ایچ آر سی پی کا ایک اہم سیمینار
zahedahina@gmail.com
zahedahina@gmail.com
ہال میں خنکی تھی۔ دیواروں پرکنول روشن تھے۔ نشستوں پر بیٹھے ہوئے لوگ تقریریں کرنے والوں کی باتیں توجہ سے سن رہے تھے اور تقریب تھی سندھ رائٹرز/آرٹسٹس کنونشن کی۔ تین نشتوں پر مشتمل اس محفل کی میزبانی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے کراچی چیپٹر کی طرف سے تھی۔ اس سے پہلے لاہور کے ایچ آر سی پی چیپٹر نے بھی ایک ایسی ہی محفل کا اہتمام کیا تھا اور وہاں بھی آزادی تحریر و تقریر کے مسئلے پر گرما گرم بحث رہی تھی۔ کراچی کی اس محفل کے تین سیشن ہوئے اور اس میں تین مقالے پڑھے گئے جن پر جوش وخروش سے بحث کا بازار گرم ہوا۔ ایچ آر سی پی کے آئی اے رحمان صاحب قلم اٹھاتے ہیں تو کھل کر لکھتے ہیں اور باتیں بھی اسی طرح دو ٹوک کرتے ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ زندہ رہنے اور آزادی کا بنیادی انسانی حق اس سماج میں پس پشت ڈال دیا جاتا ہے جہاں حکومت کی کارکردگی ناقص ہو اور انتہا پسند عناصر اپنی مرضی کے مطابق لوگوں کو ہلاک کرتے ہوں۔ ان سے تعلیم کا اور طبی سہولتوں کا حق چھینتے ہوں۔ اس روز کنونشن کا آغاز کرتے ہوئے انھوں نے کہا خدا کا شکر ہے کہ اس ملک کے کچھ لوگ اب بھی سوچتے ہیں۔ ان کا اشارہ ادیبوں، صحافیوں اورفنکاروں کی طرف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک زمانہ تھا جب حکومتیں اور افواج لوگوں کو ہلاک کرتی تھیں لیکن اب ہم عام لوگوں کو یہ کام کرتے دیکھتے ہیں۔ ایک ایسی صورتحال میں ایچ آر سی پی کا خیال ہے کہ لکھنے والوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ بولنے کی آزادی صحافیوں کے لیے اہم ہے لیکن اب یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کئی موضوعات ایسے ہیں جن پر قلم اٹھانے کا حق ان کا بھی نہیں سمجھا جاتا۔ انھوں نے یہ کہا کہ ادیبوں، صحافیوں، فنکاروں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے ہم اس مسئلے پر سوچنا چاہتے ہیں کہ ادیب، صحافی اور فنکار حقوق انسانی کے معاملات کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔
اس روز 'اکیسویں صدی اور ادیب' کے موضوع پر جناب سحر انصاری نے مقالہ پڑھا۔ اس پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر محمد علی صدیقی کر رہے تھے۔ سحر صاحب نے یہ بات خوب کہی کہ جب ہم بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں داخل ہو رہے تھے تو ادیبوں نے نئی صدی کے چیلنج کو سامنے نہیں رکھا اور انھوں نے اسے محض کیلنڈر کے ایک ورق کی تبدیلی خیال کیا۔ یہی بے اعتنائی تھی جس کی وجہ سے آج ادیبوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور نئی نسل سے ان کا رشتہ ٹوٹ سا گیا ہے۔ ان کے مقالے پر ظفر اقبال، نذیر لغاری، عطیہ دائود، غازی صلاح الدین، اور پیرزادہ قاسم نے گفتگو کی۔ غازی صلاح الدین کا یہ نکتہ بہت درست تھا کہ جب صحافی اظہار کی آزادی طلب کرتے ہیں، تو ایسا وہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ضرورتوں کے تحت نہیں کرتے۔ اس طرح وہ دوسروں کا راستہ بھی ہموار کرتے ہیں اور ادیبوں، شہری آزادیوں کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو اس سلسلے میں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔
