کرتارپور راہداری پر تاریخ ساز معاہدہ
کرتار پور راہداری معاہدہ 5 سال کے لیے ہے اور ان پانچ سال میں دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
کرتارپور راہداری معاہدہ 5 سال کے لیے ہے اور ان پانچ سال میں دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی (فوٹو : سوشل میڈیا)
جمعرات کو پاکستان اور بھارت کے مابین کرتار پور راہداری سے متعلق معاہدہ طے پاگیا ہے، معاہدے کی مدت پانچ سال ہے، وزیراعظم عمران خان 9 نومبرکو راہداری کا افتتاح کریں گے۔
کرتارپور زیرو پوائنٹ پر تاریخی کرتار پور صاحب راہداری کھولے جانے کے حوالے سے پاکستان اوربھارت کے درمیان معاہدے پر دستخط کا ہونا خطے میں ایک اہم تزویراتی ٹرننگ پوائنٹ ہے، پاکستان کی جانب سے ترجمان دفتر خارجہ اورڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاء و سارک ڈاکٹر محمد فیصل جب کہ بھارت کی جانب سے بھارتی وزارت امور خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ایس سی ایل داس نے دستخط کیے۔
معاہدے کے 18رکنی نکات کے مطابق روزانہ 5 ہزار یاتری بغیر ویزا گوردوارہ کرتار پور صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں گے ، تاہم ضرورت کے مطابق اس میں اضافہ کیا جا سکے گا۔ سکھ یاتریوںکو موثر بھارتی پاسپورٹ پر کرتار پور راہداری استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ بیرون ملک رہائشی سکھ یاتریوں کو بھارتی اوریجن کارڈ پر اس سہولت کا فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی۔
حکومت نے اپنا ایک اور وعدہ پورا کردیا۔ وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں راہداری کا افتتاح اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں عوام اور خاص طور پر سکھ قوم اور یاتریوں کے لیے کرتار پور گردوارہ تک رسائی ایک تاریخی ، مذہبی اور روحانی معاملہ ہے۔
پاکستان نے اس دن کے لیے ہر ممکن تعاون اور اشتراک کے لیے اپنا کردار ادا کیا، مشکلات درپیش تھیں مگر اب تقریب کا افتتاح بابا گرونانک کی 550 ویں یوم پیدائش پر تقریبات سے پہلے ہو جائے گا، معاہدے کے تحت سکھ ہی نہیں،کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا بھارتی شہری کرتار پورآ سکتا ہے۔ انتہائی خوش آیند میکنزم وہ ہے جس کا دفتر خارجہ نے حکومتی اقدام اور وزیراعظم عمران خان کی امنگوں کی روشنی میں وضع کیا ہے جس کے تحت بھارت یاتریوںکی فہرست دس روز قبل دے گا، تصدیق کے بعد چھ روز میں پاکستانی حکام واپس دینگے۔ 20 ڈالرز سروس فیس ہو گی، پاکستانی حدود میں پاکستانی قانون لاگو ہوگا۔
روزانہ پانچ ہزار یاتری بغیر ویزا کرتار پورگوردوارہ کی یاترہ کرسکیں گے، جنھیں بس کے ذریعے کرتار پورکمپلیکس تک لایا جائے گا، امیگریشن اور بائیومیٹرک کے بعد بار کوڈکارڈ جاری کیا جائے گا، یاتری کرتار پورکمپلیکس تک ہی محدود رہیں گے۔ معاہدہ کے تحت صبح آٹھ بجے آنے والے یاتری شام کو لوٹیں گے، عقیدت کے تحت پیدل بھی راہداری کوکراس کرنے کی اجازت ہوگی۔
متعین کردہ تعداد میں انفرادی یاگروپ کی شکل میں یاتری پیدل یا سواری کے ذریعے صبح سے شام تک سال بھر ناروال کرتارپورآ سکیں گے۔ سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورتحال میں یہ سہولت میسر نہیں ہو گی، ایسی کسی بھی صورتحال کے بارے میں پاکستان بھارت کو پیشگی آگاہ کرے گا۔
