ملک کا سیاسی منظرنامہ
معاہدے کے بعد جمعیت علمائے اسلام کو این اوسی جاری کردیا گیا (فوٹو : فائل)
ملک میں سیاسی سطح پر نئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، ایک طرف سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کی گئی تو دوسری جانب جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں آزادی مارچ شروع ہو گیا ہے۔
جے یو آئی ف کے ایک مرکزی رہنما مفتی کفایت اللہ کو مانسہرہ پولیس نے تھری ایم پی او کے تحت اسلام آباد سے گرفتار کرلیا ہے' ان پر عوام کو اشتعال انگیزی پر اُکسانے کا الزام تھا جس سے امن و امان خراب ہونے کا امکان تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خوش آیند اطلاعات بھی آئی ہیں کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور حکومت کے درمیان جے یو آئی مارچ کے حوالے سے مذاکرات میں کئی نکات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے جس سے کشیدگی میں کمی آنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔
ادھر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اتوار کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا گیا اور ریلیاں نکالی گئیں جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم سہنے والے کشمیریوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستانی قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں آزادی مارچ کراچی سے شروع ہوا جو اطلاعات کے مطابق 31اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن نے لاڑکانہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے' آزادی مارچ روکنے والی تمام رکاوٹوں کو اکھاڑ پھینکیں گے' آزادی مارچ کے قافلے شیڈول کے مطابق 31اکتوبر ہی کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔
آزادی مارچ کے حوالے سے حکومت اور جے یو آئی کے درمیان تحریری طور پر سات نکاتی معاہدہ طے پا گیا ہے جس کی رو سے اسلام آباد میں پشاور موڑ پر جلسہ کرنے پر اتفاق کیا گیا' ریڈ زون میں جلسہ نہیں ہو گا' جے یو آئی ف ڈی چوک اور بلیو ایریا میں آزادی مارچ نہیں کرے گی' مارچ کشمیر ہائی وے' پشاور موڑ اور ایچ نائن میں ہو گا جب کہ سیکٹر ایچ نائن کے اتوار بازار کے ساتھ میدان میں جلسہ کیا جائے گا۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوشی کی خبر ہے کہ اچھے ماحول میں ہم دونوں میں معاہدہ ہو گیا' حکومت اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور جے یو آئی ف کی کمیٹی کے درمیان کئی دنوں سے مذاکرات جاری تھے' جے یو آئی ف کی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ حکومت آزادی مارچ میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا اعلان کرے' وزیراعظم نے رکاوٹ نہ ڈالنے کا اعلان کیا تو اس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ معاہدے کے بعد اب راستے بند نہیں کیے جائیں گے' تمام راستے کھلے ہوں گے کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی' پرامن احتجاج ان کا حق ہے اگر وہ بیٹھنا چاہیں تو ہم نہیں روکیں گے' اگر جے یو آئی ف اپنے معاہدے پر پورا اترے گی تو کنٹینر ہٹا لیے جائیں گے' معاہدہ جے یو آئی اور ضلع انتظامیہ کے درمیان ہوا ہے۔
رہبر کمیٹی کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ ملک میں سیاسی سطح پر ہونے والی نئی پیشرفت میں جہاں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی عبوری ضمانت منظور ہونے سے ایک خوش امیدی کا پہلو نمایاں ہوا وہاں آزادی مارچ سے سیاسی فضا بھی مکدر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ احتجاج سیاسی جماعتوں کا جمہوری اور آئینی حق ہے جس کا مقصد حکومت سے اپنے مطالبات منوانا ہوتا ہے لیکن یہ حق استعمال کرتے ہوئے اس امر کا خصوصی خیال رکھا جائے کہ اس سے ملکی معیشت اور سلامتی کو نقصان نہ پہنچے' شہریوں کے روز مرہ کے کاروبار زندگی متاثر نہ ہوں۔
توڑ پھوڑ اور افراتفری سے گریز کیا جائے تاکہ یہ احتجاج ہر صورت پرامن رہے اور تشدد کا روپ نہ دھارے۔ اپوزیشن کے کسی بھی احتجاج کی صورت میں حکومت پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بلاجواز لاٹھی اور گولی کے استعمال سے اجتناب کرے تاکہ اپوزیشن کو اپنے احتجاج میں تشدد اور توڑ پھوڑ کو لانے کا جواز نہ ملے۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے بنوں میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یقین دلایا کہ جے یو آئی تصادم نہیں چاہتی' آزادی مارچ 126دن دھرنے کی طرح نہیں ہو گا بلکہ پرامن ہو گا' ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے' یہ مارچ سڑک پر ہی کریں گے۔
ملک داخلی اور خارجی سطح پر جس نازک دور سے گزر رہا ہے وہ اس امر کا متقاضی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی جماعتیں باہمی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کریں اور کسی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے ملک کو کسی بھی سطح پر نقصان پہنچے۔ پاکستان کے معاشی اور سیاسی حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔
حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں۔ سب کو یہ بھی پتہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کس قسم کی مشکلات سے دوچار ہے جب کہ کشمیر میں بھارت کے عزائم کیا ہیں۔ افغانستان کے معاملات بھی سب کو پتہ ہیں جب کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا بھی سب کو علم ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ اب معاشی حوالے سے کچھ اچھی اطلاعات آ رہی ہیں۔ پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے بہترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر پاکستان میں سیاسی استحکام پیدا ہو جائے تو ملک میں معاشی سرگرمیاں بحال ہو سکتی ہیں۔ اس وقت عوام بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ازحد پریشان ہیں جب کہ ملک میں بیروز گاری کی شرح میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں ماند پڑنے کے باعث تعمیراتی شعبہ بھی سست روی کا شکار ہے جس کی وجہ سے نچلی سطح تک بیروز گاری پھیل رہی ہے۔
یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔ پڑھے لکھے نوجوانوں میں بھی بیروز گاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ایسے حالات میں ملک کے اندر سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے تاکہ غیرملکی اور ملکی سرمایہ کار سرمایہ کاری کے منصوبے شروع کر سکے۔
حکومت کو آغاز میں ہی حزب اختلاف کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا تاکہ سیاست میں تلخیاں جنم نہ لیتیں' کشمیر کے حوالے سے بھی اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چلے۔ حالیہ دنوں میں یہ خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے کہ اپوزیشن بھی کشمیر کے معاملے پر حکومت کے موقف کے ساتھ چل رہی ہے۔ پاکستان کو مشکلات سے نکالنا حکومت کی اولین ذمے داری ہے اور اس مقصد کے لیے اسے ملک میں سیاسی استحکام کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی استحکام پیدا ہو گیا تو معیشت بحال ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