33 فیصد عالمی آبادی دوتہائی توانائی استعمال کررہی ہے سربراہ آرامکو
2 دہائیوں میں40 ٹریلین ڈالر سرمایہ کاری کی ضرورت پڑے گی،ورلڈانرجی کانفرنس میں خطاب
دنیا کے سب سے بڑے آئل ایکسپورٹر سعودی آرامکو کے صدر خالد فالیح نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاکہ آج دنیا کی ایک تہائی سے بھی کم آبادی بنیادی توانائی پیداوار کا دو تہائی سے زیادہ استعمال کر رہی ہے۔ رائٹرز/ فائل
ISLAMABAD:
دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کم سے کم ماحولیاتی اثرات کی حامل پائیدار توانائی کی فراہمی کا چیلنج پیر کو ورلڈ انرجی کانگریس میں مباحثے کا مرکز رہا۔
دنیا کے سب سے بڑے آئل ایکسپورٹر سعودی آرامکو کے صدر خالد فالیح نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاکہ آج دنیا کی ایک تہائی سے بھی کم آبادی بنیادی توانائی پیداوار کا دو تہائی سے زیادہ استعمال کر رہی ہے مگر 2050 تک دنیا کی 9 ارب افراد کی آبادی ایک خوشحال زندگی کی خواہشمند ہوگی۔ گزشتہ روز ورلڈ انرجی کانگریس میں ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی جس میں دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ اربنائزیشن سے لاحق چیلنجز کا تذکرہ کیاگیا اور جاز وسیمفونی کے نام سے آئندہ 4 دہائیوں کے لیے توانائی کے 2 مختلف منظرنامے پیش کیے گئے۔
جاز منظرنامے کے تحت مارکیٹ بیسڈ انرجی پالیسی کے تحت توانائی رسائی، قابل برداشت قیمت اور معیاری سپلائی پر توجہ دیتے ہوئے تخمینہ لگایا گیا کہ 2050 تک مجموعی بنیادی توانائی پیداوار 61 فیصد تک بڑھ جائے گی جبکہ حکومت کی بنیاد پر سیموفونی منظرنامے میں ماحولیاتی پائیداری و انرجی سیکیورٹی پر توجہ دیتے ہوئے پیداوار میں 27فیصد اضافے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2030تک 73 کروڑ سے 88 کروڑ افراد بجلی سے محروم ہوں گے تاہم یہ تعداد 2050 تک کم ہو کر 53 کروڑ سے 31کروڑ90 لاکھ تک رہ جائیگی۔
کونسل ڈائریکٹر آف پالیسی کارل روز نے کہاکہ اس وقت تک مختلف ٹیکنالوجی سالوشنز دستیاب ہوں گے مگر اصل مسئلہ تیزی بڑھتی ہوئی طلب ہوگی۔ فالیح نے کہاکہ توانائی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ 2 دہائیوں کے دوران شعبے میں 40 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت پڑے گی جو چین، یورپی یونین اور امریکا کی مجموعی جی ڈی پی کے برابر ہے تاہم ڈبلیو ای سی رپورٹ میں صرف بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے 2050 تک 19ٹریلین سے 25 ٹریلین ڈالر سرمایہ کاری کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کو کم سے کم ماحولیاتی اثرات کی حامل پائیدار توانائی کی فراہمی کا چیلنج پیر کو ورلڈ انرجی کانگریس میں مباحثے کا مرکز رہا۔
دنیا کے سب سے بڑے آئل ایکسپورٹر سعودی آرامکو کے صدر خالد فالیح نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاکہ آج دنیا کی ایک تہائی سے بھی کم آبادی بنیادی توانائی پیداوار کا دو تہائی سے زیادہ استعمال کر رہی ہے مگر 2050 تک دنیا کی 9 ارب افراد کی آبادی ایک خوشحال زندگی کی خواہشمند ہوگی۔ گزشتہ روز ورلڈ انرجی کانگریس میں ایک رپورٹ بھی جاری کی گئی جس میں دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ اربنائزیشن سے لاحق چیلنجز کا تذکرہ کیاگیا اور جاز وسیمفونی کے نام سے آئندہ 4 دہائیوں کے لیے توانائی کے 2 مختلف منظرنامے پیش کیے گئے۔
جاز منظرنامے کے تحت مارکیٹ بیسڈ انرجی پالیسی کے تحت توانائی رسائی، قابل برداشت قیمت اور معیاری سپلائی پر توجہ دیتے ہوئے تخمینہ لگایا گیا کہ 2050 تک مجموعی بنیادی توانائی پیداوار 61 فیصد تک بڑھ جائے گی جبکہ حکومت کی بنیاد پر سیموفونی منظرنامے میں ماحولیاتی پائیداری و انرجی سیکیورٹی پر توجہ دیتے ہوئے پیداوار میں 27فیصد اضافے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2030تک 73 کروڑ سے 88 کروڑ افراد بجلی سے محروم ہوں گے تاہم یہ تعداد 2050 تک کم ہو کر 53 کروڑ سے 31کروڑ90 لاکھ تک رہ جائیگی۔
کونسل ڈائریکٹر آف پالیسی کارل روز نے کہاکہ اس وقت تک مختلف ٹیکنالوجی سالوشنز دستیاب ہوں گے مگر اصل مسئلہ تیزی بڑھتی ہوئی طلب ہوگی۔ فالیح نے کہاکہ توانائی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے آئندہ 2 دہائیوں کے دوران شعبے میں 40 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت پڑے گی جو چین، یورپی یونین اور امریکا کی مجموعی جی ڈی پی کے برابر ہے تاہم ڈبلیو ای سی رپورٹ میں صرف بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے 2050 تک 19ٹریلین سے 25 ٹریلین ڈالر سرمایہ کاری کا اندازہ لگایا گیا ہے۔