’’بنگلہ دیش انصاف اور انسانیت کا قتل‘‘

پروفیسر سلیم منصور خالد صاحب تعلق تو گوجرانوالہ سے رکھتے ہیں لیکن وہ عرصہ دراز سے لاہور کے...

tanveer.qaisar@express.com.pk

پروفیسر سلیم منصور خالد صاحب تعلق تو گوجرانوالہ سے رکھتے ہیں لیکن وہ عرصہ دراز سے لاہور کے ایک معروف کالج میں علمی خدمات انجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔ تحقیق ان کا اصل میدان اور نظریاتی اعتبار سے جماعت اسلامی سے گہرا تعلق ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان، بھارت کی تربیت یافتہ مکتی باہنی کا مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان کے خلاف ایکشن اور ہمارے مشرقی بازو کے آخری دنوں میں ''الشمس'' اور ''البدر'' تنظیموں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستان کی بقاء اور افواج پاکستان کا جس طرح ساتھ دیا، ان سب ''کہانیوں'' کی حقیقت سے جتنے آگاہ اور آشنا سلیم منصور خالد صاحب ہیں، شاید پاکستان میں کوئی اور تحقیق نگار ان سے زائد واقفیت اور آگاہی نہ رکھتا ہو۔

اسی سلسلے میں ان کی تصنیفات قابل فخر ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے بنگلہ دیش میں بھارت کی دوست وزیر اعظم محترمہ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے وابستگان اور دیگر افراد کے خلاف جو خونی مہم چلا رکھی ہے اور بنگلہ دیشی عدالتیں جس انداز میں ان بے گناہوں کو سنگین سزائیں سنا رہی ہیں، ان سب کی باز گشت ہمارے میڈیا میں سنی جا رہی ہے۔ جناب سلیم منصور خالد نے اسی سلسلے میں ہفت روزہ ''ایشیا'' کا ایک خصوصی نمبر شایع کیا ہے جس میں پاکستان کے بارہ اخبارات میں شایع ہونے والے 106 کالم و اداریئے، سترہ شخصیات کے پیغامات اور ''افکار و خیالات'' کے زیر عنوان 23 مضامین یک جا کر کے ایک شاندار تحقیقی اور علمی کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس خصوصی نمبر کو ''بنگلہ دیش: انصاف اور انسانیت کا قتل'' کا عنوان دیا گیا ہے۔ روزنامہ ''ایکسپریس'' میں شایع ہونے والے سات کالم بھی شامل اشاعت ہیں۔

اس خصوصی نمبر میں بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سینئر اور جونیئر وابستگان پر ڈھائے جانے والے بنگلہ دیشی حکمرانوں، انتظامیہ اور عدلیہ کے مظالم کی ایک صاف تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ تمام کالم نگاروں، تجزیہ کاروں اور دانشوروں نے کوشش کی ہے کہ مظلومین کا نقشہ کھینچ کر حکومت پاکستان اور عالمی اسلامی برادری کی توجہ اس سنگین خونریز مسئلے کی طرف مبذول کرائی جا سکے لیکن رہ رہ کر ایک کمی محسوس ہوتی ہے کہ بنگلہ دیش کے وہ کونسے اخبار، جرائد، نجی ٹی وی اور دانشور ہیں جو سینہ تان کر اپنے وطن کے مظلومین و مقہورین کا ساتھ دے رہے ہیں؟ اگر مرتب کنندگان اس طرف بھی توجہ فرماتے تو یقیناً یہ نمبر زیادہ وقیع اور معتبر ہوتا۔

یہ واقعہ ہم سب کے لیے باعث شرم ہے کہ عالم اسلام اور حکومت پاکستان نے حسینہ واجد کے ظلم و جبر کے سامنے بند باندھنے کی کوئی کوشش کی ہے نہ ان بنگلہ دیشی ججوں کا ضمیر جگانے کی جسارت کی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر آئین و قانون سے ماورا ہو کر محض ذاتی تعصب و عنادکی بنیاد پر مخالفین کو عمر قید اور موت کی سزائیں سنائی ہیں۔ ان مظالم کی طرف نہ تو زرداری، گیلانی و راجہ اشرف کی حکومت نے نظریں اٹھانے کا تکلف گوارا کیا نہ ہی موجودہ حکمران اس طرف توجہ دے رہے ہیں۔ آج جب کہ بنگلہ دیش میں معصوموں اور بے گناہوں کو پھانسیوں پر کھینچنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور ان پر بے شمار زندانوں کے دروازے کھولے جا رہے ہیں، پاکستان کی حکومتیں بھی خاموش ہیں اور دوسرے مسلمان ممالک بھی۔کیا ان مسلمان ممالک سے یہ توقع وابستہ کی جا سکتی ہے کہ وہ برما کے مظلوم مسلمانوں کی واقعی کوئی مدد کر سکتے ہیں؟ اگر ایک مسلمان ملک کے سبھی جج حضرات اپنے ہم وطن مسلمانوں کو اندھا دھند جیلوں میں ڈال رہے ہیں، ایسے میں امت اسلامیہ کس منہ سے برمی حکمرانوں کے اراکانی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج میں آواز بلند کر سکتے ہیں؟


