بزنس کمیونٹی نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا

اضافے کا اطلاق 350یونٹ سے زیادہ استعمال کرنے والے صارفین پر ہونا چاہیے، راولپنڈی چیمبر حکومت

ڈاکٹر شمائل داؤد نے کہا کہ نئے فارمولے سے غریب اور کم آمدنی والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
تاجر و صنعتکار برادری نے حکومت کی طرف سے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسے فی الفور واپس لیا جائے۔

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ڈاکٹر شمائل داؤد آرائیں نے گزشتہ روز جاری کردہ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت اور نیپرا مل کر عوام کے ساتھ کھیل رہے ہیں، عوام اور کاروباری برادری کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے، معاملات کوسڑکوں پر نہیں بلکہ مل بیٹھ کر حل کرنا چاہتے ہیں، حکومت اس خواہش کا احترام کرے اور آئی ایم ایف کے ایما پر اپنے لوگوں کو مشکلات میں نہ ڈالا جائے، عدالتی حکم کے بعد نیپرا نے حکومتی اعدادوشمار میں ردو بدل کر کے غریب عوام کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا اور کم سے کم یونٹ کی حد 350 سے کم کر کے پہلے 200 یونٹ کی گئی اور اب 50یونٹ کر دی گئی ہے جو سراسر ظلم کے مترادف ہے، حکومت حالیہ فیصلے کو واپس لے اور یونٹ کی کم سے کم حد 350 یونٹ کو بحال کرے۔

ڈاکٹر شمائل داؤد نے کہا کہ نئے فارمولے سے غریب اور کم آمدنی والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ راولپنڈی چیمبر حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اضافے کا اطلاق 350یونٹ سے زیادہ استعمال کرنے والے صارفین پر ہونا چاہیے، حکومت غربت مکاؤ وعدے کی پاسداری کے بجائے غریب مکاؤ پالیسی پر گامزن ہے، اگر حالات کی نزاکت کو نہ سمجھا گیا تو حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور اس کی تمام تر ذمے داری بھی حکومت پر عائد ہو گی۔




انہوں نے کہا کہ راولپنڈی چیمبر تمام تاجر تنظیموں سے مسلسل رابطے میں ہے اور عید تک اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو کاروباری برادری عید کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ لسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سائیٹ سپرہائی وے ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری نے پاورٹیرف میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے جاری ناگفتہ بہ حالات کوبالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے جارحانہ اقدامات کوتجارت وصنعت کے لیے تباہی کا باعث قرار دے دیا ہے۔

سائٹ سپرہائی وے ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید غوری اورایل سی سی آئی کے صدر اسماعیل ستارنے صدر اوروزیراعظم سے پاورٹیرف حالیہ غیرمنصفانہ اضافے کا فوری نوٹس لینے ٹیرف کو سابقہ سطح پر ہی برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں توانائی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، صنعتوں کو طلب کے مطابق نہ بجلی دستیاب ہے اور نہ ہی گیس جبکہ بجلی و گیس کی طویل لوڈشیڈنگ نے صنعتی پیداواری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے جاری توانائی بحران سے صنعت وتجارت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کاحوالہ دیتے کہاکہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور زائد نرخوں کی وجہ سے صنعتی پیداواری سرگرمیاں تباہ ہو کر رہ گئی ہیں اور اب حکومت کی جانب سے بجلی نرخوں میں حالیہ اضافے سے رہی کسر بھی پوری ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ زائد پیداواری لاگت اور امن وامان کی مخدوش صورتحال میں صنعتیں بجلی نرخوں میں اضافے کی ہر گز متحمل نہیں ہوسکتیں خصوصاً برآمدی صنعتوں کے لیے برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل مزید دشوار ہو جائے گی جس سے برآمدی آرڈرز منسوخ ہونے کے خدشات بڑھ جائیں گے اور ملکی برآمدات پر اس کے منفی ثرات مرتب ہوں گے۔ جاوید غوری اوراسماعیل ستار نے حکومت کو تجویز دی کہ وہ پاورٹیرف میں اضافے کی پالیسی اختیار کرنے کے بجائے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے نئے منصوبے شروع کرنے کی حکمت عملی اختیار کریں تاکہ طلب کے مطابق بجلی کی پیداوارممکن ہوسکے اور تجارت وصنعتی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھے جاسکیں۔
Load Next Story