طیاروں کی محفوظ آمدورفت میں سی اے اے ناکام ہوگئی
فلائٹ سیفٹی پر عمل نہ ہونے سے طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات بڑھ گئے
کراچی ایئرپورٹ کے اطراف پرندوں کی بڑھتی تعداد مسافروں کے لیے خطرہ بن گئی۔ فوٹو: فائل
کراچی ایئرپورٹ کے اطراف فضا میں موجود طیاروں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کیلیے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے موثر اقدامات کیے اور نہ ہی فلائٹ سیفٹی ایکشن پلان مرتب کیا۔
یہی وجہ ہے کراچی سمیت ملک بھر کے دیگر ایئرپورٹس پر طیاروں سے پرندوں کے ٹکرانے کے واقعات روکے نہ جاسکے،ایئرپورٹ کے اطراف پرندوںکے خاتمے کی ذمے داری سول ایوی ایشن اتھارٹی پر ہوتی ہے،اتھارٹی کے (پرندوں کو مارنے والے) شارپ شوٹر غیر فعال ہیں جس سے ایئرپورٹ کی فضا میں پرندوں کی بھرمار ہوگئی ہے،سول ایوی ایشن کے ایک افسر کے مطابق عید قرباں پر جانوروںکی آلائشوں کو محفوظ مقامات پر ٹھکانے لگانے کی حکمت عملی اختیار نہیں کی جاسکی اورنہ ہی ایوی ایشن حکام نے متعلقہ حکام کو کوئی ہدایت جاری کی ہے۔
ایئرپورٹ کے اطراف جانوروں کی آلائشیں پھینکنے سے فضائی حادثات کا امکان ہے، کراچی ایئرپورٹ کے اطراف پرندوں کی بڑھتی تعداد فضائی سفر کرنے والوںکی جان کے لیے خطرہ بن گئی ہے، ایوی ایشن صنعت سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ شہری کراچی ایئرپورٹ، ماری پور بیس سمیت دیگر فضائی اڈوں کے قریب آلائشیں ڈالنے سے گریز کریں،ہوائی جہاز قیمتی قومی اثاثہ ہیں جن کی حفاظت ہر پاکستانی شہری کی ذمے داری ہے۔
یہی وجہ ہے کراچی سمیت ملک بھر کے دیگر ایئرپورٹس پر طیاروں سے پرندوں کے ٹکرانے کے واقعات روکے نہ جاسکے،ایئرپورٹ کے اطراف پرندوںکے خاتمے کی ذمے داری سول ایوی ایشن اتھارٹی پر ہوتی ہے،اتھارٹی کے (پرندوں کو مارنے والے) شارپ شوٹر غیر فعال ہیں جس سے ایئرپورٹ کی فضا میں پرندوں کی بھرمار ہوگئی ہے،سول ایوی ایشن کے ایک افسر کے مطابق عید قرباں پر جانوروںکی آلائشوں کو محفوظ مقامات پر ٹھکانے لگانے کی حکمت عملی اختیار نہیں کی جاسکی اورنہ ہی ایوی ایشن حکام نے متعلقہ حکام کو کوئی ہدایت جاری کی ہے۔
ایئرپورٹ کے اطراف جانوروں کی آلائشیں پھینکنے سے فضائی حادثات کا امکان ہے، کراچی ایئرپورٹ کے اطراف پرندوں کی بڑھتی تعداد فضائی سفر کرنے والوںکی جان کے لیے خطرہ بن گئی ہے، ایوی ایشن صنعت سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ شہری کراچی ایئرپورٹ، ماری پور بیس سمیت دیگر فضائی اڈوں کے قریب آلائشیں ڈالنے سے گریز کریں،ہوائی جہاز قیمتی قومی اثاثہ ہیں جن کی حفاظت ہر پاکستانی شہری کی ذمے داری ہے۔