کاروبار میں آسانی پاکستان کی 28 درجے پوزیشن بہتر
اس بہتری سے پاکستانی معیشت کو طویل المدتی فوائد ہوں گے اور یہ ایک اہم کامیابی ہے
اس بہتری سے پاکستانی معیشت کو طویل المدتی فوائد ہوں گے اور یہ ایک اہم کامیابی ہے (فوٹو: فائل)
عالمی بینک کی '' ایز آف ڈوئنگ بزنس'' یعنی کاروبارمیں آسانی رپورٹ میں پاکستان کی رینکنگ میں 28 درجے بہتری آگئی اور رپورٹ میں درجہ 108 ہوگیا۔
اس خبر کو معاشی اصلاحات کے حوالے سے ''تازہ ہوا کا جھونکا'' قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں بنیادی کردار وفاق اور صوبوں کی جامع اصلاحات ہیں۔ پاکستان نے نئے بزنس کے آغاز، اقلیتی سرمایہ کاروں کے تحفظ، دیوالیہ کے مسائل، کانٹریکٹس کے اطلاق ، بجلی کنکشن اور تعمیرات کے اجازت نامے کے حصول میں نمایاں اصلاحات کی ہیں۔
پاکستان نے ایز ڈوئنگ بزنس کے جن 6 اہم شعبوں میں نمایاں اصلاحات کیں، ان میں کاروبار شروع کرنا ،کنسٹرکشن پرمٹس، بجلی کنکشنز، پراپرٹی رجسٹریشن، ٹیکسوں کی ادائیگی شامل ہے، حکومت نے اصلاحات کے لیے نیشنل سیکریٹریٹ بنایا ہے اور وزیرکی زیر نگرانی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، یہ اقدامات اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کی لگن کے عکاس ہیں۔ پاکستان کاروباری اصلاحات کرنے والے 10ممالک میں شامل تو ہوا، تاہم پہلے 100 ممالک کی صف میں شمولیت کی خواہش پوری نہ ہوسکی۔
ملک میں موجودہ مہنگائی کا رجحان اور شرحِ نمو میں کمی اپنی جگہ قائم ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے ، مہنگائی کی شرح انتہائی تیزی سے روزبروز بڑھ رہی ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر اضافے پر حکومت کا کوئی کنٹرول نظر نہیں آتا ، حد تو یہ ہے کہ وزیر اعظم مہنگائی کا نوٹس لیتے ہیں اور پھر اس پر کیا پیش رفت ہوئی اس کی کوئی خبر نہیں ملتی ۔ اس وقت ملک بھر میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور عام آدمی کی قوت خرید جواب دے چکی ہے۔ ملک میں صنعتی یونٹوں کے بند ہونے یا پھر دوسرے ممالک میں منتقلی سے بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے ۔
یہ حکومت کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے اور اس عمل کو دعوت فکر بھی دیتا ہے کہ آیا معاشی اصلاحات کا عمل درست سمت میں رواں ہے یا پھر حکومت کی معاشی اصلاحات کی پالیسی میں نمایاں خامیاں ہیں جن کا خمیازہ عوام بھوک اور بے روزگاری کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی ہی ایک اور حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں سرمایہ کاری میں تقریباً نو فیصد کمی آئی اور صنعتی پیداوارکی شرحِ نمو اس سال صرف 1.4 فیصد رہ گئی ہے۔ایز آف بزنس کی درجہ بندی کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی ملک میں کاروبار کرنا یا یوں کہیں کہ کسی مارکیٹ میں داخل ہونا کتنا آسان ہے۔
عموماً غیر ملکی سرمایہ کارکسی ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اس انڈیکس کو اپنے فیصلے کا حصہ بناتے ہیں۔ اس انڈیکس میں بہتری کا مطلب یہ ہے کہ ہم توقع کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھنے کا امکان ہے جس سے قومی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور ملکی معیشت بہتر ہو گی۔ غیرملکی کمپنیاں اب یہاں سرمایہ کاری کرنے کو قدرے زیادہ راضی ہوں گی۔
