چھوٹے تاجروں کابجلی کے اضافی بل نہ دینے کا اعلان
عیدکے بعداجلاس بلاکراحتجاجی تحریک کے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، سندھ تاجراتحاد
عید الاضحیٰ کے بعد کراچی بھر کے تاجروں کو اہم اجلاس طلب کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کے خلاف حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ فوٹو: فائل
TARNOL:
سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل احمد پراچہ نے کہا ہے کہ کے ای ایس سی اور وفاقی حکو مت کی ملی بھگت سے بجلی کے ٹیرف میں کیے گئے اضافے کو ہم نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اگر آنے والے بلز میں ٹیرف میں اضافہ کیا گیا تو ہم بلز کی ادائیگی نہیں کریں گے۔
کے ای ایس سی انتظامیہ نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کے دورانیہ کو 16 گھنٹوں تک طویل کردیا ہے جبکہ تجارتی مراکز میں صبح سے شام تک بجلی کی بندش کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہیں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور لوڈشیڈنگ نے عوام اور تاجروں کی کمر توڑ دی ہے، عید الاضحیٰ کے بعد کراچی بھر کے تاجروں کو اہم اجلاس طلب کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کے خلاف حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتحاد کی سینٹرل ایگزیکیٹو کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے اتحاد کے وائس چیئرمین کاشف صابرانی، جنرل سیکرٹری اسماعیل لال پوریہ، سلیم میمن، حبیب شیخ، راشد علی شاہ، مقصود احمد، جاوید عبداللہ، سلیم بٹلہ، محمد ارشد، حسین قریشی، ایوب نظامی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ جمیل احمد پراچہ نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی بدترین صورت حال کے باعث 70 فیصد کاروباری سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں اور کراچی میں اندرون سندھ اور اندرون ملک سے آنے والے گاہگوں نے کراچی کی مارکیٹوں کی جانب آنا بند کردیا ہے، اس صورت حال میں آئی ایم ایف کی ایما پر کے ای ایس سی اور وفاقی حکومت کی ملی بھگت سے بجلی کی ٹیرف میں ہوش ربا اضافہ غریب عوام اور تاجروں کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کے ای ایس سی نے گیس کی فراہمی کو جواز بنا کر شہر میں 14 سے 16 گھنٹوں تک کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشڈنگ کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور کراچی کی کم و بیش تمام مارکیٹوں میں صبح سے شام تک بجلی کی بندش معمول بن گئی ہے، اس صورت حال میں تاجروں کو اپنا کاروبار جاری رکھنے کے لیے جنریٹرز کی مدد لینا پڑ رہی ہے تاہم پٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے اب اس کے استعمال کرنے والوں کی کمر توڑ دی ہے، اس لیے اب کراچی کی معیشت کو بچانے اور کراچی کے تجارتی اور کاروباری مراکز کو آباد رکھنے کا واحد حل احتجاج ہے اور اسی احتجاج کے تحت ہم کے ای ایس سی، صوبائی اور وفاقی حکومت کی بند آنکھوں کو کھول سکتے ہیں۔
سندھ تاجراتحاد کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات، بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی تحریک کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل کو طے کرنے کے لیے عیدالاضحیٰ کے فوری بعد کراچی بھر کے تاجروں کو اہم اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی کو روکنے، کراچی کی مارکیٹوں کوبجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دلوانے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور ٹیرف میں اضافے کو واپس لینے کے لیے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین جمیل احمد پراچہ نے کہا ہے کہ کے ای ایس سی اور وفاقی حکو مت کی ملی بھگت سے بجلی کے ٹیرف میں کیے گئے اضافے کو ہم نہ صرف مسترد کرتے ہیں بلکہ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اگر آنے والے بلز میں ٹیرف میں اضافہ کیا گیا تو ہم بلز کی ادائیگی نہیں کریں گے۔
کے ای ایس سی انتظامیہ نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کے دورانیہ کو 16 گھنٹوں تک طویل کردیا ہے جبکہ تجارتی مراکز میں صبح سے شام تک بجلی کی بندش کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہیں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور لوڈشیڈنگ نے عوام اور تاجروں کی کمر توڑ دی ہے، عید الاضحیٰ کے بعد کراچی بھر کے تاجروں کو اہم اجلاس طلب کرکے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کے خلاف حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتحاد کی سینٹرل ایگزیکیٹو کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے اتحاد کے وائس چیئرمین کاشف صابرانی، جنرل سیکرٹری اسماعیل لال پوریہ، سلیم میمن، حبیب شیخ، راشد علی شاہ، مقصود احمد، جاوید عبداللہ، سلیم بٹلہ، محمد ارشد، حسین قریشی، ایوب نظامی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ جمیل احمد پراچہ نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی بدترین صورت حال کے باعث 70 فیصد کاروباری سرگرمیاں ختم ہوچکی ہیں اور کراچی میں اندرون سندھ اور اندرون ملک سے آنے والے گاہگوں نے کراچی کی مارکیٹوں کی جانب آنا بند کردیا ہے، اس صورت حال میں آئی ایم ایف کی ایما پر کے ای ایس سی اور وفاقی حکومت کی ملی بھگت سے بجلی کی ٹیرف میں ہوش ربا اضافہ غریب عوام اور تاجروں کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کے ای ایس سی نے گیس کی فراہمی کو جواز بنا کر شہر میں 14 سے 16 گھنٹوں تک کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشڈنگ کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور کراچی کی کم و بیش تمام مارکیٹوں میں صبح سے شام تک بجلی کی بندش معمول بن گئی ہے، اس صورت حال میں تاجروں کو اپنا کاروبار جاری رکھنے کے لیے جنریٹرز کی مدد لینا پڑ رہی ہے تاہم پٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے اب اس کے استعمال کرنے والوں کی کمر توڑ دی ہے، اس لیے اب کراچی کی معیشت کو بچانے اور کراچی کے تجارتی اور کاروباری مراکز کو آباد رکھنے کا واحد حل احتجاج ہے اور اسی احتجاج کے تحت ہم کے ای ایس سی، صوبائی اور وفاقی حکومت کی بند آنکھوں کو کھول سکتے ہیں۔
سندھ تاجراتحاد کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات، بجلی کے ٹیرف میں اضافے اور لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی تحریک کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل کو طے کرنے کے لیے عیدالاضحیٰ کے فوری بعد کراچی بھر کے تاجروں کو اہم اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی کو روکنے، کراچی کی مارکیٹوں کوبجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دلوانے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور ٹیرف میں اضافے کو واپس لینے کے لیے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