پہلا ٹیسٹ جنوبی افریقا پاکستان کےخلاف پہلی اننگز میں 249 رنز بنا کر آؤٹ
ہاشم آملہ نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے 118 رنز بنائے، پاکستان کے ذوالفقار بابر اور محمد عرفان نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔
ہاشم آملہ نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے 118 رنز بنائے، پاکستان کے ذوالفقار بابر اور محمد عرفان نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔ فوٹو؛ اے ایف پی
پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقا کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 249 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
ابوظہبی میں کھیلے جارہے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقا کے ہاشم آملہ نے شاندار بلے بازی کرتےہوئے 118 رنز اسکور کئے جب کہ پاکستان کے ذوالفقار بابر اور محمد عرفان نے شاندار بالنگ کرتےہوئے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔ جنوبی افریقا نے پہلے روز8 وکٹ پر 245 رنز بنائے، پال ڈومنی نے ففٹی اسکور کی، 35 برس کی عمر میں ڈیبیو کرنے والے ذوالفقار بابر نے تین وکٹیں لیں، محمد عرفان نے آغاز میں ہی2کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے پروٹیز کو ڈگمگانے پر مجبور کیا۔ پاکستانی بولرز نے جنوبی افریقی بیٹنگ لائن پر بڑھ چڑھ کرحملے کیے مگر قسمت کی مہربانی سے ہاشم آملا اپنی ٹیم کے اسکور کو قدرے بہتر بنانے میں کامیاب رہے۔
مہمان ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا مگر آغاز میں گریم اسمتھ کو اس پر پچھتانا پڑ گیا جب تیسرے اوور میں دراز قد فاسٹ بولر محمد عرفان نے الویرو پیٹرسن (3)کو پویلین بھیج دیا، شارٹ پچ گیند نے حریف بیٹسمین کو پریشان کیا، فرسٹ لیگ پر موجود شان مسعود پہلی کوشش میں کیچ قابو نہیں کرپائے مگر اس سے پہلے کہ گیند فیلڈ سے ٹکراتی انھوں نے فوراً اسے اچک لیا، ٹخنے کی سرجری کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آنے والے کپتان گریم اسمتھ (15) عرفان کی گیند پر وکٹوں کے عقب میں عدنان اکمل کا کیچ قرار پائے۔
فیلڈ امپائر نے انھیں زوردار اپیل کے باوجود ناٹ آؤٹ قرار دیا جس پر فوری طور پر تھرڈ امپائر سے رجوع کر کے فیصلے کو اپنے حق میں کامیابی سے تبدیل کرایا گیا، اب نمبر ایک اور سینئر کھلاڑی جیک کیلس کا تھا وہ بھی کاٹ بی ہائنڈ ہوئے مگر وکٹ جنید خان کو ملی، انھوں نے 5 رنز اسکور کیے جبکہ ٹیم کا ٹوٹل 43 تھا، تین وکٹیں گرنے کے بعد پروٹیز نے احتیاط پسندی کی انتہا کردی، اس طرح پہلے سیشن میں وہ مزید کسی نقصان سے محفوظ رہے تاہم لنچ کے بعد ابراہم ڈی ویلیئرز نازک حالات میں ٹیم کا ساتھ اس وقت چھوڑ گئے ۔
جب ان کی بہت زیادہ ضرورت تھی، ذوالفقار بابر کی گیند پیڈ سے ٹکرا کر فرسٹ سلپ میں گئی، یونس خان نے اسے اچکنے میں تھوڑی سستی دکھائی مگر جیسے ہی انھوں نے ڈی ویلیئرز کو آگے کی جانب بڑھتے دیکھا فوراً گیند عدنان اکمل کی جانب اچھالی جنھوں نے بیلز اڑادیں، تھرڈ امپائر کو رن آؤٹ کا فیصلہ کرنے میں کافی دیر لگی، ڈی ویلیئرز کا پاؤں لائن کے اوپر دکھائی دے رہا تھا تاہم انھیں آؤٹ قرار دے دیا گیا۔ آملا اور ڈی ویلیئرز کے درمیان 61 رنز کی شراکت ہوئی ، اس دوران ہاشم آملا بھی خوش قسمتی سے2 مرتبہ رن آؤٹ سے محفوظ رہے۔
دوسری بار جب انھیں موقع ملا تو انفرادی اسکور17تھا، آملا نے اپنے کیریئر کی 20 ویں سنچری ذوالفقار بابر کی گیند پر سنگل سے مکمل کی، اس کے لیے انھوں نے 201 گیندوں کا سامنا کیا، ان کی پال ڈومنی کے ساتھ پانچویں وکٹ کیلیے 95 رنز کی قیمتی شراکت ہوئی، اس خطرناک ثابت ہوتی جوڑی کا خاتمہ ذوالفقار بابر نے کیا، ڈومنی ان کا پہلا شکار بنے جب 57 کے انفرادی اسکور پر سوئپ کی کوشش میں وہ اسکوائر لیگ پر اسد شفیق کا کیچ بن گئے، اسی جوڑی نے چند اوورز بعد فاف ڈو پلیسس کو بھی ایک رن پر میدان بدر کردیا۔