''بنگلہ دیش: انصاف اور انسانیت کا قتل'' کے زیر مطالعہ خصوصی نمبر میں کئی معزز اور محترم شخصیات نے بطور خاص حکومت پاکستان کی طرف سے بنگلہ دیشی حکمرانوں کے خلاف آواز بلند نہ کرنے کا گلہ شکوہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر امیر جماعت اسلامی جناب سید منور حسن نے فرمایا ہے: ''حد تو یہ ہے کہ خود پاکستان میں ایک محدود احتجاج کے سوا کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس ظلم کے خلاف عالمی سطح پر رائے عامہ کو بیدار کرنا چاہیے تھا لیکن وزارت خارجہ کی طرف سے شرمناک طور پر اسے بنگلہ دیش کا داخلی معاملہ قرار دے دیا گیا۔'' اور جناب لیاقت بلوچ صاحب نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے وابستگان و دیگر کے خلاف بنگلہ دیشی ججوں کے سنائے گئے فیصلوں کے بارے میں کہا: ''مسلم لیگ ن کی حکومت کو فعال سفارت کاری کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور عالمی سطح پر بھی اس کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔'' افسوس اس امر کا ہے کہ جناب لیاقت بلوچ کی تقاریر اور خطبات جس ڈھیلے ڈھالے اسلوب کے حامل ہوتے ہیں، وہی رنگ ان کے مذکورہ شکوے میں بھی جھلک رہا ہے۔

بے رنگ و بے جذبہ۔ جسٹس (ر) محبوب احمد صاحب نے بھی ''چاہیے'' کی گردان پڑھتے ہوئے فرمایا: ''مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ ہماری حکومت اور اسلامی دنیا اس حوالے سے خاموش کیوں ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ، اسلامی کانفرنس تنظیم اور دیگر عالمی اداروں میں قراردادیں پیش کی جانی چاہئیں''۔ امام خانہ کعبہ محترم علامہ عبدالرحمن السدیس نے یہ فرمایا ہے: ''بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے قائم کیے گئے یہ تمام مقدمات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت بنگلہ دیشی سفارت خانوں میں بھی میمو رنڈم کی صورت پیش کرنا چاہیے۔'' درست کہا جناب نے لیکن وہ یہ پیغام دیتے ہوئے یہ بتانا (دانستہ؟) بھول گئے کہ ان کے ملک نے اب تک بنگلہ دیش کے مظلوموں (جن پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں) کا کس شکل میں ساتھ دیا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ بے بسوں کا ساتھ دینا بڑی بہادری اور جرأت کا کام ہے جب کہ حسینہ واجد کے پنجہ استبداد میں بلکنے والوں کے لیے ہم سب کے پاس عمل کا کوئی ہتھیار نہیں، محض لفظوں کی جگالی ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے اشارہ ابرو کے سامنے بنگلہ دیشی عدالتیں جھک کر رہ گئی ہیں۔ ہر جگہ انصاف کے قاتل نظر آتے ہیں۔ ہفتہ روزہ ''ایشیا'' کے خصوصی مدیر پروفیسر سلیم منصور خالد صاحب اور ان کے ساتھیوں کی تحسین کی جانی چاہیے کہ انھوں نے محنت و ریاضت کے ساتھ بنگلہ دیش کے مظلومین کی آواز ہم سب تک پہنچانے کے لیے شاندار خدمت انجام دی ہے۔ بنگلہ دیش میں اچھلنے والی ظلم و تعدی کی لہروں کی حقیقت جاننے کے لیے ''بنگلہ دیش: انصاف اور انسانیت کا قتل'' کے عنوان سے مرتب کیے جانے والے اس خصوصی نمبر کا مطالبہ از بس ضروری ہے۔ اخبار نویسوں ، صحافت کے اساتذہ، اینکر پرسنوں اور علمائے کرام کے لیے لازم ہے کہ وہ یک جا کی گئی ان تحریروں کا گہری نظر سے مطالعہ کریں اور ظالموں کے خلاف ممکنہ آواز بھی اٹھائیں۔ ''ایشیا'' ایسے سنجیدہ جریدے میں کبھی تصاویر شایع نہیں کی گئیں لیکن زیر نظر شمارے میں 64 رنگین تصاویر شامل کی گئی ہیں۔ اس کی کیا مجبوری تھی، اس کا ذکر اشارتاً سلیم منصور صاحب نے اپنے ''مقدمے'' میں کر دیا ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ مرتب کنندگان نے بنگلہ دیشی مظلوموں کی تصاویر شامل اشاعت کر کے اپنے پیغام کو مزید مضبوط اور وقیع کر دیا ہے۔ مناسب تھا کہ اب تک بنگلہ دیشی عدالتوں نے جن بے گناہوں کو سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں ، ان سب کی تصاویر بھی شایع کی جاتیں۔ ان جماعتی قائدین کی تعداد 9 ہے یعنی پروفیسر غلام اعظم، مطیع الرحمٰن نظامی، علامہ دلاور حسین سعیدی، عبدالقادر، مولانا آزاد وغیرہ۔ یہ خوں رنگ تصاویر دیکھ کر ہول اٹھتا اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔ معلوم نہیں بنگلہ دیش کی موجودہ مسلمان حکومت اپنے ہم وطن مسلمان بھائی، بہنوں، بیٹیوں اور بزرگوں پر یہ ظلم ڈھانے کی کس طرح جرأت و جسارت کر رہی ہے۔ خون کے آنسو رلا دینے والی ان 64 تصاویر میں سب سے المناک تصویر وہ ہے جس میں بنگلہ دیشی پولیس کے نوجوان ایک ضعیف شخص کی سفید ڈاڑھی مٹھیوں میں لے کر اس پر تشدد کر رہے ہیں۔ کیا ان مسلمانوں کی بخشش ہو گی؟
Load Next Story