دوسرے سیشن میں 'حقوق انسانی کی جدوجہد میں ادیبوں اور فنکاروں کا کردار' کے موضوع پر مجھے اپنا مقالہ پیش کرنا تھا۔ میرے خیال میں یہ موضوع اتنا وسیع تھا کہ فنکاروں کے کردار کو بیان کرنے کی ذمے داری میں نے مصور اورمعروف نقاد نیلوفر فرخ پر چھوڑ دی اور اپنے مقالے کو صرف ادیبوں تک محدود رکھا۔ میرا کہنا تھا کہ ہمارا سماج انتشار، تضادات اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کا شکار ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو ادیبوں نے اپنی ذمے داریاں اس طرح ادا نہیں کیں جو ان کا فرض تھا۔ ان معاملات کی روشنی میں اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو قدرے مایوسی ہوتی ہے۔ سابق مشرقی پاکستان میں ستم کے کوہ گراں ٹوٹے لیکن ہمارے ادیبوں کی اکثریت خاموش رہی بلکہ کچھ تو ایسے بھی تھے جو خون بہانے والوں کو داد و تحسین سے نوازتے رہے۔ آج بھی ہمارے اطراف خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں۔ ان کا کھوج لگانے کی کوشش کی جائے تو تشدد زدہ اور مسخ شدہ لاشیں سڑک پر پھینک دی جاتی ہیں۔ ایک طرف ان کے کھوجیوں سے نجات ہو جاتی ہے دوسری طرف یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ''خاموش رہو'' لیکن کیا ہمیں واقعی خاموش رہنا چاہیے؟ ہندوئوں، عیسائیوں اور سکھوں پر عرصۂ حیات تنگ ہے۔ اقلیتیں جس خوف و ہراس کا شکار ہیں اس کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ ان کی عبادت گاہوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے اول تو اس کی خبر نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ عورتوں پر زندگی حرام کر دی گئی ہے، بچے جبری مشقت کی چکی میں باریک پیسے جاتے ہیں۔ افغان، بنگالی، برمی اور دوسرے تارکین وطن پناہ گزین کے طور پر اپنے انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ پانی جو قدرت کی عطا ہے ہمارے شہریوں کو نہیں ملتا۔ بھوک ان کی گردنیں چبا رہی ہے۔ مفلسی نے بچیوں کو بازار میں لا بٹھایا ہے اور اسی عذاب سے کم عمر بچے اور تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے دوچار ہیں۔ زندہ رہنے کے حق سے تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی حقوق سے ہمارے لوگ محروم کر دیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور کی ہر شق اور اس کی ذیلی شق ہماری ریاست اور غیر ریاستی متشدد عناصر پامال کر رہے ہیں۔ لیکن ہم میں سے بیشتر لکھنے والے ان معاملات سے بے اعتنائی برتتے ہیں۔
ہمارے تمام خواب شکستہ ہیں، ہمارے تمام دعوے محض جھوٹ ہیں۔ ہمارے سب سے درماندہ صوبے بلوچستان میں ریاستی اداروں نے ہر انسانی حق کی نفی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ پاکستان اور بلوچستان کے بدن پر نیابتی جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ تزویراتی گہرائی حاصل کرنے کے خواب آج بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ جبر و استبداد کیا رنگ لائے گا؟ اس بارے میں آخری فیصلہ مقتدر قوتیں نہیں کر سکیں گی۔ آخری فیصلہ وقت اور تاریخ کا ہوگا اور ہم ادیب اور فنکار یہ اعتراف بھی کر لیں تو مناسب ہوگاکہ حقوق انسانی کی پاسداری میں چند کو چھوڑ کر ہم میں سے بیشتر ناکام رہے ہیں۔
میرا مؤقف تھا کہ حقوق انسانی کی پاسداری اور شہری آزادیوں کی لڑائی ہمارے صحافیوں نے بہت جم کر لڑی ہے اور متعدد اس میں اتنے آگے گئے کہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سال بہ سال اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے جان سے جانے والے صحافیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور آزادی تحریر و تقریر کی لڑائی میں ان کا کردار ادیبوں کی نسبت کہیں زیادہ شاندار ہے۔ یہ ایک طویل مقالہ تھا جو پھر کسی موقعے پر آپ لوگوں کی نذر کروں گی۔ اس مقالے پر گفتگو میں خدا بخش ابڑو، کرن سنگھ اور توقیر چغتائی نے حصہ لیا۔ اس سیشن کی صدارت محترمہ زبیدہ مصطفی کر رہی تھیں۔
