۔
اہل زبان کا تصور بھی غلط ہے۔ اردو میں جو لفظ بھی جس طرح بھی شامل ہوگیا وہ اردو کا ہے۔ جو لفظ رواج پاگئے انھیںختم نہیں کرنا چاہیے جیسے ادائی کی جگہ ادائیگی چل رہا ہے۔ استصواب رائے کی جگہ ریفرنڈم کا لفظ ہی اردو میں آگیا تو بہتر ہے اسکے خلاف نہیں بولنا چاہیے۔ آخر میں رات کو بین الاقوامی شہرت یافتہ ستار نواز استاد رئیس خان نے ستار پر پرفارم کیا اور خوب داد سمیٹی۔ آج (اتوار کو)کانفرنس کا دوسرا اور آخری روز ہے، آج بھی3 سیشن ہوں گے۔ پہلاسیشن ''اردو پر دیگر زبانوں کے اثرات ''کے موضوع پر ہوگا۔ صدارت ڈاکٹر لڈمیلا واسیلیوا کریں گی۔ مقررین میں ڈاکٹر فخرالحق نوری، ڈاکٹر نعمان الحق، ڈاکٹر آٓصف فرخی، ڈاکٹر شاداب احسانی اور عطیہ سید شامل ہیں۔ دوسرا سیشن دوپہر 12 بجے ''پاکستانی معاشرے کا خلفشار اور ادیب کا کردار ''کے موضوع پر ہو گا، صدارت ڈاکٹر سلیم اختر کریں گے۔ مقررین میں اسد محمد خان، مسعود مفتی، مستنصر حسین تارڑ، مسعود اشعر، زاہدہ حنا اور سلیم راز شامل ہیں۔ تیسرے سیشن کا موضوع ''بھارت میں اردو '' ہے اور یہ سہ پہر تین بجے شروع ہوگا۔
صدارت انتظار حسین کریں گے۔ مقررین میں شمیم حنفی، زبیر رضوی، اصغر ندیم سید، ڈاکٹر ناصر عباس نیر شامل ہیں۔کانفرنس کے اختتامی کلمات احفاظ الرحمان ادا کریں گے۔ کانفرنس کے آخر میں رات 8بجے مشاعرہ ہوگا جس کی صدارت بزرگ شاعر ظفر اقبال کریں گے۔ شعراء میں انور مسعود، زہرہ نگاہ ، زبیر رضوی، افتخار عارف، کشور ناہید، سحر انصاری، خورشید رضوی، پیرزادہ قاسم، انورشعور، فہمیدہ ریاض، امجد اسلام امجد، چانگ شی شوان، اسد محمد خان، سرمد صہبائی، عطاء الحق قاسمی، شاہدہ حسن، خوشبیر سنگھ شاد، نجیب احمد، ایوب خاور، اشفاق حسین، عباس تابش، یاسمین حمید، لیاقت علی عاصم، صابر ظفر، سورج نارائن، محسن چنگیزی، جاوید صبا اور سعود عثمانی شامل ہیں ۔
میڈیا اردو زبان کو عام فہم بنائے۔ ان خیالات کا اظہار دنیا بھر سے آئے نامور ادیبوں، شاعروں اور محققین نے ہفتے کوایکسپریس میڈیا گروپ کے زیراہتمام یہاں دوسری 2 روزہ عالمی اردو کانفرنس کے پہلے روز مختلف سیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقامی ہوٹل میں شروع ہونیوالی کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ برطانیہ، ترکی، چین، روس، بھارت اور بنگلہ دیش سے آئے مہمان شرکت کر رہے ہیں، پہلے روز 3 سیشن ہوئے جن میں اردو زبان، اس کے مسائل اور حل کے حوالے سے اہم ترین موضوعات پر پرمغز گفتگو ہوئی اور مقالے پیش کیے گئے۔
استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے روزنامہ ایکسپریس کے میگزین ایڈیٹر، معروف شاعر، دانشور اور کانفرنس کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اہم رکن احفاظ الرحمٰن نے معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اردو ادب پڑھنے کی رفتار بہت کم ہوگئی ہے، بیشتر مواقع پر لکھنے والے کو خود اپنے اخراجات پر کتاب شائع کرنا پڑتی ہے، ان حالات میں اردو زبان کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ انھوں نے کہا برطانوی محقق اور اردو زبان کے معروف استاد ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز کو اس کانفرنس میں شرکت کیلیے ویزے کے حصول کے لیے لندن میں پاکستانی ہائی کمشن کے دفتر کا 7 مرتبہ چکر لگانا پڑا۔
