قومی ہاکی ٹیم اولمپکس سے باہر ایک سانحہ
پاکستان کے قومی کھیل کو وہ توجہ، وسائل اور احترام نہیں دیا جارہا جو اس کا حق ہے
پاکستان کے قومی کھیل کو وہ توجہ، وسائل اور احترام نہیں دیا جارہا جو اس کا حق ہے۔فوٹو: فائل
یہ خبر شائقین ہاکی پر بجلی بن گری کہ تین مرتبہ اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتنے والی پاکستانی ٹیم ، اولمپک کوالیفائرزکے دوسرے میچ میں شکست کے بعد دوسری بار اولمپکس گیمزسے باہر ہوگئی ، قومی کھیل میں ایسی پستی ہر پاکستانی کو دل گرفتہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ یادش بخیر ایسا سنہرا وقت بھی گزرا ہے کہ جب ہاکی کے تمام عالمی اعزازت ایک ہی سال میں پاکستانی ہاکی ٹیم کے پاس تھے۔
کرکٹ کی دیوانی نسل کو بہت کم معلومات یا دلچسپی ہے کہ ہاکی کا کھیل ہمارے قومی وقار کی بلندی کی علامت تھا ۔ درحقیقت آج کے بیشتر پاکستانی نوجوانوں کو موجودہ پاکستانی ہاکی کھلاڑیوں کے مقابلے میں یورپی کلبوں کے فٹبال کھلاڑیوں کے ناموں سے زیادہ واقفیت حاصل ہے۔ دراصل ہاکی کا کھیل پاکستانیوں کے لیے بہت زیادہ فخر اورجوش کا باعث تھا۔ پاکستان ہاکی کا زوال اتنا اچانک نہیں ہے، جیسا نظر آتا ہے۔
ہاکی کے زوال کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستان نہ صرف 1986 میں انگلینڈ میں کھیلے جانے والے ورلڈکپ کا ٹائٹل ہارا بلکہ 12 ملکی ایونٹ میں 11 ویں نمبر پر آیا۔اس وقت تو ہاکی ٹیم نوے کی دہائی میں کسی حد تک ابھرکر واپس آنے میں کامیاب رہی تھی ، مگر یہ کھیل اسکولوں اورکالجوں سے غائب ہونا شروع ہوگیا تھا ، جب کہ اسے میڈیا اورکارپوریٹ کی ویسی توجہ بھی حاصل نہیں رہی جو کرکٹ کو ملنا شروع ہوگئی تھی۔ ہاکی کے کھیل میں جدید طریقے اور قوانین بنانے گئے۔
ان تبدیلیوں سے بھی پاکستانی ٹیم ہم آہنگ نہ ہوسکی۔ پھر المیہ یہ ہوا کہ حکومتی سطح پر اس کھیل کو یکسر نظر اندازکرتے ہاکی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک شروع کردیا گیا۔ تمام قومی اداروں سمیت بینکوں کی اپنی ہاکی ٹیمیں ہوا کرتی تھیں، جس کی وجہ سے کھلاڑیوںکو ملازمتیں اور مراعات ملتی تھیں، لیکن اس قومی کھیل کا زوال جس انداز میں ہوا ہے ، دل خون کے آنسو روتا ہے۔
پاکستان کے قومی کھیل کو وہ توجہ، وسائل اور احترام نہیں دیا جارہا جو اس کا حق ہے اور اس کے پیچھے چھپی سازش ہاکی قومی کھیل کی حیثیت کو کم کرنا ہے۔ ہاکی کی جگہ کرکٹ ایسا کھیل بن گیا ہے جس میں کامیابی کو ایک حکمران اپنی حکومت کی کامیابی کو اجاگرکرنے کے طور پر پیش کرسکتا ہے۔ ایک اسپورٹس مین ہمارا وزیراعظم ہے، قومی کھیل سے عدم دلچسپی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہمیں قومی سطح پر ایک کمیشن بنانا چاہیے جوکہ زوال کے اسباب تلاش کرکے ہاکی کی بحالی کے لیے اقدامات تجویزکرے۔
کرکٹ کی دیوانی نسل کو بہت کم معلومات یا دلچسپی ہے کہ ہاکی کا کھیل ہمارے قومی وقار کی بلندی کی علامت تھا ۔ درحقیقت آج کے بیشتر پاکستانی نوجوانوں کو موجودہ پاکستانی ہاکی کھلاڑیوں کے مقابلے میں یورپی کلبوں کے فٹبال کھلاڑیوں کے ناموں سے زیادہ واقفیت حاصل ہے۔ دراصل ہاکی کا کھیل پاکستانیوں کے لیے بہت زیادہ فخر اورجوش کا باعث تھا۔ پاکستان ہاکی کا زوال اتنا اچانک نہیں ہے، جیسا نظر آتا ہے۔
ہاکی کے زوال کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستان نہ صرف 1986 میں انگلینڈ میں کھیلے جانے والے ورلڈکپ کا ٹائٹل ہارا بلکہ 12 ملکی ایونٹ میں 11 ویں نمبر پر آیا۔اس وقت تو ہاکی ٹیم نوے کی دہائی میں کسی حد تک ابھرکر واپس آنے میں کامیاب رہی تھی ، مگر یہ کھیل اسکولوں اورکالجوں سے غائب ہونا شروع ہوگیا تھا ، جب کہ اسے میڈیا اورکارپوریٹ کی ویسی توجہ بھی حاصل نہیں رہی جو کرکٹ کو ملنا شروع ہوگئی تھی۔ ہاکی کے کھیل میں جدید طریقے اور قوانین بنانے گئے۔
ان تبدیلیوں سے بھی پاکستانی ٹیم ہم آہنگ نہ ہوسکی۔ پھر المیہ یہ ہوا کہ حکومتی سطح پر اس کھیل کو یکسر نظر اندازکرتے ہاکی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک شروع کردیا گیا۔ تمام قومی اداروں سمیت بینکوں کی اپنی ہاکی ٹیمیں ہوا کرتی تھیں، جس کی وجہ سے کھلاڑیوںکو ملازمتیں اور مراعات ملتی تھیں، لیکن اس قومی کھیل کا زوال جس انداز میں ہوا ہے ، دل خون کے آنسو روتا ہے۔
پاکستان کے قومی کھیل کو وہ توجہ، وسائل اور احترام نہیں دیا جارہا جو اس کا حق ہے اور اس کے پیچھے چھپی سازش ہاکی قومی کھیل کی حیثیت کو کم کرنا ہے۔ ہاکی کی جگہ کرکٹ ایسا کھیل بن گیا ہے جس میں کامیابی کو ایک حکمران اپنی حکومت کی کامیابی کو اجاگرکرنے کے طور پر پیش کرسکتا ہے۔ ایک اسپورٹس مین ہمارا وزیراعظم ہے، قومی کھیل سے عدم دلچسپی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہمیں قومی سطح پر ایک کمیشن بنانا چاہیے جوکہ زوال کے اسباب تلاش کرکے ہاکی کی بحالی کے لیے اقدامات تجویزکرے۔