سکھ یاتریوں کو موثر بھارتی پاسپورٹ پرکرتار پور راہداری استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اگلے 5 سال تک قابل عمل ہوگا جس کی خلاف ورزی کی صورت میں کرتار پور راہداری آپریشن معطل ہو سکے گا جب کہ معاہدے میں مشترکہ رضا مندی سے ترمیم ہو سکے گی، معاہدے پر عملدرآمد کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا اورایک مہینے کے نوٹس پرکوئی بھی ملک معاہدہ منسوخ کر سکتا ہے۔
معاہدے میں ممنوعہ اشیاء کی فہرست بھی شامل ہے جو بارڈر پار نہیں لائی جا سکیں گی ۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کرتار پور راہداری معاہدہ وزیراعظم عمران خان کے سکھ برادری سے کیے گئے وعدہ کے تحت کیا گیا۔
معاہدہ دین اسلام کی دیگر مذاہب کے لیے احترام کی تعلیمات پر مبنی پاکستانی خارجہ پالیسی کا مظہر ہے۔ یہ اقدام پاکستان میں اقلیتوں کے مساوی حقوق کے حوالے سے پاکستان کی سوچ کا عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری کھلنے کے باوجود پاکستان مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہے، اور اس سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے، پاک بھارت حالات کشیدہ ہیں اور مذاکرات میں مشکلات آتی ہیں، تاہم ہماری کوششیں جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بھارت پر پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ یہ ویزا فری کوریڈور ہے، یاتریوں کے ساتھ کسی قونصلر کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ امن کا کوریڈور ہے، دہشت گردی کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ڈاکٹر فیصل نے کرتار پور زیرولائن کے قریب امن کا پودا لگایا، انھوں نے اس موقع پر ایک شعر بھی دہرایا کہ :اک شجر ایسا محبت کا اگایا جائے۔ جس کا ہمسائے کے گھر میں بھی سایہ جائے۔ کرتار پور راہداری کا پہلا فیز مکمل کیا گیا ہے۔ 9 نومبر کو بھارت سے پہلا جھتہ یہاں آئے گا۔
کرتارپور راہداری پاکستان حکومت کا بھارت سمیت پوری دنیا کی اقلیتوں کے لیے ایک آفاقی پیغام یہی ہے کہ اس خطے کو امن واستحکام کی ضرورت ہے۔ دنیا میں دہشتگردی کے عفریت نے جہاں انسانی برادری کو خوف، تشویش، عدم تحفظ اور جنگوں کی تباہ کاریوںسے دوچار کیاہے۔
لاکھوں انسان جنگوں سے گھر بار چھوڑ کر سات سمندر پار نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، وہاں مذہبی رواداری ، بین المذاہب ہم آہنگی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ عالمی مذاہب میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں جو نوع انسانی کے مابین نفرت، کدورت اور دہشتگردی یا انتہاپسندی کی اجازت دیتا ہو۔
کرتار پور راہداری بھارتی حکومت کے لیے مثبت اور امن پسندی کا بہترین تقابل ہے، مودی حکومت نے اقلیتوں کے لیے نہ صرف بھارت میں عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے بلکہ خود بھارت اپنی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کے دفاع کے بھی قابل نہیں رہا، بھارتی سرکار نے کشمیر کو پہلے فلیش پوائنٹ بنایا، پھر آمرانہ آئینی ترامیم کے ذریعے وادی کی حیثیت تبدیل کی، کشمیریوں کو مسلسل کرفیو کے عذاب اور غیر انسانی تسلط کا نشانہ بنایا ہے، کشمیری اپنا حق مانگتے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ مودی حکومت جنگجویانہ عزائم اور جارحیت کر ترک کرکے نوع انسانی کے مابین گریٹر افہام و تفہیم اور امن پسندی کو فروغ دینے کے اقدامات میں اقوام عالم سے اشتراک پر آمادہ ہو، یہ صدی امن، ترقی، بقائے باہمی اور سماجی،سیاسی اور معاشی روابط کی صدی ہے۔ بھارت کو ادراک کرنا چاہیے کہ کرتارپور راہداری معاہدہ 5 سال کے لیے ہے، ان پانچ سالوں میں دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی مودی کو اس طرف بھی انسانی انداز نظر کے ساتھ توجہ مبذول کرنی چاہیے۔