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کی اس معاملے میں کتنی دلچسپی ہے۔ ''اردو رسم الخط کے مسائل '' کے موضوع پر پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز نے کی اور اس سے ڈاکٹر تاش مرزا، ڈاکٹر عطش درانی ، ڈاکٹر خلیل توقار اور ڈاکٹر محمودالاسلام نے خطاب کیا جبکہ ڈاکٹر محمدکامران نے نظامت کی۔ ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز نے کہاکہ اردو رسم الخط خوبصورت اور نستعلیق رسم الخط ہے جسے محفوظ رہنا چاہیے۔ پاکستان اور بھارت میں اردو کا مستقبل روشن ہے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر تاش مرزا نے کہا کہ پاکستان میں لسانیات کے حوالے سے ایک الگ سے انسٹیٹیوٹ کی ضرورت ہیکیونکہ کوئی بڑا ادارہ ہی اردوزبان کی ترقی اور بقا کیلیے کام کر سکتا ہے۔ عطش درانی نے کہاکہ اردو زبان و ادب اگلے 50 برس کیلیے ہے، اس کے بعد کچھ نہیں ہوگا۔ جب حرف ہی نہیں ہوگا تو زبان کیا ہوگی۔
اس لیے اسے محض ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی بچایا جاسکے گا۔ ہم غلا م ذہنیت رکھنے والے لوگ ہیں، ہم ایس ایم ایس بھی اردو رسم الخط میں نہیں بھیج سکتے۔ پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں اردو زبان کاکوئی شعبہ نہیں، سب اردو ادب کے شعبے ہیں۔ ڈاکٹر خلیل توقار نے کہاکہ رسم الخط اور زبان کا آپس میں گہرا رشتہ ہے جسے توڑنے سے بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ اردو رسم الخط میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ محمودالاسلام نے کہاکہ زبان اگر روح تو رسم الخط جسم ہے، اس لیے انھیں الگ نہیں کیاجاسکتا۔'' دیگرپاکستانی زبانوں سے اردو کی ہم آہنگی '' کے موضوع پر سیشن کی صدارت عبداﷲ حسین نے کی۔ مقررین میں ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا، ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر نجیب جمال اور ڈاکٹر نجیبہ عارف شامل تھے۔ انھوں نے کہا اگر ہم اردو زبان کا نفاذ نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کا نفوذ ضرور کیا جائے۔
اردو زبان کیلیے حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نجیبہ عارف نے کہا ہم نے اردو میں پڑھا،اردو میں لکھا، اردو میں سوچا اور اردو میں محبت کی اور اردو سے محبت کی۔ اگر اردو نہ ہوتی تو ہم کس طرح ایک دوسرے سے بات کرتے ۔ اردو ہماری کامیابی کی ضمانت ہے، انگریزی کلچر آنے کے باوجود ہمارے بچے اردو بولتے ہیں تاہم اس کا لہجہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ نجیب جمال نے کہا کہ اردو کو پاکستان میں مادری زبان کے طور پر بولنے والے چند کروڑ ہیں لیکن یہ پورے جنوبی ایشیاء کی زبان ہے۔ اردو زبان نے ساری زبانوں میں حصہ ڈالا ہے ،جتنی بھی مخلوط زبانیں ہیں ان میں اردو کے الفاظ موجود ہیں۔ اسکولوں میں اردو کو رائج کریں اور لازمی قراردیں۔ ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ اردو کی وجہ سے پاکستانی قوم میں محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے۔
