دہشت گردی واضح حکمت عملی کا اعلان کیا جائے

ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں صوبائی وزیر قانون سے گلے ملتے ہوئے خودکش حمہ آور نے خود کو اڑا لیا۔

خیبر پختونخواہ کے سابق وزیراطلاعات میاں افتخار حسین کا بیٹا اور سینئروزیر بشیر احمد بلور بھی دہشت گردوں کے ہاتھوںجاں بحق ہو ئے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

ISLAMABAD:
ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں ایک خود کش حملے میں صوبہ خیبر پختون خوا کے وزیر قانون اسرار اللہ گنڈا پور سمیت 10 افراد جاں بحق اور 20زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ اسرار اللہ گنڈا پور کی رہائش گاہ پر عید الاضحی کے پہلے روز ہوا۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حملہ آور کی عمر بائیس سال کے لگ بھگ تھی اور اس نے صوبائی وزیر قانون سے گلے ملتے ہوئے خود کو اڑا لیا۔ حملے کی ذمے داری کالعدم تنظیم انصار المجاہدین نے قبول کر لی ہے۔ اسرار اللہ کی ہلاکت کے واقعے پر خیبر پختون خوا حکومت نے صوبے میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف حکومت کے عہدیداروں پر یہ تیسرا خود کش حملہ تھا ۔

اس سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک انصاف کے ایم پی اے فرید خان بھی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ مردان میں بھی تحریک انصاف کے ایک ایم پی اے ایک جنازہ میں خود کش حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ اسرار اللہ گنڈا پور کا تعلق خیبر پختونخوا کے ایک بڑے سیاسی گھرانے سے تھا۔ دہشتگردی میں جاں بحق ہونے والے تحریک انصاف کے تینوں رہنمائوں میں ایک قدر مشترک تھی کہ وہ آزاد امیدوار کے طور پر جیتے تھے اور بعدازاں تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔ اس سے پیشتر اے این پی کی حکومت دہشت گردوں کے خاص نشانے پر رہی۔ اے این پی کے وزیراطلاعات میاں افتخار حسین کا بیٹا اور سینئروزیر بشیر احمد بلور دہشت گردوں کے ہاتھوںجاں بحق ہو گئے تھے۔

اے این پی کی حکومت تو علی الاعلان دہشت گردوں کے خلاف تھی لہٰذا دہشت گردوں نے اس حکومت کو دبائو میں لانے کے لیے اس کے اہم سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو بطور خاص نشانہ بنایا۔ اے این پی حکومت کے برعکس تحریک انصاف حکومت نے انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن کے بجائے ان سے مذاکرات کرنے پر زور دیا مگر انتہا پسندوں نے اس جماعت کو بھی نہیں بخشا اور دہشت گردانہ کارروائیوں کو ان کے خلاف بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ تحریک انصاف کا اب بھی موقف ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کو مذاکرات سے حل کیا جائے۔ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو پھر آپریشن کیا جانا چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اتنے سانحے ہونے کے باوجود مذاکرات کو ہی اس مسئلے کا بہتر حل سمجھتی ہے۔ادھر آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل ہوتا ہے تو یہ اچھی بات ہے آپریشن آخری حل ہو گا۔


دہشت گردانہ کارروائیوں کے باوجود خیبر پختون خوا کابینہ نے وفاق سے امن مذاکرات میں تاخیر نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت بھی انتہا پسندوں سے مذاکرات کی حامی ہے لیکن وفاقی حکومت نے ابھی تک نہ مذاکرات کے ایجنڈے کا اعلان کیا ہے اور نہ مذاکراتی ٹیم کا' کہ حکومت کن بنیادوں پر مذاکرات کرے گی اور اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو آپریشن کرنے کی صورت میں اس نے اس کے لیے کیا تیاریاں کی ہیں۔ امن و امان کا مسئلہ حل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے نہ تو مذاکرات کے سلسلے میں کوئی پیشرفت ہورہی ہے اور نہ آپریشن کے حوالے سے کوئی تیاری نظر آ رہی ہے۔یہ صورت حال عوام میں کنفیوژن پیدا کر رہی ہے۔ بعض حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دور ہ امریکا کے بعد ہو گا۔ ملکی سیاسی صورت حال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف انتہا پسندوں سے مذاکرات کی حامی ہے لیکن سیاسی معاملے میں دونوں ایک دوسرے کے حریف ہیں۔

