قربانی کے جانوروں کی آلائشیں

قوم نے سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کی مگر ساتھ ہی اس بار یہ متبرک دن بہت سی تلخ یادیں بھی چھوڑ گیا۔

پاکستان، افغانستان اور عراق میں عید کے موقع پر بم دھماکوں سے خوشی کا دن حزن و الم میں تبدیل ہو گیا۔ فوٹو؛ فائل

عیدالاضحی کا مبارک تہوار گزر گیا۔ قوم نے سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کی مگر ساتھ ہی اس بار یہ متبرک دن بہت سی تلخ یادیں بھی چھوڑ گیا۔ خیبر پختونخوا میں ایک خود کش بمبار نے اسرار اللہ گنڈا پور کے گلے لگ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں موقع پر موجودکئی افراد جاں بحق و زخمی ہو گئے۔ دوسری طرف افغانستان اور عراق میں نماز عید کے دوران عید گاہوں میں ہونے والے بم دھماکے بھی لاشوں کے ڈھیر چھوڑ گئے اور یوں یہ خوشی کا دن حزن و الم میں تبدیل ہو گیا۔ ہمارے وطن عزیز کے طول و عرض میں لاکھوں جانوروں کو اللہ کی راہ میں قربان کیا گیا مگر قربانیوں کی آلائشیں اٹھانے کا عمل بڑی حد تک ادھورا ہی رہا۔ضلعی حکومتوں نے اپنے طور پر اچھے انتظامات کیے تاہم اس قدر وسیع پیمانے پر ہونے والے اس عمل کو صرف حکومتی اہلکاروں کی ذمے داری پر چھوڑ دینا قرین انصاف نہیں ہو سکتا کہ اس کی بڑی ذمے داری خود قربانی کرنے والوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔


اس حوالے سے یہ مشورہ البتہ دیا جا سکتا ہے کہ سرکار کو ہر علاقے میں جانوروں کی قربانی کے لیے کوئی گرائونڈ مخصوص کر دینی چاہئیں تاکہ یہ الائشیں گلی محلوں میں بکھری نہ پڑی رہیں جن سے خاصا تعفن پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس قدر وسیع کام ایک وسیع تر قومی تربیت کا متقاضی ہے جس کا بندوبست ظاہر ہے ارباب بست و کشاد کو ہی کرنا ہو گا۔ جہاں تک قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت اور ان کے ذبیحہ کے لیے قصابوں کے رویوں کا تعلق ہے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جسے سب نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کی بنیاد بھی سرکاری اہلکاروں نے ہی استوار کی۔

دیہات سے شہروں میں جانور لانے والوں کو قدم قدم پر لوٹنے کے لیے غیر قانونی ناکے قائم تھے۔ یہ ایسا سلسلہ تھا جس میں حکومت ملوث نہیں تھی اور نہ ہی مختلف بہانوں سے وصول کی جانے والی یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی جا رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہر جانور کی قیمت میں کئی ہزار روپے کا اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا جب کہ آخر میں یہ ساری رقم بیچارے خریدار کے سر تھونپ دی گئی۔ اس سال قربانی کے جانوروں کی قیمت ناقابل تصور حد تک زیادہ تھی، یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ زیادہ تر اجتماعی قربانی کا رواج دیکھنے میں آیا کیونکہ ایک اوسط آمدنی والے شخص کے لیے اپنے طور پر بکرا خریدنا ممکن ہی نہ رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ لوگوں نے اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالنا زیادہ مناسب خیال کیا۔
Load Next Story