ایک انگریزی نیوز چینل نے خود کو اردو میں تبدیل کیا کیونکہ عوام اردو کو پسند کرتے ہیں لیکن پالیسی سازوں کی آنکھیں نہیں کھلیں۔ خواجہ محمد ذکریا نے کہا کہہر علاقے میں علاقائی زبان اور قومی زبان دونوں کو پڑھایا جانا چاہیے، یہ ایک مشکل کام ہے تاہم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس سے بہتری ہوگی۔ پاکستان میں اب اردو کا نیا لہجہ بنتا جارہا ہے اور یہ مقامی زبانوں کے اشتراک سے بن رہا ہے۔ انگریزی ان زبانوں پر بہت اثر ڈال رہی ہے، اردو کی گنتی غائب ہوتی جا رہی ہے کیونکہ یہ مشکل ہے۔ عبداﷲ حسین نے کہا کہ ہماری5 بڑی زبانیں ہیں، جب میں نے اپنی پہلی کتاب لکھی تو لوگوں نے مجھے کہا کہ اس کو کتاب لکھنے سے پہلے اپنی اردو ٹھیک کرنی چاہیے۔ ہمیں اردو زبان کے لیے بہت کچھ کرنا ہے ۔
اس طرح کی کانفرنسوں کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اس حوالے سے کام کرنا ہوگا۔ تیسرے سیشن کا موضوع ''عام فہم زبان (میڈیا اور اردو )'' تھا جس کی صدارت ڈاکٹر شمیم حنفی نے کی۔ مقررین میں اشفاق حسین، ڈاکٹر تانگ منگ شنگ، ڈاکٹر شاہ محمد مری اور پروفیسر سحر انصاری شامل تھے۔ انھوں نے کہا اردو کو عام فہم بنانے کی ذمے داری میڈیا پر عائد ہوتی ہے، میڈیا کو آسان فہم زبان استعمال کرنی چاہیے۔ پروفیسر ڈاکٹر شمیم حنفی نے کہاکہ کسی بھی منافق معاشرے میں پہلا حملہ زبان پر ہوتا ہے۔ جارج آرول کے مطابق زبان اس وقت خراب ہوتی ہے جب وہ اظہارکے ذریعے کے بجائے اخفاء کا ذریعہ بن جائے۔ اردو 19ویں صدی میں بگڑنی شروع ہوئی۔ اصلاح کے نام پر ہم نے زبان کو بگاڑا ہے۔
متروکات کے نام پر ہم نے کتنے اچھے اچھے لفظ کھو دیے۔ انقلاب کا لفظ سننے پر دل کی دھڑکن تیز ہوجایا کرتی تھی لیکن اب اسکی جگہ ریوولیوشن کا لفظ استعمال ہورہا ہے۔ اردو کی رگوں میں پنجابی کا خون دوڑانے کی ضرورت ہے۔ اردو میں ہم پرتگیزی اور اطالوی زبانوں کے الفاظ تو بڑے فخر سے استعمال کرتے ہیں لیکن اگر کوئی پنجابی کا لفظ استعمال کرتا تو لوگوں کی شکنوں پر غصے سے بل پڑجاتے۔ گلوبلائزیشن کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیاں حاوی ہو رہی ہیں۔ زبان، تعلیم اور ادب کی سب سے بڑی دشمن سائنس ہے۔ اشفاق حسین نے کہاکہ کسی بھی بات کا آسانی کے ساتھ پہنچا دینا سلیس زبان کی پہلی شرط ہے۔ اردو کی پچھلی پیڑیوں کیلیے جو الفاظ اور محاورے آسان تھے ممکن ہے نئی نسل کو ان محاوروں کو سمجھنے کیلیے زیادہ آسانیاں نہ ہوں۔ ذرائع ابلاغ کی بجائے آج بھی لفظ میڈیا استعمال کیا گیا ہے تو کیا ہم اپنی صحافتی لغت سے ذرائع ابلاغ کا لفظ یکسر نکال دیں۔ آسان سے آسان لفظ بھی ایک عرصے تک بولانہ جائے تو وہی لفظ اگلی نسل کیلیے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر تانگ منگ شنگ نے کہاکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ چین میں اردو کو کس طرح پڑھانا ہے۔ پاکستان میں آکر جب ہم اردو بولتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ کتابی اردو بول رہے ہیں۔ ایک پاکستانی ایمبیسڈر نے مجھے کہاکہ اردو بولنے میں مجھے شرم آتی ہے۔ میں نے ایک کتاب کا اردو ترجمہ کیا ہے جسے پاکستانی دوست پھینک دیتے ہیں اور مجھ سے انگریزی کتاب لے لیتے ہیں۔ اقتصادی مسئلہ حل ہونے سے زبان کا مسئلہ خود بخود حل ہوجائے گا۔ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے کہا زبانیں اگر خالص ہونے لگیں تو تہذیبوں کی موت کو کوئی شیکسپیئر بھی روک نہیں سکے گا۔ پنجابی، شینہ ، بلوچی علاقائی زبانیں نہیں بلکہ قومی زبانیں ہیں، انھیں علاقائی زبانیں نہیں کہنا چاہیے۔ انھوں نے کہاکہ زبان کو سہل صرف جون جولائی میں کپاس چنتی سندھنی ہی گاکر سہل بناسکتی ہے۔
