سم کی تصدیق کا عمل 30 اکتوبرکومکمل ہوگا چیئرمین پی ٹی اے

سرمایہ کاروں کوسازگارماحول فراہم کیاجائیگا، انوشہ رحمن کی زیرصدارت اجلاس

وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی وٹیلی کام انوشہ رحمان غیرقانونی سمز سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہی ہیں فوٹو: پی پی آئی

لاہور:
موبائل فون کمپنیاں ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال کا ادراک رکھتی ہیں اور اس معاملے پر حکومت کے ساتھ مل کر اقدامات کر رہی ہیں، مزید اقدامات کے لیے بھی آمادہ ہیں اور حکومت کے ساتھ فعال اشتراک عمل سے ملک بھر میں سم کی پڑتال کے بائیومیٹرک نظام کے قیام کے لیے کام کر رہی ہیں۔

پیر کو بیان کے مطابق اس معاملے پر وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمن خان کے ساتھ سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) نے منعقدہ اجلاس میں بات چیت کی جس میں وزارت داخلہ، ایف آئی اے اور پی ٹی اے کے نمائندے بھی موجود تھے۔ اجلاس میں سی ایم اوز نے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اپنی کاوشوں کے بارے میں آگاہ کیا۔

موبائل ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکس جمع اور ادا کرنے والا سب سے بڑا شعبہ ہے، 2011-12 میں ٹیلی کام سیکٹر نے قومی خزانہ میں 133 ارب روپے جمع کرائے، یہ اس رقم سے الگ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اتھارٹیز کو دیگر فیسوں اور لیویز کی صورت میں اربوں روپے ادا کیے گئے۔




اجلاس میں بتایا گیا کہ سی ایم اوز ملکی مجموعی اقتصادیات میں منفرد کردار ادا کر رہی ہیں جس کے تحت اب تک 10 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری ہوئی ہے، اس کے علاوہ اس شعبے نے ملک میں تقریباً 14 لاکھ بلواسطہ اور بلاواسطہ نوکریاں پیدا کی ہیں۔

بیان کے مطابق سماجی اور اقتصادی کاوشوں کے علاوہ موبائل فون کے شعبے نے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ قومی سلامتی کے امور میں ہمیشہ بھرپور تعاون کیا۔ وزیر مملکت نے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ قومی سلامتی پر حکومت کسی قسم کا سمجھوتہ کیے بغیر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی پر یقین رکھتی ہے۔ اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹر اسماعیل شاہ نے غیر تصدیق شدہ سموں کی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی اور کہا کہ پی ٹی اے کے متعین کردہ طریقہ کار کے مطابق سم کی تصدیق کے لیے عمل حتمی مرحلہ میں ہے اور اسے 30 اکتوبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔
Load Next Story