آخری سیشن میں 'کلچر اور ہمارے عہد کے مسائل' پر معروف آرٹسٹ اور آرٹ کی نقاد محترمہ نیلوفر فرخ نے تفصیلی گفتگو کی۔ دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح ان کا بھی یہی موقف تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے پاکستانی کلچر کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اس سیشن میںبھی گرما گرم بحث رہی جس میں معروف آرٹسٹ عبدالفتح دائود پوتہ پیش پیش تھے۔ وہ یہ کہنے سے نہ چوکے کہ پاکستان میں دانشوروں اور فنکاروں کی اکثریت ''سرکار'' کی ہاں میں ہاں ملاتی رہی ہے۔ انھوں نے یہ بات بھی کھل کر کہی کہ ان دنوں فنکار جو کام کر رہے ہیں، ان کی اکثریت کمرشل ازم کا شکار ہے۔ وہ فن کے قابلِ فروخت نمونے بنا رہے ہیں، یا اس راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں جو ان کی سماجی حیثیت میں اضافہ کر سکے۔
اس سیشن میں معروف ادیب اور ڈرامہ نگار نور الہدیٰ شاہ، منیزہ شمسی، مہر افروز، ایس ایم شاہد، ڈاکٹر محمد علی بھٹی اور نعمت اللہ خلجی نے بحث میں حصہ لیا۔ شام سے کچھ پہلے یہ محفل جب ختم ہوئی تو سوچنے اور خود تنقیدی کے لیے بہت سے پہلو چھوڑ گئی۔ ایچ آر سی پی کا مقصد بھی یہی تھا کہ آج کے حساس موضوعات پر ادیب، شاعر اور فنکار مل کر بیٹھیں، بحث کریں اور کچھ نئی راہیں نکالیں۔
ایچ آر سی پی کا قیام 1987ء کے مشکل زمانوں میں ہوا تھا۔ یہ وہ دن تھے جب کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سال بھر بعد کوئی طیارہ حادثے کا شکار ہو جائے گا اور ایک سیاہ دور اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ اس دور نے پاکستان کی راہ میں ایسی بارودی سرنگیں بچھا دیں جو کم ہونے کے بجائے آج بھی بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود حقوق انسانی کے سرگرم اداروں، اپنی بات کہنے پر تلا ہوا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، منتخب ادارے، عوامی حقوق دلانے کے لیے پُرجوش عدلیہ اور شہری آزادیوں کے لیے لڑنے والوں کی تعداد میں شب و روز اضافہ ہو رہا ہے۔ آزادی تحریر و تقریر پر اصرار کرنے اور خود تنقیدی کرنے والوں سے ہی یہ امید بندھتی ہے کہ آنے والے دن مشکل سہی لیکن اتنے مشکل نہ ہوں گے کہ ان سے نجات حاصل نہ کی جا سکے۔
شاید بدترین آمریت ہی وہ سبب بن جاتی ہے کہ ہم آزادی اور بیداری کے سفر پر نکلیں اور کامیاب و کامران ہوں۔ جیسا کہ پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوںمیں یہی سفر جاری ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ زندہ رہنے اور آزادی کا بنیادی انسانی حق اس سماج میں پس پشت ڈال دیا جاتا ہے جہاں حکومت کی کارکردگی ناقص ہو اور انتہا پسند عناصر اپنی مرضی کے مطابق لوگوں کو ہلاک کرتے ہوں۔ ان سے تعلیم کا اور طبی سہولتوں کا حق چھینتے ہوں۔ اس روز کنونشن کا آغاز کرتے ہوئے انھوں نے کہا خدا کا شکر ہے کہ اس ملک کے کچھ لوگ اب بھی سوچتے ہیں۔ ان کا اشارہ ادیبوں، صحافیوں اورفنکاروں کی طرف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک زمانہ تھا جب حکومتیں اور افواج لوگوں کو ہلاک کرتی تھیں لیکن اب ہم عام لوگوں کو یہ کام کرتے دیکھتے ہیں۔ ایک ایسی صورتحال میں ایچ آر سی پی کا خیال ہے کہ لکھنے والوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ بولنے کی آزادی صحافیوں کے لیے اہم ہے لیکن اب یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کئی موضوعات ایسے ہیں جن پر قلم اٹھانے کا حق ان کا بھی نہیں سمجھا جاتا۔ انھوں نے یہ کہا کہ ادیبوں، صحافیوں، فنکاروں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے ہم اس مسئلے پر سوچنا چاہتے ہیں کہ ادیب، صحافی اور فنکار حقوق انسانی کے معاملات کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں۔