اردو کو سرکاری زبان کہیں یا نہ کہیں ، یہ اقتدار کی زبان ہے۔ اردو کو عام فہم ہونا بھی نہیں چاہیے۔ ایک خدا ، ایک رسول اور ایک قرآن تو ٹھیک ہے لیکن ایک زبان والا فلسفہ ہی غلط ہے۔ عربی عبرانی سمیت دنیا میں کسی زبان کو کسی مذہب سے جوڑا نہیں جا سکتا۔اردو کے ساتھ ایک اور مسئلہ رہا کہ مڈل کلاس کی زبان رہی جو سارے کے سارے قدامتی بن کر رہ گئے ہیں۔ بہت کم بلوچوں نے اپنے خیالات کے اظہار کیلیے اردو کو ذریعہ بنایا۔ پروفیسر سحر انصاری نے کہاکہ ذرائع ابلاغ کو ثقافتی صنعت بھی کہا گیا ہے۔ معاشرے سے جب کوئی تعلق ہوتا ہے تو سماجی اقدار اور ادارے ہوتے ہیں جو کچھ اخلاقی پیمانے بناتے ہیں جس سے کہا جاتا ہے کہ ہماری آزادی پر قدغن لگ رہی ہے۔ زبان کا معیار ایک جیسا نہیں ہوتا اور ایک رخ بھی نہیں ہے اسی طرح زبان کوئی ایک شخس یا گروہ نہیں بناتا۔
اہل زبان کا تصور بھی غلط ہے۔ اردو میں جو لفظ بھی جس طرح بھی شامل ہوگیا وہ اردو کا ہے۔ جو لفظ رواج پاگئے انھیںختم نہیں کرنا چاہیے جیسے ادائی کی جگہ ادائیگی چل رہا ہے۔ استصواب رائے کی جگہ ریفرنڈم کا لفظ ہی اردو میں آگیا تو بہتر ہے اسکے خلاف نہیں بولنا چاہیے۔ آخر میں رات کو بین الاقوامی شہرت یافتہ ستار نواز استاد رئیس خان نے ستار پر پرفارم کیا اور خوب داد سمیٹی۔ آج (اتوار کو)کانفرنس کا دوسرا اور آخری روز ہے، آج بھی3 سیشن ہوں گے۔ پہلاسیشن ''اردو پر دیگر زبانوں کے اثرات ''کے موضوع پر ہوگا۔ صدارت ڈاکٹر لڈمیلا واسیلیوا کریں گی۔ مقررین میں ڈاکٹر فخرالحق نوری، ڈاکٹر نعمان الحق، ڈاکٹر آٓصف فرخی، ڈاکٹر شاداب احسانی اور عطیہ سید شامل ہیں۔ دوسرا سیشن دوپہر 12 بجے ''پاکستانی معاشرے کا خلفشار اور ادیب کا کردار ''کے موضوع پر ہو گا، صدارت ڈاکٹر سلیم اختر کریں گے۔ مقررین میں اسد محمد خان، مسعود مفتی، مستنصر حسین تارڑ، مسعود اشعر، زاہدہ حنا اور سلیم راز شامل ہیں۔ تیسرے سیشن کا موضوع ''بھارت میں اردو '' ہے اور یہ سہ پہر تین بجے شروع ہوگا۔
صدارت انتظار حسین کریں گے۔ مقررین میں شمیم حنفی، زبیر رضوی، اصغر ندیم سید، ڈاکٹر ناصر عباس نیر شامل ہیں۔کانفرنس کے اختتامی کلمات احفاظ الرحمان ادا کریں گے۔ کانفرنس کے آخر میں رات 8بجے مشاعرہ ہوگا جس کی صدارت بزرگ شاعر ظفر اقبال کریں گے۔ شعراء میں انور مسعود، زہرہ نگاہ ، زبیر رضوی، افتخار عارف، کشور ناہید، سحر انصاری، خورشید رضوی، پیرزادہ قاسم، انورشعور، فہمیدہ ریاض، امجد اسلام امجد، چانگ شی شوان، اسد محمد خان، سرمد صہبائی، عطاء الحق قاسمی، شاہدہ حسن، خوشبیر سنگھ شاد، نجیب احمد، ایوب خاور، اشفاق حسین، عباس تابش، یاسمین حمید، لیاقت علی عاصم، صابر ظفر، سورج نارائن، محسن چنگیزی، جاوید صبا اور سعود عثمانی شامل ہیں ۔