پہلے ٹیسٹ کا آج آغاز پاکستان جنوبی افریقہ پر وار کرنے کیلیے تیار

مصباح الحق کی نگاہیں مہمان سائیڈ سے وائٹ واش شکست کا بدلہ لینے پر مرکوز

حریف کپتان گریم اسمتھ ٹخنے کی تکلیف کے باوجود فیلڈ سنبھالیں گے. فوٹو: فائل

LONDON:
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا آغاز پیر سے ابوظبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں ہورہا ہے۔

پاکستانی سائیڈ جنوبی افریقہ پر وار کرنے کیلیے تیار دکھائی دیتی ہے، دوسری جانب پروٹیز کے لیے گرمی اور اسپن بہت بڑا چیلنج ہیں، مصباح الحق کی نگاہیں مہمان سائیڈ سے وائٹ واش شکست کا بدلہ لینے پر مرکوز ہیں، خرم منظور کے ساتھ اوپننگ کے لیے احمد شہزاد اور شان مسعود کے درمیان مقابلہ ہے، جنید خان کیساتھ نئی گیند کے پارٹنر کا اعزاز عرفان اور راحت علی میں سے ایک کو ملے گا،کپتان مصباح الحق سیریز میں بہتر کارکردگی کیلیے پراعتماد ہیں۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ بھی دیار غیرمیں ناقابل شکست رہنے کا سلسلہ مزید دراز کرنے کا خواہاں ہے، اسپنر روبن پیٹرسن کو میدان میں اتارا جائے گا، کپتان گریم اسمتھ ٹخنے کی تکلیف کے باوجود فیلڈ سنبھالیں گے، ان کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی کنڈیشنز میں مقابلے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اپنی پسندیدہ کنڈیشنز میں ایک بار پھر ٹیسٹ سیریز کھیلنے کیلیے تیار ہے، رواں برس اب تک اس کیلیے اس فارمیٹ میں اچھا نہیں رہا، آغاز میں ہی جنوبی افریقہ کے ہاتھوں وائٹ واش شکست کی رسوائی سہنا پڑی جبکہ حال ہی میں زمبابوے سے بھی ایک ٹیسٹ ہار کر دو میچز کی سیریز ڈرا کی۔ یو اے ای کی پچز اسپنرز کیلیے موزوں ہونے کے باعث پاکستانی سائیڈ کو اپنی کامیابی کی امیدیں زیادہ ہیں مگر یہاں پر بھی بیٹنگ پر بدستور سوالیہ نشان عائد ہے کیونکہ جنوبی افریقی اٹیک کسی بھی کنڈیشنز میں کاری وار کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، اب تک مصباح الحق مرد بحران ثابت ہوئے مگر فتوحات کیلیے انھیں بھی دوسرے اینڈ سے مضبوط سپورٹ کی ضرورت ہے۔




پاکستان اس سیریز میں نئی اوپننگ جوڑی آزمانے والا ہے خرم منظور کے ساتھ شان مسعود یا احمد شہزاد میں سے کسی ایک کو میدان میں اتارا جائے گا، ٹاپ آرڈر کی ناکامی مصباح الحق کیلیے درد سر بنی ہوئی ہے، اس سال اب تک کھیلی گئی 10 ٹیسٹ اننگز میں ٹاپ تین وکٹیں صرف دو نصف سنچری شراکتیںہی مہیا کرپائی ہیں، اسی وجہ سے حفیظ کو اس بار ڈراپ کیا جاچکا ہے۔ زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ڈراپ ہونے والے محمد عرفان اس بار اسکواڈ کا حصہ تاہم انھیں جنید کے ساتھ نئی بال کی پارٹنر شپ کیلیے راحت علی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ تمام کھلاڑی سیریز کیلیے مکمل تیار اور فتح کیلیے بیتاب ہیں۔

ٹیم منیجر معین خان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہم زمبابوے میں ایک ٹیسٹ ہار گئے تھے مگر مجموعی طور پر ٹیم کی پرفارمنس کافی بہتررہی تھی۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ 2006 سے ملک سے باہر شکست سے دوچار نہیں ہوا مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے ایشیائی ممالک میں سیریز فتح بھی نصیب نہیں ہوئی بھارت کے ساتھ پروٹیز 2008 اور 2010 میں سیریز برابر کرچکے جبکہ پاکستان سے 2010 میں سیریز 0-0 سے ڈرا ہوئی تھی۔ ٹیم کے ایک اہم ممبر ورنون فلینڈر پہلی بار ان کنڈیشنز میں کھیلیں گے۔ کپتان گریم اسمتھ کے ٹخنے میں اب بھی درد ہے مگر وہ میچ کھیلنے کیلیے پرعزم ہیں، گذشتہ روز بھی انھوں نے بھرپور پریکٹس کی۔

ان کا کہنا ہے کہ جب بھی ہم ملک سے باہر فتح حاصل کرتے تو اس سے ہمیں اندرونی مضبوطی حاصل ہوتی اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے، ہم ہر قسم کی کنڈیشنز میں مقابلہ کرنا جانتے ہیں۔ واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کی جانب سے فرنٹ لائن اسپنر روبن پیٹرسن کو کھلایا جائے گا جبکہ ڈین ایلجر کو پال ڈومنی کیلیے جگہ خالی کرنا ہوگی۔ ابوظبی کا موسم کافی گرم اور پورے میچ کے دوران درجہ حرارت 30 سینٹی گریڈ سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ جنوبی افریقہ کو باہمی ٹیسٹ میچز میں پاکستان پر 11-3 کی برتری حاصل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹاپ 8 ٹیسٹ سائیڈز میں گذشتہ تین برس کے دوران پاکستان نے سب سے کم 23 پانچ روزہ میچز کھیلے جبکہ جنوبی افریقہ نے اس طرزکے 24مقابلے کھیلے ہیں ۔
Load Next Story