اس روز 'اکیسویں صدی اور ادیب' کے موضوع پر جناب سحر انصاری نے مقالہ پڑھا۔ اس پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر محمد علی صدیقی کر رہے تھے۔ سحر صاحب نے یہ بات خوب کہی کہ جب ہم بیسویں صدی سے اکیسویں صدی میں داخل ہو رہے تھے تو ادیبوں نے نئی صدی کے چیلنج کو سامنے نہیں رکھا اور انھوں نے اسے محض کیلنڈر کے ایک ورق کی تبدیلی خیال کیا۔ یہی بے اعتنائی تھی جس کی وجہ سے آج ادیبوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور نئی نسل سے ان کا رشتہ ٹوٹ سا گیا ہے۔ ان کے مقالے پر ظفر اقبال، نذیر لغاری، عطیہ دائود، غازی صلاح الدین، اور پیرزادہ قاسم نے گفتگو کی۔ غازی صلاح الدین کا یہ نکتہ بہت درست تھا کہ جب صحافی اظہار کی آزادی طلب کرتے ہیں، تو ایسا وہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ضرورتوں کے تحت نہیں کرتے۔ اس طرح وہ دوسروں کا راستہ بھی ہموار کرتے ہیں اور ادیبوں، شہری آزادیوں کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو اس سلسلے میں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔
دوسرے سیشن میں 'حقوق انسانی کی جدوجہد میں ادیبوں اور فنکاروں کا کردار' کے موضوع پر مجھے اپنا مقالہ پیش کرنا تھا۔ میرے خیال میں یہ موضوع اتنا وسیع تھا کہ فنکاروں کے کردار کو بیان کرنے کی ذمے داری میں نے مصور اورمعروف نقاد نیلوفر فرخ پر چھوڑ دی اور اپنے مقالے کو صرف ادیبوں تک محدود رکھا۔ میرا کہنا تھا کہ ہمارا سماج انتشار، تضادات اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کا شکار ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو ادیبوں نے اپنی ذمے داریاں اس طرح ادا نہیں کیں جو ان کا فرض تھا۔ ان معاملات کی روشنی میں اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو قدرے مایوسی ہوتی ہے۔ سابق مشرقی پاکستان میں ستم کے کوہ گراں ٹوٹے لیکن ہمارے ادیبوں کی اکثریت خاموش رہی بلکہ کچھ تو ایسے بھی تھے جو خون بہانے والوں کو داد و تحسین سے نوازتے رہے۔ آج بھی ہمارے اطراف خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں۔ ان کا کھوج لگانے کی کوشش کی جائے تو تشدد زدہ اور مسخ شدہ لاشیں سڑک پر پھینک دی جاتی ہیں۔ ایک طرف ان کے کھوجیوں سے نجات ہو جاتی ہے دوسری طرف یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ''خاموش رہو'' لیکن کیا ہمیں واقعی خاموش رہنا چاہیے؟ ہندوئوں، عیسائیوں اور سکھوں پر عرصۂ حیات تنگ ہے۔ اقلیتیں جس خوف و ہراس کا شکار ہیں اس کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔ ان کی عبادت گاہوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے اول تو اس کی خبر نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ عورتوں پر زندگی حرام کر دی گئی ہے، بچے جبری مشقت کی چکی میں باریک پیسے جاتے ہیں۔ افغان، بنگالی، برمی اور دوسرے تارکین وطن پناہ گزین کے طور پر اپنے انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ پانی جو قدرت کی عطا ہے ہمارے شہریوں کو نہیں ملتا۔ بھوک ان کی گردنیں چبا رہی ہے۔ مفلسی نے بچیوں کو بازار میں لا بٹھایا ہے اور اسی عذاب سے کم عمر بچے اور تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے دوچار ہیں۔ زندہ رہنے کے حق سے تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی حقوق سے ہمارے لوگ محروم کر دیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی منشور کی ہر شق اور اس کی ذیلی شق ہماری ریاست اور غیر ریاستی متشدد عناصر پامال کر رہے ہیں۔ لیکن ہم میں سے بیشتر لکھنے والے ان معاملات سے بے اعتنائی برتتے ہیں۔
