امریکی سینیٹر جان مکین کی طرف سے القاعدہ کی حمایت کا اعلان

شام میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے گروپ کا کردار مثبت ہے، جان مکین

شام میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے گروپ کا کردار مثبت ہے، جان مکین. فوٹو: وکی پیڈیا

اخبارات میں امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے معروف اور بااثر سینیٹر جان مکین کے حوالے سے یہ خبر شایع ہوئی ہے کہ انھوں نے شام میں القاعدہ کی سرگرمیوں کی حمایت کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سینیٹر جان مکین نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ شام میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے گروپ کا کردار مثبت ہے کیونکہ وہ شامی اپوزیشن فورسز کو معاونت فراہم کر رہا ہے۔ غالباً اسی قسم کی صورت حال کے بارے میں شاعر نے کہا تھا کہ: جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔


یعنی ایک طرف امریکا افغانستان میں القاعدہ کے خلاف فوج کشی کے لیے ہزاروں میل سے چل کر ہمارے خطے میں آیا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد مارے گئے جب کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر ڈرون طیاروں کے ذریعے میزائلوں کے حملے جاری ہیں جن میں اگر القاعدہ کا کوئی ایک رکن ہلاک ہوتا ہے تو دس بیس غیر متعلقہ بے گناہ بھی مارے جاتے ہیں اور اگر ہماری طرف سے دبی دبی زبان میں کوئی احتجاج ہوتا ہے تو ہمیں یہ کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ القاعدہ سے امریکا کی داخلی سلامتی کو خطرہ ہے، اس لیے ڈرون حملے بند نہیں ہو سکتے لیکن آج امریکا کا ایک انتہائی با اثر سینیٹر جان مکین شام میں بشار الاسد حکومت کے خلاف خانہ جنگی کرنے والے القاعدہ کے جنگجووں کی حمایت کا اعلان کر رہا ہے اور اسے اپنی اس دوغلی پالیسی پر کوئی خجالت نہیں ہے۔ اس صورت حال سے ان شبہات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ امریکا القاعدہ کے نیٹ ورک کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہا ہے۔

افغانستان پر جارحیت کے ساتھ ہی عراق پر بھی چڑھائی کر دی، اس کے بعد اگلا نشانہ لیبیا کو بنایا گیا ۔اب شام میں تباہی پھیلائی جارہی ہے۔ان سارے معاملات میں القاعدہ کو بڑے پراسرار انداز میں استعمال کیا گیا ہے۔ سینیٹر میکین کے بیان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی کو بھی امریکا ایک پالیسی کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ اب یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکا پہلے اپنے مقاصد کے لیے جنگجو گروہوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دیتا ہے، ان سے اپنا مطلب حل کراتا ہے جس طرح اس نے افغانستان میں اسامہ بن لادن کی قیادت میںعرب مجاہدین کو داخل کر کے اپنا الو سیدھا کیا اور جب سوویت یونین کو توڑنے میںکامیاب ہو گیا تو اسامہ اور اس کے ساتھی مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف جنگ شروع کر دی جو کہ اب تک جاری ہے۔ یہ وہ دہرا کردار ہے جس کے باعث پوری دنیا انتشار کا شکار ہے ، یہاں تک کہ امریکا خود بھی مالی بحران کا شکار ہے لیکن اس کے باوجود امریکا کے اقتدار پر قابض گروہ دنیا میں پرامن مگر غریب ممالک میں انتشار اورانارکی پھیلانے کے لیے انتہا پسندی کو فروغ دے رہا اور بعد میں یہی انتشاراور انارکی جنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
Load Next Story