دہشت گردی کا خاتمہ قومی اتحاد سے ممکن ہے

دہشت گردی اسلامی تعلیمات اور نظریہ پاکستان کے منافی ہے، جنرل کیانی

یہ بہت بڑا چیلنج ہے اور قومی قیادت نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنایا ہے، جنرل کیانی۔ فوٹو: فائل

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ہفتے کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں مختلف کورسز کے کمیشن حاصل کرنے والے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اسلامی تعلیمات اور نظریہ پاکستان کے منافی ہے' یہ بہت بڑا چیلنج ہے اور قومی قیادت نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنایا ہے' فوج اس عمل کی حمایت کرتی ہے تاہم ضروری ہے کہ اس مسئلے کا حل پاکستان کی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے تلاش کیا جائے۔ اگر اس عمل کے ذریعے حل کی صورت نکلتی ہے تو پاک فوج کو سب سے زیادہ خوشی ہو گی۔ یہ عمل کن حدود میں رہ کر ہونا چاہیے اس کا تعین بھی قوم اور سیاسی قیادت ہی نے کرنا ہے۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی دہشت گردی کے حوالے سے پہلے بھی کئی بار اظہار خیال کر چکے ہیں۔ موجودہ حکومت نے عسکریت پسندوں سے مذاکرات کی جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے، فوج نے اس کی بھی حمایت کی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو دہشت گردی اور طالبان سے مذاکرات کے بارے میں جمہوری حکومت اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں۔ موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کے لیے طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ یہ بہت مشکل مرحلہ ہے جسے بہت سوچ بچار' تدبر اور حکمت عملی سے حل کرنا ہو گا۔ ان مذاکرات پر پاکستان کی سلامتی اور امن وامان کا دار و مدار ہے۔اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو امید ہے کہ پاکستان پر چھائے دہشت گردی کے منحوس بادل چھٹ جائیں گے اور اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو دہشت گردی کا مسئلہ مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے۔

اس لیے اس موقع پر کیا گیا کوئی بھی غلط فیصلہ پاکستان میں امن وامان کی صورت حال کو مزید بگاڑ سکتا ہے البتہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ طاقت کا استعمال آخری آپشن ہو گا، ضرورت پڑی تو پاک فوج اس کے موثر استعمال کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے' فوج کے ذہن میں دونوں صورتوں میں اپنے کردار کو سمجھنے اور اس کو بروئے کار لانے سے متعلق کوئی ابہام یا غلط فہمی نہیں۔ جنرل کیانی نے اپنے خطاب میں یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ مذاکرات کن بنیادوں پر ہوں گے، اس کا فیصلہ بھی مکمل طور پر سیاسی قیادت ہی کرے گی۔ اس سے اس امر کی بھی عکاسی ہوتی ہے کہ فوج جمہوری حکومت کے فیصلوں میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر رہی بلکہ جمہوریت کی حفاظت کے لیے اپنی آئینی ذمے داریاں بااحسن نبھا رہی ہے۔


طالبان ایک جانب حکومت سے مذاکرات کے لیے شرائط عائد کر رہے ہیں تو دوسری جانب وہ آئین کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ ایسے میں مذاکرات کا ڈول کیسے ڈالا جا سکتا ہے۔ طالبان کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ پاکستان کا آئین اسلامی روایات کا پاسدار اور امین ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ملک میں کوئی قانون اسلامی اصولوں کے برعکس تشکیل نہیں دیا جائے گا۔ اسی آئین کے تحت موجودہ جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اس لیے طالبان کی جانب سے ایک اسلامی آئین کو تسلیم کرنے سے انکار قطعی طور پر درست عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ طالبان کو تشدد اور دہشت گردی کا راستہ چھوڑ کر امن کی راہ چننا ہو گی۔ انھیں یہ امر مدنظر رکھنا چاہیے کہ کوئی گروہ خواہ بظاہر وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دیتا ہو' ریاست میں امن وامان کا مسئلہ پیدا کر کے اسے جزوی نقصان تو پہنچا سکتا ہے مگر ریاست کو شکست نہیں دے سکتا۔ ریاست ان گروہوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔

اگر طالبان اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں اور امن کا راستہ اپنانے کے بجائے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں تو پھر آخری حل ان کے خلاف آپریشن ہی رہ جائے گا۔ سوات کی مثال سب کے سامنے ہے جب اسلحہ بردار جتھے اسلام آباد سے صرف سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھے' جب مینگورہ کا سبز چوک خونی چوک کہلانے لگا تھا' کاروبار' گھر' معیشت اور سب کچھ جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ میں آ گیا تھا تب پاک فوج نے ایک برق رفتار اور موثر ملٹری آپریشن کے ذریعے سوات کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا تھا۔ اب مذاکرات کا راستہ اپنانا ہے یا آپریشن کا' اس کا دار ومدار طالبان پر ہے۔ اگر وہ مذاکرات کا راستہ چھوڑ کر اپنی ضد پر اڑے رہتے اور ریاست کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں تو پھر آخری حربہ ان کے خلاف قوت کے استعمال ہی کا رہ جائے گا۔ جنرل کیانی نے ملک کی تاریخی اور ریاستی اداروں کی صورت حال کے بارے میں بالکل درست کہا کہ ماضی میں دیگر وجوہات کے علاوہ ایک اہم وجہ ریاستی اداروں میں باہمی توازن کی کمی تھی جس کی وجہ سے ریاستی نظام کا ارتقا غیرموزوں تھا۔ کمزور نظام حکومت اور عدم برداشت نے معاشی ناہمواریوں اور دیگر خرابیوں کو مزید ہوا دی۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ریاستی اداروں میں باہمی رابطوں اور توازن کی کمی کے باعث ان میں چپقلش اور مناقشت جنم لیتی ہے نتیجتاً معاشی، زرعی' صنعتی' تعلیمی' دفاعی' انتظامی اور دیگر ریاستی ادارے کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ریاستی اداروں میں عدم توازن اور اشتراک کی کمی کا خمیازہ آج پوری قوم دہشت گردی اور خراب امن وامان کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ حد یہ ہے کہ ملک کو دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے ایک عرصہ بیت گیا ہے مگر ابھی تک اس سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ فورس ہی تشکیل نہیں دی جا سکی۔ اس وقت ملک جن نازک اور کٹھن حالات سے گزر رہا ہے اس سے نکلنے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام ریاستی اداروں کو منظم اور باہم مربوط کیا جائے تاکہ ملک ترقی کی جانب رواں دواں ہو سکے۔ قوم میں جب تک باہمی تعاون نہ ہو گا مسائل شدید سے شدید تر ہوتے جائیں گے۔ جنرل کیانی نے واضح کر دیا کہ مستقبل میں جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے عسکری قیادت کا بھرپور کردار تبھی ممکن ہو گا جب سب اداروں کا آپس میں باہمی اعتماد بڑھے گا، پاکستان تب ہی ترقی کرے گا جب ہمارے ادارے مضبوط ہوں گے۔

یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ فوج نے ملک میں جمہوریت کے استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ جب تک کسی ملک کے ادارے اور معاشی نظام مضبوط نہ ہو ترقی کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اندرونی طور پر کمزور قومیں بیرونی خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ پاکستان کا دفاع صحیح معنوں میں تبھی ممکن ہو گا جب پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ ہو گی اور ملک کا معاشی نظام ترقی کی جانب رواں دواں ہو گا۔ موجودہ جمہوری حکومت پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے ریاستی اداروں کو مضبوط بنائے اور ان میں باہمی توازن اور رابطے کا نظام موثر بنائے۔ جب ادارے مضبوط ہوں گے تو قوم کا بھی ان پر اعتماد ہو گا۔ تب کوئی بھی دہشت گرد گروہ ریاست کے اختیار کو چیلنج نہیں کر سکے گا کیونکہ پوری قوم متحد ہو کر ریاستی اداروں کے ساتھ ہو گی اور دہشت گردی کے ناسور کوجڑ سے اکھاڑنے کے لیے ہرممکن تعاون کرے گی۔ جب ریاست قوم کا اعتماد کھو دیتی ہے تو پھر جرائم پیشہ گروہوں کا جنم لینا لازمی امر ہے۔
Load Next Story