واجبات کی عدم ادائیگی عباسی شہید سمیت 4 اسپتالوں کی گیس منقطع

عباسی شہید اسپتال پر2کروڑ،سندھ گورنمنٹ اسپتال پر40لاکھ،سروسز اسپتال پر 21 لاکھ 56ہزارروپے واجب الادا ہیں

عباسی شہید اسپتال پر2کروڑ،سندھ گورنمنٹ اسپتال پر40لاکھ،سروسز اسپتال پر 21 لاکھ 56ہزارروپے واجب الادا ہیں فوٹوفائل

سوئی سدرن گیس نے بڑے نا دہندگان سرکاری اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا۔

ایس ایس جی سی نے گزشتہ روز عباسی شہید اسپتال، سندھ گورنمنٹ اسپتال نارتھ ناظم آباد، سول سرجن سروسز اسپتال کراچی کے ٹراما سینٹر ودیگر سرکاری نادہندگان اداروں کی گیس سپلائی منقطع کردی۔

ایس ایس جی سی کے ترجمان نے کہا کہ عباسی شہید اسپتال کئی سالوں سے قابلِ ادا واجبات جو کہ دو کروڑ روپوں سے زائدہے، جمع نہیں کرا رہا تھا جس کی بنا پر ایس ایس جی سی نے اْ ن کی گیس سپلائی منقطع کردی۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ عباسی شہید اسپتال کئی سال سے واجبات کی ادائیگی نہیں کر رہا تھا، 28 فروری 2017 کو جب گیس منقطع کی گئی تو کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور عباسی شہید کی انتظامیہ نے انڈر ٹیکنگ دی تھی جس میں لکھا گیا تھا کہ عباسی شہید اسپتال پرانی واجب الادا رقم میں سے 10لاکھ ماہانہ موجودہ بل کے ساتھ ادا کرتے رہیں گے۔

جس کے بعد عباسی شہید اسپتال کی گیس بحال کر دی گئی تھی، ترجمان نے مزید کہا کہ عباسی شہید اسپتال انتظامیہ اپنی دی گئی تحریری یقین دہانی کے باوجود ادائیگی نہیں کررہی ، ایس ایس جی سی ترجمان نے کہا کہ سوئی سدرن کی طرف سے گزشتہ کئی ماہ سے گیس منقطع کرنے کے نوٹسز بھیجے گئے اور باضابطہ کئی نشستیں بھی ہوئیں مگر ان کی طرف سے واجب الادا رقم ادا کرنے کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں مل رہا تھاجس کے بعد مجبوراً عباسی شہید ہسپتال کی گیس منقطع کردی گئی۔


ایس ایس جی سی کے عباسی شہید ہسپتال پرلگ بھگ 2کروڑ روپے واجب الادا ہیں، سندھ گورنمنٹ اسپتال نارتھ ناظم آبا پر 40 لاکھ،سول سرجن سروسز اسپتال پر 21 لاکھ 56ہزار اور سول اسپتال ٹراما سینٹر پر 20لاکھ 16ہزار کی رقم واجب الادا ہے،جن کی بنا پر گیس سپلائی منقطع کردی گئی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ایس ایس جی سی نادہندگان سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا،ان کے علاوہ مزید نادہندہ اداروں کی گیس منقطع کی جائے گی۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے سرکاری اسپتالوں کو گیس کی فراہمی منقطع کیے جانے کی وجہ سے ہزاروں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،سوئی سدرن گیس کمپنی نے بدھ کو کئی سرکاری اسپتالوں کو گیس کی فراہمی منقطع کردی ،جس کی وجہ سے اسپتال انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں۔

عباسی شہید اسپتال میں چائلڈ ایمرجنسی سینٹر، ٹراما کے آپریشن تھیٹر، آئی سی یو میں گیس بند ہونے سے مریضوںکی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں،انتظامیہ نے فوری طور پر ایل پی جی سلنڈرز کا بندوبست کرکے صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے بچالیا،انتظامی ذرائع نے بتایا کہ سرجیکل آئی سی یو اور ٹراما میں سرجری کے آلات کا جراثیم سے پاک ہونا ضروری ہے جس کے لیے اسپتال میں گیس سے چلنے والے اوون میں سرجری کے آلات کو اسٹرلائز کیا جاتا ہے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے اچانک گیس بند کیے جانے کی وجہ سے سرجری کے آلات کی اسٹرلائزیشن کا عمل متاثر ہونے کا خطرہ تھا،فوری طور پر ایل پی جی سلنڈرز کا انتظام کرکے گیس اوون کو ایل پی جی سے چلایا گیا تاکہ جراحی کے آلات کی اسٹرلائزیشن کے عمل میں کوئی خلل نہ پڑسکے،اسپتالوں میں گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے مریضوں کے بستروں کی چادریں غلاف اور لباس کی دھلائی کاکام بھی معطل ہوکر رہ گیا جس سے سرکاری اسپتالوں میں آلودگی پھیلنے کا خطرہ ہے زیادہ تر اسپتالوں میں ان ہاؤس لانڈری کی سہولت ہے۔

یومیہ بنیادوں پر مریضوں کے بستروں کی چادریں تکیے کے غلاف، مریضوں کے لباس تولیہ وغیرہ دھوئے جاتے ہیں ،لانڈری کی سہولت اسپتال میں صفائی کا ماحول قائم رکھنے اور جراثیم پھیلنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے، بالخصوص آپریشن کے بعد مریضوں کو انفیکشن سے بچانے کے لیے صاف ستھری چادروں اور لباس کی فراہمی انتہائی ضروری ہے،ادھر بڑے اسپتالوں میں نرسنگ اسٹاف کیلیے بھی مشکلات بڑھ گئی،اسپتالوں سے ملحقہ نرسنگ ہاسٹل میں رہائش رکھنے والی سیکڑوں نرسوں کو بھی گیس کی بندش کی وجہ سے روز مرہ امور کی انجام دہی بالخصوص کھانے پکانے ناشتہ کی تیاری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بیشتر نرسنگ اسٹاف نے ہوٹلوںسے ناشتہ کھانے کا بندوبست کیا۔

نرسنگ اسٹاف کا کہنا تھاکہ بازار کے کھانے کھانے سے خود انھیں بھی بیماری میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے،اسپتالوں میں داخل مریضوںکے تیمارداروں نے بھی گیس کی عدم دستیابی پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مریضوں اور ان کے ساتھ رہنے والے تیمارداروں کیلیے اسپتال کے وارڈز میں گیس کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور دودھ، چائے اور کھانا گرم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، مریضوں کے تیماردار قریبی ہوٹلوں سے کھانے گرم کروارہے ہیں،اسپتالوں کی گیس منقطع ہونے سے اسٹینڈ بائی جنریٹرز کا نظام بھی معطل ہوگیا ہے اور بجلی جانے کی صورت میں متواتر بجلی کی فراہمی کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔
Load Next Story