روبن پیٹرسن جب پانچ رنز پر ذوالفقار کی تیسری وکٹ بنے تو اس وقت مجموعی اسکور 222 تھا، اختتامی اوورز میں سعید اجمل کو بھی سخت محنت کا صلہ وکٹ کی صورت میں مل ہی گیا،انھوں نے ورنون فلینڈر کو 3 رنز پر ایل بی ڈبلیوکیا۔ جس وقت پہلے دن کے کھیل کا اختتام ہوا ہاشم آملا 118 اور ڈیل اسٹین 13 رنز پر کھیل رہے تھے۔
ابوظہبی میں کھیلے جارہے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقا کے ہاشم آملہ نے شاندار بلے بازی کرتےہوئے 118 رنز اسکور کئے جب کہ پاکستان کے ذوالفقار بابر اور محمد عرفان نے شاندار بالنگ کرتےہوئے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔ جنوبی افریقا نے پہلے روز8 وکٹ پر 245 رنز بنائے، پال ڈومنی نے ففٹی اسکور کی، 35 برس کی عمر میں ڈیبیو کرنے والے ذوالفقار بابر نے تین وکٹیں لیں، محمد عرفان نے آغاز میں ہی2کھلاڑیوں کو آؤٹ کرکے پروٹیز کو ڈگمگانے پر مجبور کیا۔ پاکستانی بولرز نے جنوبی افریقی بیٹنگ لائن پر بڑھ چڑھ کرحملے کیے مگر قسمت کی مہربانی سے ہاشم آملا اپنی ٹیم کے اسکور کو قدرے بہتر بنانے میں کامیاب رہے۔
مہمان ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا مگر آغاز میں گریم اسمتھ کو اس پر پچھتانا پڑ گیا جب تیسرے اوور میں دراز قد فاسٹ بولر محمد عرفان نے الویرو پیٹرسن (3)کو پویلین بھیج دیا، شارٹ پچ گیند نے حریف بیٹسمین کو پریشان کیا، فرسٹ لیگ پر موجود شان مسعود پہلی کوشش میں کیچ قابو نہیں کرپائے مگر اس سے پہلے کہ گیند فیلڈ سے ٹکراتی انھوں نے فوراً اسے اچک لیا، ٹخنے کی سرجری کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آنے والے کپتان گریم اسمتھ (15) عرفان کی گیند پر وکٹوں کے عقب میں عدنان اکمل کا کیچ قرار پائے۔
فیلڈ امپائر نے انھیں زوردار اپیل کے باوجود ناٹ آؤٹ قرار دیا جس پر فوری طور پر تھرڈ امپائر سے رجوع کر کے فیصلے کو اپنے حق میں کامیابی سے تبدیل کرایا گیا، اب نمبر ایک اور سینئر کھلاڑی جیک کیلس کا تھا وہ بھی کاٹ بی ہائنڈ ہوئے مگر وکٹ جنید خان کو ملی، انھوں نے 5 رنز اسکور کیے جبکہ ٹیم کا ٹوٹل 43 تھا، تین وکٹیں گرنے کے بعد پروٹیز نے احتیاط پسندی کی انتہا کردی، اس طرح پہلے سیشن میں وہ مزید کسی نقصان سے محفوظ رہے تاہم لنچ کے بعد ابراہم ڈی ویلیئرز نازک حالات میں ٹیم کا ساتھ اس وقت چھوڑ گئے ۔
جب ان کی بہت زیادہ ضرورت تھی، ذوالفقار بابر کی گیند پیڈ سے ٹکرا کر فرسٹ سلپ میں گئی، یونس خان نے اسے اچکنے میں تھوڑی سستی دکھائی مگر جیسے ہی انھوں نے ڈی ویلیئرز کو آگے کی جانب بڑھتے دیکھا فوراً گیند عدنان اکمل کی جانب اچھالی جنھوں نے بیلز اڑادیں، تھرڈ امپائر کو رن آؤٹ کا فیصلہ کرنے میں کافی دیر لگی، ڈی ویلیئرز کا پاؤں لائن کے اوپر دکھائی دے رہا تھا تاہم انھیں آؤٹ قرار دے دیا گیا۔ آملا اور ڈی ویلیئرز کے درمیان 61 رنز کی شراکت ہوئی ، اس دوران ہاشم آملا بھی خوش قسمتی سے2 مرتبہ رن آؤٹ سے محفوظ رہے۔
دوسری بار جب انھیں موقع ملا تو انفرادی اسکور17تھا، آملا نے اپنے کیریئر کی 20 ویں سنچری ذوالفقار بابر کی گیند پر سنگل سے مکمل کی، اس کے لیے انھوں نے 201 گیندوں کا سامنا کیا، ان کی پال ڈومنی کے ساتھ پانچویں وکٹ کیلیے 95 رنز کی قیمتی شراکت ہوئی، اس خطرناک ثابت ہوتی جوڑی کا خاتمہ ذوالفقار بابر نے کیا، ڈومنی ان کا پہلا شکار بنے جب 57 کے انفرادی اسکور پر سوئپ کی کوشش میں وہ اسکوائر لیگ پر اسد شفیق کا کیچ بن گئے، اسی جوڑی نے چند اوورز بعد فاف ڈو پلیسس کو بھی ایک رن پر میدان بدر کردیا۔
روبن پیٹرسن جب پانچ رنز پر ذوالفقار کی تیسری وکٹ بنے تو اس وقت مجموعی اسکور 222 تھا، اختتامی اوورز میں سعید اجمل کو بھی سخت محنت کا صلہ وکٹ کی صورت میں مل ہی گیا،انھوں نے ورنون فلینڈر کو 3 رنز پر ایل بی ڈبلیوکیا۔ جس وقت پہلے دن کے کھیل کا اختتام ہوا ہاشم آملا 118 اور ڈیل اسٹین 13 رنز پر کھیل رہے تھے۔