کلارک کی قائدانہ صلاحیت پر بھروسہ نہیں تھا پونٹنگ
کلارک الگ مزاج کا کرکٹر ہے، میچ کے اختتام پر کھیل کا تجزیہ کرنے میں دلچسپی نہیں لیتا،پونٹنگ
2011 کے آغاز میں جب لارا بنگل سے کلارک کی علیحدگی ہوئی تو ان کے رویے میں کافی تبدیلی آئی۔ فوٹو: وکی پیڈیا/فائل
سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ نے تسلیم کیا ہے کہ انھیں مائیکل کلارک کی قائدانہ صلاحیتوں پر بھروسہ نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ کلارک الگ مزاج کا کرکٹر ہے، وہ میچ کے اختتام پر مل بیٹھ کر کھیل کے پوسٹ مارٹم میں دلچسپی نہیں لیتا، لارا بنگل والے کیس کے بعد ان میں کافی تبدیلیاں آئیں، یہ انکشافات انھوں نے اپنی نئی آنے والی کتاب میں کیے ہیں۔ رکی پونٹنگ 2011 کے اختتام پر انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے تھے، انھوں نے اپنی کتاب ' ایٹ دی کلوز آف پلے' میں لکھا کہ مجھے اپنے نائب کی قائدانہ صلاحیتوں کے حوالے سے کافی تشویش تھی، وہ بہت زیادہ پلاننگ سیشنز میں شریک نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی اسے کھیل کے اختتام پر ہونے والی بحث میں شامل ہونے میں دلچسپی تھی جبکہ وہ رضاکارانہ طور پر بھی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا تھا۔
میں نے اور اس وقت کے کوچ ٹم نیلسن نے کئی مرتبہ اس کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ زیادہ قائدانہ ذمہ داریاں سنبھالے مگر جب بھی آئوٹ آف فارم ہوتا یا کھیل سے باہر اسے کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تھا وہ خول میں سمٹ جاتا، میں یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کھیل سے متعلق کافی سوچ و بچار کرتا مگر ان چھوٹی چیزوں کو کنٹرول نہیں کرتا تھا جوکہ ایک آسٹریلوی کپتان ہونے کے ناطے ضروری تھیں، وہ کھیل سے دور ایک الگ ہی دنیا میں رہتا تھا، میں کبھی بھی ان لڑکوں کے بارے میں فکرمند نہیں ہوتا جوکہ ڈریسنگ روم میں شراب نوشی نہیں کرتے مگر ان کے لیے فکر مند ہونا لازمی ہے جوکہ میچ کے بعد مل بیٹھنے اور دن کے کھیل کے پوسٹ مارٹم میں دلچسپی نہ لیتا ہو۔
یہی وہ وقت ہوتا جب ہم اپنی کامیابی کا جشن مناتے ، ان لڑکوں کی نشاندہی کرتے جنھیں مشکل کاسامنا ہوتا جو اچھا کھیلتے ان کو سراہتے تھے ابتدائی دو برس کے دوران کلارک بمشکل ہی اس قسم کی میٹنگز میں شریک ہوتے۔ پونٹنگ نے مزید کہا کہ 2011 کے آغاز میں جب لارا بنگل سے کلارک کی علیحدگی ہوئی تو ان کے رویے میں کافی تبدیلی آئی، اس کے بطور کپتان کیریئر کا اچھا آغاز ہوا، ان کی قیادت میں کینگروز نے بنگلہ دیش میں ون ڈے سیریز اور سری لنکا میں دونوں طرز کی سیریز میں فتح حاصل کی، خود ان کی اپنی بیٹنگ نئے لیول پر پہنچی، اب وہ پلاننگ میں بھی دلچسپی رکھتا ہے، میڈیا اور انتظامی ذمہ داریوں سے بھی نہیں گھبراتا اوراب پہلے سے زیادہ ڈریسنگ روم کے ماحول میں رچ بس گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کلارک الگ مزاج کا کرکٹر ہے، وہ میچ کے اختتام پر مل بیٹھ کر کھیل کے پوسٹ مارٹم میں دلچسپی نہیں لیتا، لارا بنگل والے کیس کے بعد ان میں کافی تبدیلیاں آئیں، یہ انکشافات انھوں نے اپنی نئی آنے والی کتاب میں کیے ہیں۔ رکی پونٹنگ 2011 کے اختتام پر انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے تھے، انھوں نے اپنی کتاب ' ایٹ دی کلوز آف پلے' میں لکھا کہ مجھے اپنے نائب کی قائدانہ صلاحیتوں کے حوالے سے کافی تشویش تھی، وہ بہت زیادہ پلاننگ سیشنز میں شریک نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی اسے کھیل کے اختتام پر ہونے والی بحث میں شامل ہونے میں دلچسپی تھی جبکہ وہ رضاکارانہ طور پر بھی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا تھا۔
میں نے اور اس وقت کے کوچ ٹم نیلسن نے کئی مرتبہ اس کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ زیادہ قائدانہ ذمہ داریاں سنبھالے مگر جب بھی آئوٹ آف فارم ہوتا یا کھیل سے باہر اسے کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تھا وہ خول میں سمٹ جاتا، میں یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ کھیل سے متعلق کافی سوچ و بچار کرتا مگر ان چھوٹی چیزوں کو کنٹرول نہیں کرتا تھا جوکہ ایک آسٹریلوی کپتان ہونے کے ناطے ضروری تھیں، وہ کھیل سے دور ایک الگ ہی دنیا میں رہتا تھا، میں کبھی بھی ان لڑکوں کے بارے میں فکرمند نہیں ہوتا جوکہ ڈریسنگ روم میں شراب نوشی نہیں کرتے مگر ان کے لیے فکر مند ہونا لازمی ہے جوکہ میچ کے بعد مل بیٹھنے اور دن کے کھیل کے پوسٹ مارٹم میں دلچسپی نہ لیتا ہو۔
یہی وہ وقت ہوتا جب ہم اپنی کامیابی کا جشن مناتے ، ان لڑکوں کی نشاندہی کرتے جنھیں مشکل کاسامنا ہوتا جو اچھا کھیلتے ان کو سراہتے تھے ابتدائی دو برس کے دوران کلارک بمشکل ہی اس قسم کی میٹنگز میں شریک ہوتے۔ پونٹنگ نے مزید کہا کہ 2011 کے آغاز میں جب لارا بنگل سے کلارک کی علیحدگی ہوئی تو ان کے رویے میں کافی تبدیلی آئی، اس کے بطور کپتان کیریئر کا اچھا آغاز ہوا، ان کی قیادت میں کینگروز نے بنگلہ دیش میں ون ڈے سیریز اور سری لنکا میں دونوں طرز کی سیریز میں فتح حاصل کی، خود ان کی اپنی بیٹنگ نئے لیول پر پہنچی، اب وہ پلاننگ میں بھی دلچسپی رکھتا ہے، میڈیا اور انتظامی ذمہ داریوں سے بھی نہیں گھبراتا اوراب پہلے سے زیادہ ڈریسنگ روم کے ماحول میں رچ بس گیا ہے۔