رینجرز کی گاڑی سے لڑکی کی ہلاکتمتوفیہ کے والد کا رینجرز کیخلاف عدالت میں جانے کا اعلان

22سالہ سمعیہ کی ہلاکت کے بعد رینجرز اہلکاررہائش گاہ آئے اور صرف تسلیاں دے کرچلے گئے، اہلکاروں کوسزادی جائے، والد ثاقب

واقعے میں ملوث اہلکاروں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے،اپیل۔فوٹو:فائل

ناظم آباد انکوائری آفس کے قریب رینجرزکی تیز رفتارگاڑی کی ٹکر سے ہلاک ہونے والی لڑکی کے والد نے رینجرز کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کردیا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے ، واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے ، تفصیلات کے مطابق اتوار کو ناظم آباد انکوائری آفس کے قریب رینجرز کی گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل پر اپنے بھائی کے ہمراہ جانے والی 22 سالہ سمعیہ ہلاک جبکہ اس کا بھائی زخمی ہوگیا تھا ، متوفیہ کے والد ثاقب نے گزشتہ روز ایکسپریس کو بتایا کہ وہ واقعے کے بعد رینجرز کے خلاف عدالت جائیں گے ، انھوں نے کہا کہ ان کا بیٹا معمولی رفتار سے موٹر سائیکل چلا رہا تھا کہ عقب سے آنے والی تیز رفتار رینجرز کی موبائل نے انھیں ٹکر مار دی ۔




جس سے ان کی بیٹی سر پر چوٹ لگنے سے موقع پر ہی ہلاک ہوگئی جبکہ بیٹا زخمی ہوگیا ، واقعے کے بعد رینجرز اہلکار ہلاک و زخمی کو عباسی شہید اسپتال لے کر گئے ، متوفیہ کے والد ثاقب نے مزید بتایا کہ سمعیہ کی ہلاکت کے بعد رینجرز حکام ان کی رہائش گاہ آئے اور انھیں تسلیاں دے کر چلے گئے ، انھوں نے اس موقع پر ان سے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔

ثاقب کا کہنا تھا کہ رینجرز حکام نے تفتیش میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی تو کرائی لیکن اس کے بعد انھیں کچھ نہیں معلوم کہ انھوں نے ملوث اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی کی ، متوفیہ کے والد نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے ، انھوں نے ایکسپریس کو مزید بتایا کہ متوفیہ 5 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی جبکہ وہ ایک نجی کمپنی میں بطور مشیر ملازمت کرتے ہیں اور نارتھ ناظم آباد جے بلاک کے رہائشی ہیں ، متوفیہ سمعیہ کو اتوار کو ہی یاسین آباد قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا ، اس موقع پر رینجرز کی بھاری نفری بھی موجود تھی ۔
Load Next Story