اس بہتری سے پاکستانی معیشت کو طویل المدتی فوائد ہوں گے اور یہ ایک اہم کامیابی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے منشور کا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے۔ تحریک انصاف اپنے منشور کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے سدباب میں کامیاب ہو تو یہ اصل کامیابی کہلائے گی جوکہ تمام معاشی اور عالمی رپورٹس سے زمینی حقائق کے مطابق بڑھ کر ہوگی۔
اس خبر کو معاشی اصلاحات کے حوالے سے ''تازہ ہوا کا جھونکا'' قرار دیا جاسکتا ہے، جس میں بنیادی کردار وفاق اور صوبوں کی جامع اصلاحات ہیں۔ پاکستان نے نئے بزنس کے آغاز، اقلیتی سرمایہ کاروں کے تحفظ، دیوالیہ کے مسائل، کانٹریکٹس کے اطلاق ، بجلی کنکشن اور تعمیرات کے اجازت نامے کے حصول میں نمایاں اصلاحات کی ہیں۔
پاکستان نے ایز ڈوئنگ بزنس کے جن 6 اہم شعبوں میں نمایاں اصلاحات کیں، ان میں کاروبار شروع کرنا ،کنسٹرکشن پرمٹس، بجلی کنکشنز، پراپرٹی رجسٹریشن، ٹیکسوں کی ادائیگی شامل ہے، حکومت نے اصلاحات کے لیے نیشنل سیکریٹریٹ بنایا ہے اور وزیرکی زیر نگرانی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، یہ اقدامات اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کی لگن کے عکاس ہیں۔ پاکستان کاروباری اصلاحات کرنے والے 10ممالک میں شامل تو ہوا، تاہم پہلے 100 ممالک کی صف میں شمولیت کی خواہش پوری نہ ہوسکی۔
ملک میں موجودہ مہنگائی کا رجحان اور شرحِ نمو میں کمی اپنی جگہ قائم ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے ، مہنگائی کی شرح انتہائی تیزی سے روزبروز بڑھ رہی ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر اضافے پر حکومت کا کوئی کنٹرول نظر نہیں آتا ، حد تو یہ ہے کہ وزیر اعظم مہنگائی کا نوٹس لیتے ہیں اور پھر اس پر کیا پیش رفت ہوئی اس کی کوئی خبر نہیں ملتی ۔ اس وقت ملک بھر میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور عام آدمی کی قوت خرید جواب دے چکی ہے۔ ملک میں صنعتی یونٹوں کے بند ہونے یا پھر دوسرے ممالک میں منتقلی سے بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے ۔
یہ حکومت کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے اور اس عمل کو دعوت فکر بھی دیتا ہے کہ آیا معاشی اصلاحات کا عمل درست سمت میں رواں ہے یا پھر حکومت کی معاشی اصلاحات کی پالیسی میں نمایاں خامیاں ہیں جن کا خمیازہ عوام بھوک اور بے روزگاری کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی ہی ایک اور حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں سرمایہ کاری میں تقریباً نو فیصد کمی آئی اور صنعتی پیداوارکی شرحِ نمو اس سال صرف 1.4 فیصد رہ گئی ہے۔ایز آف بزنس کی درجہ بندی کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی ملک میں کاروبار کرنا یا یوں کہیں کہ کسی مارکیٹ میں داخل ہونا کتنا آسان ہے۔
عموماً غیر ملکی سرمایہ کارکسی ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اس انڈیکس کو اپنے فیصلے کا حصہ بناتے ہیں۔ اس انڈیکس میں بہتری کا مطلب یہ ہے کہ ہم توقع کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھنے کا امکان ہے جس سے قومی پیداوار میں اضافہ ہو گا اور ملکی معیشت بہتر ہو گی۔ غیرملکی کمپنیاں اب یہاں سرمایہ کاری کرنے کو قدرے زیادہ راضی ہوں گی۔
اس بہتری سے پاکستانی معیشت کو طویل المدتی فوائد ہوں گے اور یہ ایک اہم کامیابی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے منشور کا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے۔ تحریک انصاف اپنے منشور کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے سدباب میں کامیاب ہو تو یہ اصل کامیابی کہلائے گی جوکہ تمام معاشی اور عالمی رپورٹس سے زمینی حقائق کے مطابق بڑھ کر ہوگی۔