کرتارپور زیرو پوائنٹ پر تاریخی کرتار پور صاحب راہداری کھولے جانے کے حوالے سے پاکستان اوربھارت کے درمیان معاہدے پر دستخط کا ہونا خطے میں ایک اہم تزویراتی ٹرننگ پوائنٹ ہے، پاکستان کی جانب سے ترجمان دفتر خارجہ اورڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاء و سارک ڈاکٹر محمد فیصل جب کہ بھارت کی جانب سے بھارتی وزارت امور خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ایس سی ایل داس نے دستخط کیے۔
معاہدے کے 18رکنی نکات کے مطابق روزانہ 5 ہزار یاتری بغیر ویزا گوردوارہ کرتار پور صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں گے ، تاہم ضرورت کے مطابق اس میں اضافہ کیا جا سکے گا۔ سکھ یاتریوںکو موثر بھارتی پاسپورٹ پر کرتار پور راہداری استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ بیرون ملک رہائشی سکھ یاتریوں کو بھارتی اوریجن کارڈ پر اس سہولت کا فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی۔
حکومت نے اپنا ایک اور وعدہ پورا کردیا۔ وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں راہداری کا افتتاح اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں عوام اور خاص طور پر سکھ قوم اور یاتریوں کے لیے کرتار پور گردوارہ تک رسائی ایک تاریخی ، مذہبی اور روحانی معاملہ ہے۔
پاکستان نے اس دن کے لیے ہر ممکن تعاون اور اشتراک کے لیے اپنا کردار ادا کیا، مشکلات درپیش تھیں مگر اب تقریب کا افتتاح بابا گرونانک کی 550 ویں یوم پیدائش پر تقریبات سے پہلے ہو جائے گا، معاہدے کے تحت سکھ ہی نہیں،کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا بھارتی شہری کرتار پورآ سکتا ہے۔ انتہائی خوش آیند میکنزم وہ ہے جس کا دفتر خارجہ نے حکومتی اقدام اور وزیراعظم عمران خان کی امنگوں کی روشنی میں وضع کیا ہے جس کے تحت بھارت یاتریوںکی فہرست دس روز قبل دے گا، تصدیق کے بعد چھ روز میں پاکستانی حکام واپس دینگے۔ 20 ڈالرز سروس فیس ہو گی، پاکستانی حدود میں پاکستانی قانون لاگو ہوگا۔
روزانہ پانچ ہزار یاتری بغیر ویزا کرتار پورگوردوارہ کی یاترہ کرسکیں گے، جنھیں بس کے ذریعے کرتار پورکمپلیکس تک لایا جائے گا، امیگریشن اور بائیومیٹرک کے بعد بار کوڈکارڈ جاری کیا جائے گا، یاتری کرتار پورکمپلیکس تک ہی محدود رہیں گے۔ معاہدہ کے تحت صبح آٹھ بجے آنے والے یاتری شام کو لوٹیں گے، عقیدت کے تحت پیدل بھی راہداری کوکراس کرنے کی اجازت ہوگی۔
متعین کردہ تعداد میں انفرادی یاگروپ کی شکل میں یاتری پیدل یا سواری کے ذریعے صبح سے شام تک سال بھر ناروال کرتارپورآ سکیں گے۔ سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورتحال میں یہ سہولت میسر نہیں ہو گی، ایسی کسی بھی صورتحال کے بارے میں پاکستان بھارت کو پیشگی آگاہ کرے گا۔
سکھ یاتریوں کو موثر بھارتی پاسپورٹ پرکرتار پور راہداری استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اگلے 5 سال تک قابل عمل ہوگا جس کی خلاف ورزی کی صورت میں کرتار پور راہداری آپریشن معطل ہو سکے گا جب کہ معاہدے میں مشترکہ رضا مندی سے ترمیم ہو سکے گی، معاہدے پر عملدرآمد کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا اورایک مہینے کے نوٹس پرکوئی بھی ملک معاہدہ منسوخ کر سکتا ہے۔
