حسین آباد پولیس کی کارروائی 2 بھتہ خور گرفتار اسلحہ برآمد

ایک دکان کا ملازم نکلا، انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

پولیس نے ملزم کے قبضے سے رقم کا لفافہ، پستول بمعہ 4گولیاں اور ایک نئی موٹرسائیکل تحویل میں لے لی۔ فوٹو: فائل

SEOUL:
حسین آباد پولیس نے ڈرامائی انداز میں کارروائی کرکے لیاری گینگ وار کے نام پر معروف ٹیلرنگ شاپ سے بھتہ وصول کرنے والے 2 ملزمان کو گرفتار کر کے بھتے میں وصول کرنے والی رقم، پستول اور موٹر سائیکل برآمد کرکے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا جبکہ ایک ملزم شاپ کا ملازم ہی نکلا۔

تفصیلات کے مطابق آٹو بھان روڈ پر واقع معروف ٹیلرنگ شاپ سے سردار رند بلوچ نامی شخص خود کو لیاری گینگ وار کا ظاہر کر کے 2 مرتبہ پہلے بھی 35 ہزار روپے وصول کرچکا تھا جبکہ یہ پیسے اس نے دکان کے ملازم ثناء اﷲ سہتو کے ذریعے وصول کیے۔ چند دن قبل بھی ٹیلرنگ شاپ کے منیجر عمران شیخ کو ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی جس نے اپنا نام سردار رند بلوچ بتا کر عید کے خرچے کے حوالے سے مزید 30ہزار روپے بھتہ طلب کیا اور نہ دینے پر دکان پرپہنچ کر پستول منیجر کے کاؤنٹرپر رکھ کر بھتہ نہ دینے پر خطرناک انجام کی دھمکی دی جبکہ اس کے فوری بعد دکان کے ملازم ثناء اﷲ نے بھی مالک کو فون کرکے بتایاکہ یہ خطرناک لوگ ہیں اس لیے انھیں رقم دے دو۔




دکان مالک کی اطلاع پرحسین آباد پولیس نے فوری طورپر ثناء اﷲ سہتو کوحراست میں لے لیا اور شاپ مالک کو ہدایت کی کہ وہ بھتہ خور کو اتوار کو بھتہ لینے کے لیے بلائے۔ جس کے بعد ڈرامائی انداز میں کارروائی کرتے ہوئے ایس ایچ او حسین آباد انسپیکٹر اختر سموں اور ان کے ساتھیوں نے بھتہ خور کوگھیرکر پکڑ لیا اور اس کے قبضے سے بھتے میں وصول کی گئی رقم کا لفافہ، پستول بمعہ 4گولیاں اور ایک نئی موٹرسائیکل تحویل میں لے لی۔انسپکٹر اختر سموں نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ گرفتار ملزم سردار رند بلوچ کا اصل نام محمداویس رند ہے جبکہ وہ بھتہ خوری کے لیے سرداررند بلوچ اور سنی شیخ کانام استعمال کرتا تھا جبکہ ان دوناموں سے اس کی پورے علاقے میں ایسی دہشت تھی کہ کوئی خوف کے باعث اسکے خلاف مقدمہ تک درج نہیں کراتا تھا جبکہ ابتدائی تفتیش کے دوران اس نے درجنوں بھتہ خوری اورلوٹ مار کی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمان کے خلاف ٹیلرنگ شاپ کے مالک محمداسلم لاکھانی کی مدعیت میں انسداد دہشت ایکٹ کے تحت بھتہ خوری کامقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور انھیں آج ریمانڈ کے لیے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
Load Next Story