ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد نے اسکرپٹ رائٹنگ سے فنی سفر شروع کیا

انھیں کی فرمائش پر شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی نے فلم ’’من کی جیت‘‘ کے نغمات لکھے

آرٹ کی طرف طبعیت کے رحجان کی وجہ سے فلم اسکرپٹ رائٹنگ کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔ فوٹو: فائل

فلم ''ایک رات'' کی ہدایات دینے والے ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمدکا اصلی نام وحید الدین ضیاء الدین احمد تھا۔

وہ پنجاب کے اعلی تعلیم یافتہ معزز گھرانے کے چشم وچراغ تھے ۔ ان کے والد سندھ میں جوبمبئی ہی کا حصہ ہوا کرتاتھا ۔ ایک اعلی سرکاری منصب پر فائز تھے۔تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد آرٹ کی طرف طبعیت کے رحجان کی وجہ سے فلم اسکرپٹ رائٹنگ کے شعبے سے وابستگی اختیار کی ۔سندھ کی ایک بڑی اہم اور نامور سیاسی شخصیت سر غلام حسین ہدایت اللہ کی صاحبزادی سے ان کی شادی ہوئی جو سندھ کی بمبئی سے علیحدگی اور صوبائی حیثیت ملنے پر اس کی پہلی حکومت کے وزیراعلی بنے۔ لیڈیز اونلی کم کم دی ڈانسر اور راج نرت نامی فلموں کے مکالمے انھوں نے ہی تحریر کیے تھے۔ پھر پونا میں اپنا ذاتی فلم ساز ادارہ اور اسٹوڈیوز قائم کیا جس کا نام شالیمار پکچرز تھا ۔

دنیائے فکر وسخن کی نامور شخصیات مجاز لکھنوی ، اختر الایمان، ساغر نظامی، ان کے ادارے سے وابستہ رہے ۔ لاہور سے ایک اعلی تعلیم یافتہ جواں سال مسعود پرویز ایم ایس سی جو شوری کی ایک کامیاب ترین فلم منگتی میں ہٹ ہوچکے تھے وہ بھی شالیمار پکچرز سے وابستہ ہوگئے ۔ خان بہادر عبداللہ راشد کے صاحبزادے محسن عبداللہ بمبئی ٹاکیز میں لیبارٹری منیجر تھے ان سے احمد کی گہری دوستی تھی ۔ اپنی خوبصورتاور نیک سیرت بیوی شاہدہ کے ہوتے ہوئے بھی محسن ایک فلمی ہیروئن پربھا پردھان کے عشق میں گرفتار ہوکر اپنے گھر سے بے نیاز ہوتے چلے گئے ۔




اسی دوران شاہدہ اور احمد صاحب کے درمیان ہمددری، ہم آہنگی چاہت میں تبدیل ہوتی گئی اور احمد نے محسن عبداللہ کو اس بات پر راضی کرلیا کہ وہ ان کی فلم ''ایک رات'' میں شاہدہ کو ہیروئن لے سکتے ہیں ۔ یوں شاہدہ پراسرار نینا کے نام سے پردہ سیمی پر پہلی بار نمودار ہوئیں۔ بعدازاں ''من کی جیت'' ، '' پرتھوی راج'' ، ''پریم سنگیت'' ، ''میرا بائی'' اور ''شہزادی'' نامی فلموں بحیثیت ہیروئن کیں۔ یہ اعزاز بھی ڈبلیوزیڈ احمد کو حاصل ہے کہ شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی کو فلمی نغمات لکھنے پر راضی کیا۔ انھوں نے احمد کے اصرار پر ان کی فلم ''من کی جیت'' ہی کے نغمات لکھے پاکستان میں یہ اعزاز ہمایوں مرزا کو حاصل ہے جنہوں نے اپنی فلم ''آگ کا دریا'' کے لیے حضرت جوش سے نغمات لکھوائے ۔

احمد اور شاہدہ نے آپس میں شادی کرلی تھی کیونکہ محسن عبداللہ سے شاہدہ نے مکمل طور پر علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ محسن سے ان کا ایک بیٹا طارق بھی تھا جو اپنی شاہدہ کے زیرسایہ پلا بڑھا۔ قیام پاکستان کے بعد احمد پاکستان چلے آئے لاہور میں ایک سینما (ریگل سینما) الاٹ کروایا فلمی سیاست میں تو بڑے فعال اور سرگرم رہے لیکن ''روحی'' اور '' وعدہ'' نامی صرف دو فلمیںبنائیں ۔ ایک فلم ''وفا کی ادا'' شروع کی تھی مگر وہ مکمل نہ ہوسکی۔ اس کے بعد سنتوش کمار کی ذاتی فلم ''پھر شام ڈھلے'' کی ہدایتکاری کا آغاز کیا مگراس کے پایہ تکمیل تک پہنچنے سے پہلے ہی علیحدگی اختیار کرلی بعدازاں سنتوش کمار نے اسے خود مکمل کیا۔ شاہدہ نے پاکستان میں صرف ایک فلم ''اکیلی'' میں ثانوی کردار ادا کیا ۔ شاہدہ سے احمد کی بیٹی ایک بہت بڑے فوجی افسر سے بیاہی گئی تھی۔ ڈبلیو زیڈ احمد پندرہ اپریل 2007ء کو انتقال کرگئے تھے ۔
Load Next Story