دونوں جماعتوں کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی کے حوالے سے بھی کوئی تعاون نظر نہیں آ رہا۔ اسی طرح جے یو آئی فضل الرحمن گروپ اور جے یو آئی سمیع الحق گروپ اور جماعت اسلامی بھی عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے حامی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ عسکریت پسندوں سے مذاکرات کی حامی ان تمام جماعتوں کے درمیان بھی باہمی اختلافات شدید ہیں اور انھوں نے عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے حوالے سے بھی آپس میں کوئی رابطہ یا تعاون نہیں کیا۔ یوں یہ سارا معاملہ الجھن کا شکار نظر آتا ہے۔ ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان مجوزہ مذاکرات سے قبل اپنی بعض شرائط کا اعلان کرچکی ہے۔وہ پاکستان کا آئین تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔طالبان نے دہشت گردی کی کارروائیاں بھی ترک کرنے کا اعلان نہیں کیا اگر وہ ایسا کرتے تو یہ خوش آیند امر ہوتا اور سب کو معلوم ہو جاتا کہ وہ امن پسند لوگ ہیں اور ہر صورت امن قائم کرنا چاہتے ہیں مگر اس کے برعکس وہ اپنی شرائط پر ڈٹے ہوئے اور حکومت کو دبائو میں لانے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیاں مسلسل کر رہے ہیں۔

طالبان بھی یہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ اپنی کارروائیوں کے ذریعے حکومت کو بیک فٹ پر کھیلنے پر مجبور کر رہے ہیں اور حکومت ان کے خلاف واضح حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے صرف بیانات کے ذریعے معاملہ حل کررہی ہے۔ ابھی تک طالبان کے خلاف سخت کارروائی کے لیے کوئی لائحہ عمل مرتب نہ کرنے پر انتہا پسند حکومت کو اپنے مقابل کمزور تصور کر رہے ہیں جیسا کہ سابق جمہوری حکومت بھی اپنے پانچ سالہ دور میں انتہا پسندوں کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہ کر سکی۔ اب پھر حکومتی ارکان دہشت گردی کی کارروائیوں میں مارے جا رہے ہیں مگر حکومت انتہا پسندوں کے خلاف کسی آپریشن کے بجائے صرف بیانات کا راستہ اپنائے ہوئے ہے۔ اگر حکومت انتہا پسندوں کے مقابل یونہی کمزوری دکھاتی رہی تو پھر دہشت گردی پر قابو نہ پایا جا سکے گا بلکہ یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ دہشت گردوں نے آج اسرار اللہ گنڈا پور کو نشانہ بنایا ہے کل کسی اور سیاسی رہنما کی باری آ جائے گی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا نے صوبائی وزیر قانون کی شہادت کے بعد تمام وزیروں' مشیروں اور ارکان اسمبلی کی سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، انھوں نے کسی بھی تقریب میں جانے سے پہلے تمام وزراء اور مشیروں کو متعلقہ پولیس اسٹیشن کو پیشگی اطلاع دینے اور دو سے چار سیکیورٹی گارڈز رکھنے کی ہدایت کی۔ جب سیکیورٹی ادارے خود دہشت گردوں کے ہاتھوں محفوظ نہیں اور اب تک بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہید ہو چکے ہیں'ایسے میں دو چار سیکیورٹی گارڈز ارکان حکومت کا کیا تحفظ کر پائیں گے۔ دہشت گرد منظم اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں' ان کا نیٹ ورک بھی کافی مضبوط ہے۔اگر دہشت گرد اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھتے ہیں اور مذاکرات کی جانب نہیں آتے تو حکومت کو ان کے خلاف بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے بھرپور آپریشن کرنا ہو گا۔ ملکی سلامتی اور امن و امان سب سے مقدم ہے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ کے پی کے حکومت نے اینٹی ٹیرر ازم ٹاسک فورس تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے۔ جدید ہتھیاروںسے لیس انتہا پسندوں کے مقابل ٹاسک فورس کو بھی جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں سے لیس کرنا ہو گا ورنہ یہ ٹاسک فورس بھی ناکام ہو جائے گی۔ حکومت فوری طور پر دہشت گردی کے خلاف واضح حکمت عملی کا اعلان کرے گومگو کی پالیسی سے یہ مسئلہ حل نہ ہو گا۔
Load Next Story