پاکستان کے تیل کے اٹھارہ کروڑ ذخائر

تعجب ہے، حیرت ہے، کمال ہے بلکہ انگشت بدنداں اور ناطقہ سربگریباں والی بات ہے کہ اتنی بڑی ہارٹ بریکنگ، لیور بریکنگ...

barq@email.com

تعجب ہے، حیرت ہے، کمال ہے بلکہ انگشت بدنداں اور ناطقہ سربگریباں والی بات ہے کہ اتنی بڑی ہارٹ بریکنگ، لیور بریکنگ، کِڈنی بریکنگ، بون بریکنگ، نوز بریکنگ، ٹوتھ بریکنگ اور جا بریکنگ نیوز آئی ہے اور کسی کے کانوں پر بھیڑ بکری کچھوا چوہا تو چھوڑ کوئی جوں اور پسو تک نہیں رینگی، حالانکہ اس دلدوز، جگر دوز، سینہ دوز، عقل خراش، بلکہ جیب تراش خبر پر ایک شور، حشر برپا ہونا چاہیے تھا،

اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

کیونکہ یہ خبر ایسی ہے کہ کوئی بحرالکاہل کے ہمالیہ پر چڑھ جائے، بحر اوقیانوس میں صحرائے اعظم کے گرنے اور کسی سیاستدان کے ایمان دار ہونے پر آسانی سے یقین کر لے گا لیکن اس خبر پر یقین ذرا مشکل کام ہے،

لپٹنا پرنیاں میں شعلہ آتش کا آساں ہے

ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوزِ غم چھپانے کی

اور پھر میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ موجود ہے، انتہائی فرض شناس دیانتدار اور باتدبیر حکومتیں، انتہائی نیک ایمان دار اور ایثار پیشہ لیڈر، انتہائی قابل کفایت شعار اور کماؤ محکمے دنیا کے چنے ہوئی دیانتدار اور حلال خور افسر، جواہرات سے بھری ہوئی زمین اور اس پر مستزاد ''تیل'' سے بھرے ہوئے کروڑوں کنویں ... جو کسی اہتمام کے بغیر خودبخود تیل اگل رہے ہیں

خوش نصیب اور یہاں کون ہے ''گوہر'' کے سوا

سب کچھ اللہ نے دے رکھا ہے شوہر کے سوا


ضرور یہ کسی یہود و ہنود یا باہر والے ہاتھ کی کارستانی ہے ورنہ پاکستان کا اقتصادی بحران میں مبتلا ہونا ایسا ہے جیسے سمندر کو پیاسا کہا جائے اور سیاہ چن سے کسی کی لو لگنے کی خبر آئے یا صحرائے اعظم میں ریت کی قلت پیدا ہو جائے ۔۔۔ اتنے محفوظ، اتنے مضبوط اور اتنے باتدبیر ہاتھوں میں پاکستان کا اقتصادی بحران میں مبتلا ہونا ۔۔۔ اس صدی کی سب سے بڑی خبر ہے

کب ہوا؟ کیسے ہوا، کیوں کر ہوا

میں نہ مانوں گا اگر ہنگامہ محشر ہوا

وہ ملک اقتصادی بحران میں کیسے مبتلا ہو سکتا ہے جسے روز اول سے ایسے حکمران نصیب ہوئے جو اپنے گھر سے ٹفن میں کھانا لا کر کھاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بڑے بڑے نوالے ''قوم کے غم'' کے بھی کھاتے ہیں اپنے سو کام چھوڑ کر صرف ملک و قوم کی فلاح و بہبود کے لیے دن رات تدبر کرتے ہیں اور وہ بھی بالکل مفت ۔۔۔ سرکاری خزانے سے مجال ہے جو ایک پیسہ بھی اپنے اوپر خرچ کرتے ہوں سرکاری دفاتر میں سرکاری کام کرتے ہیں لیکن جیسے کوئی ذاتی دوست آتا ہے گھر سے بیوی کا فون آتا ہے یا کسی کو اپنے کسی ذاتی کام کے لیے فون کرتے ہیں تو فوراً سرکاری لائٹ بجھا دیتے ہیں سرکار کی کرسی سے اٹھ کر گھر سے لائی ہوئی چارپائی پر بیٹھ جاتے ہیں اور گھر ہی کا پانی پی کر بات کرتے ہیں۔۔۔ اگر کبھی سرکاری ضرورت کے لیے کسی کے ساتھ لنچ یا ڈنر کرتے ہیں تو اس کے ساتھ جیب سے سرکاری غم نکال کر وہ بھی کھاتے ہیں، جسے دیکھ کر ایک شاعر نے کہا کہ

قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ

رنج لیڈر کو بہت ہیں مگر آرام کے ساتھ

سرکاری دورے پر جب باہر جاتے ہیں تو اپنی جیب سے ٹکٹ خرید کر جاتے ہیں حتیٰ کہ اسمبلیوں میں بھی بے چارے اپنے ساتھ گھر سے کھانا لا کر کھاتے ہیں چونکہ خربوزے کو دیکھ کر ۔۔۔ خر ۔۔۔ بوزہ رنگ پکڑتا ہے اس لیے ان کے دیکھا دیکھی سرکاری عمال بھی اتنے ہی ایمان دار، دیانت دار اور قوم پر نثار ہوتے ہیں تو پھر آخر اقتصادی بحران کیسے پیدا ہو سکتا ہے اور پھر سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے پاس دنیا میں تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ بلکہ بحر ذخار ہے اور اس میں خدا نے ایسی برکت ڈالی ہے کہ کم ہونے کے بجائے وقت کے ساتھ ساتھ اور بڑھتے جا رہے ہیں اور

ایں سعادت بزور بازو نیست

تانہ بخشد خدائے بخشندہ

خدائے بخشندہ تیل کے جو کنویں مملکت خداداد پاکستان ... اور اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کو ودیعت کیے ہیں ان کی خاصیت ساری دنیا سے مختلف ہے ساری دنیا میں تیل کے جو ذخائر ہیں ان کے بارے میں ماہرین کہتے ہیں کچھ عرصے کے بعد یہ ذخیرے کم ہو جائیں گے بلکہ ختم بھی ہو سکتے ہیں اس وجہ سے تیل کے اکثر ممالک خاص طور پر سعودی عرب نے شمسی توانائی کے حصول کے لیے انتظامات شروع کیے ہیں، لیکن پاکستان کے تیل کے ذخائر کو ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے کیوں کہ یہ کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں پاکستان کی ابتداء میں اس کے پاس تیل کے صرف سات آٹھ کروڑ کنویں تھے جب مشرقی پاکستان نے اپنے تیل کے کنویں الگ کر لیے تب بھی اس کے پاس نو کروڑ کنویں تھے آج ان کنوؤں کی تعداد اٹھارہ کروڑ ہے اور پانچ سال میں شاید اس سے بھی دگنے ہو جائیں، سب سے خاص بات پاکستان کے کنوؤں کی یہ ہے کہ دنیا بھر میں جو کنویں ہوتے ہیں وہ زیر زمین ہوتے ہیں اور ان سے تیل نکالنے پر بڑا خرچہ آتا ہے لیکن پاکستان کے کنویں برسر زمین ہیں بلکہ چلتے پھرتے بھی ہیں کوئی کنواں کہیں بھی چلا جائے حتیٰ کہ ملک سے باہر بھی چلا جائے اس کا تیل پاکستان ہی میں پہنچتا ہے، دوسری خاص بات اس تیل میں یہ ہے کہ اسے صاف کرنے اور کام میں لانے کے لیے ریفائنریوں، پائپ لائنوں اور ٹینکروں کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ذرا سا زور دینے پر بھل بھل تیل نکلنے لگتا ہے اور وہ بھی خالص صاف بلکہ شفاف ۔۔۔ حکومت نے ان کنوؤں سے تیل حاصل کرنے کے لیے دو چار محکمے رکھے ہوئے ہیں جو برابر تیل نکالتے ہیں اور ہر مہینے پیداوار میں اضافہ بھی کرتے ہیں یہ تیل اتنا زیادہ ہے کہ حکومت کے سارے کل پرزے اس سے چکنے رہتے ہیں اور ہر گاڑی ہر مشین کے علاوہ ۔۔۔اس وقت سوئٹزر لینڈ کے ذخیرہ گاہ میں پاکستانی تیل کے ذخائر سب سے بڑے ہیں اور مزید بڑھ رہے ہیں، ایسے میں پاکستان اقتصادی بحران میں کیسے مبتلا ہو سکتا ہے یہ ضرور یہود و ہنود کی کوئی سازش ہو گی۔
Load Next Story