معاہدے میں ممنوعہ اشیاء کی فہرست بھی شامل ہے جو بارڈر پار نہیں لائی جا سکیں گی ۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کرتار پور راہداری معاہدہ وزیراعظم عمران خان کے سکھ برادری سے کیے گئے وعدہ کے تحت کیا گیا۔
معاہدہ دین اسلام کی دیگر مذاہب کے لیے احترام کی تعلیمات پر مبنی پاکستانی خارجہ پالیسی کا مظہر ہے۔ یہ اقدام پاکستان میں اقلیتوں کے مساوی حقوق کے حوالے سے پاکستان کی سوچ کا عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری کھلنے کے باوجود پاکستان مقبوضہ کشمیر سے متعلق اپنے موقف پر قائم ہے، اور اس سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے، پاک بھارت حالات کشیدہ ہیں اور مذاکرات میں مشکلات آتی ہیں، تاہم ہماری کوششیں جاری ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بھارت پر پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ یہ ویزا فری کوریڈور ہے، یاتریوں کے ساتھ کسی قونصلر کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ امن کا کوریڈور ہے، دہشت گردی کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ڈاکٹر فیصل نے کرتار پور زیرولائن کے قریب امن کا پودا لگایا، انھوں نے اس موقع پر ایک شعر بھی دہرایا کہ :اک شجر ایسا محبت کا اگایا جائے۔ جس کا ہمسائے کے گھر میں بھی سایہ جائے۔ کرتار پور راہداری کا پہلا فیز مکمل کیا گیا ہے۔ 9 نومبر کو بھارت سے پہلا جھتہ یہاں آئے گا۔
کرتارپور راہداری پاکستان حکومت کا بھارت سمیت پوری دنیا کی اقلیتوں کے لیے ایک آفاقی پیغام یہی ہے کہ اس خطے کو امن واستحکام کی ضرورت ہے۔ دنیا میں دہشتگردی کے عفریت نے جہاں انسانی برادری کو خوف، تشویش، عدم تحفظ اور جنگوں کی تباہ کاریوںسے دوچار کیاہے۔
لاکھوں انسان جنگوں سے گھر بار چھوڑ کر سات سمندر پار نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، وہاں مذہبی رواداری ، بین المذاہب ہم آہنگی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ عالمی مذاہب میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں جو نوع انسانی کے مابین نفرت، کدورت اور دہشتگردی یا انتہاپسندی کی اجازت دیتا ہو۔
کرتار پور راہداری بھارتی حکومت کے لیے مثبت اور امن پسندی کا بہترین تقابل ہے، مودی حکومت نے اقلیتوں کے لیے نہ صرف بھارت میں عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے بلکہ خود بھارت اپنی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کے دفاع کے بھی قابل نہیں رہا، بھارتی سرکار نے کشمیر کو پہلے فلیش پوائنٹ بنایا، پھر آمرانہ آئینی ترامیم کے ذریعے وادی کی حیثیت تبدیل کی، کشمیریوں کو مسلسل کرفیو کے عذاب اور غیر انسانی تسلط کا نشانہ بنایا ہے، کشمیری اپنا حق مانگتے ہیں جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ مودی حکومت جنگجویانہ عزائم اور جارحیت کر ترک کرکے نوع انسانی کے مابین گریٹر افہام و تفہیم اور امن پسندی کو فروغ دینے کے اقدامات میں اقوام عالم سے اشتراک پر آمادہ ہو، یہ صدی امن، ترقی، بقائے باہمی اور سماجی،سیاسی اور معاشی روابط کی صدی ہے۔ بھارت کو ادراک کرنا چاہیے کہ کرتارپور راہداری معاہدہ 5 سال کے لیے ہے، ان پانچ سالوں میں دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی مودی کو اس طرف بھی انسانی انداز نظر کے ساتھ توجہ مبذول کرنی چاہیے۔