ہمارے تمام خواب شکستہ ہیں، ہمارے تمام دعوے محض جھوٹ ہیں۔ ہمارے سب سے درماندہ صوبے بلوچستان میں ریاستی اداروں نے ہر انسانی حق کی نفی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ پاکستان اور بلوچستان کے بدن پر نیابتی جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ تزویراتی گہرائی حاصل کرنے کے خواب آج بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ جبر و استبداد کیا رنگ لائے گا؟ اس بارے میں آخری فیصلہ مقتدر قوتیں نہیں کر سکیں گی۔ آخری فیصلہ وقت اور تاریخ کا ہوگا اور ہم ادیب اور فنکار یہ اعتراف بھی کر لیں تو مناسب ہوگاکہ حقوق انسانی کی پاسداری میں چند کو چھوڑ کر ہم میں سے بیشتر ناکام رہے ہیں۔
میرا مؤقف تھا کہ حقوق انسانی کی پاسداری اور شہری آزادیوں کی لڑائی ہمارے صحافیوں نے بہت جم کر لڑی ہے اور متعدد اس میں اتنے آگے گئے کہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سال بہ سال اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے جان سے جانے والے صحافیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور آزادی تحریر و تقریر کی لڑائی میں ان کا کردار ادیبوں کی نسبت کہیں زیادہ شاندار ہے۔ یہ ایک طویل مقالہ تھا جو پھر کسی موقعے پر آپ لوگوں کی نذر کروں گی۔ اس مقالے پر گفتگو میں خدا بخش ابڑو، کرن سنگھ اور توقیر چغتائی نے حصہ لیا۔ اس سیشن کی صدارت محترمہ زبیدہ مصطفی کر رہی تھیں۔
آخری سیشن میں 'کلچر اور ہمارے عہد کے مسائل' پر معروف آرٹسٹ اور آرٹ کی نقاد محترمہ نیلوفر فرخ نے تفصیلی گفتگو کی۔ دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح ان کا بھی یہی موقف تھا کہ جنرل ضیاء الحق نے پاکستانی کلچر کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اس سیشن میںبھی گرما گرم بحث رہی جس میں معروف آرٹسٹ عبدالفتح دائود پوتہ پیش پیش تھے۔ وہ یہ کہنے سے نہ چوکے کہ پاکستان میں دانشوروں اور فنکاروں کی اکثریت ''سرکار'' کی ہاں میں ہاں ملاتی رہی ہے۔ انھوں نے یہ بات بھی کھل کر کہی کہ ان دنوں فنکار جو کام کر رہے ہیں، ان کی اکثریت کمرشل ازم کا شکار ہے۔ وہ فن کے قابلِ فروخت نمونے بنا رہے ہیں، یا اس راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں جو ان کی سماجی حیثیت میں اضافہ کر سکے۔
اس سیشن میں معروف ادیب اور ڈرامہ نگار نور الہدیٰ شاہ، منیزہ شمسی، مہر افروز، ایس ایم شاہد، ڈاکٹر محمد علی بھٹی اور نعمت اللہ خلجی نے بحث میں حصہ لیا۔ شام سے کچھ پہلے یہ محفل جب ختم ہوئی تو سوچنے اور خود تنقیدی کے لیے بہت سے پہلو چھوڑ گئی۔ ایچ آر سی پی کا مقصد بھی یہی تھا کہ آج کے حساس موضوعات پر ادیب، شاعر اور فنکار مل کر بیٹھیں، بحث کریں اور کچھ نئی راہیں نکالیں۔
ایچ آر سی پی کا قیام 1987ء کے مشکل زمانوں میں ہوا تھا۔ یہ وہ دن تھے جب کسی کو معلوم نہیں تھا کہ سال بھر بعد کوئی طیارہ حادثے کا شکار ہو جائے گا اور ایک سیاہ دور اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ اس دور نے پاکستان کی راہ میں ایسی بارودی سرنگیں بچھا دیں جو کم ہونے کے بجائے آج بھی بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود حقوق انسانی کے سرگرم اداروں، اپنی بات کہنے پر تلا ہوا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، منتخب ادارے، عوامی حقوق دلانے کے لیے پُرجوش عدلیہ اور شہری آزادیوں کے لیے لڑنے والوں کی تعداد میں شب و روز اضافہ ہو رہا ہے۔ آزادی تحریر و تقریر پر اصرار کرنے اور خود تنقیدی کرنے والوں سے ہی یہ امید بندھتی ہے کہ آنے والے دن مشکل سہی لیکن اتنے مشکل نہ ہوں گے کہ ان سے نجات حاصل نہ کی جا سکے۔
شاید بدترین آمریت ہی وہ سبب بن جاتی ہے کہ ہم آزادی اور بیداری کے سفر پر نکلیں اور کامیاب و کامران ہوں۔ جیسا کہ پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوںمیں یہی سفر جاری ہے۔