اُنھیں یاد رکھا جائے گا

وزیراعظم ہاؤس میں ایک خصوصی تقریب کے حوالے سے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اعلیٰ مہمانوں کے ساتھ مدعو تھے۔

tanveer.qaisar@express.com.pk

یہ ایک انتہائی سرد شام تھی۔ وزیراعظم ہاؤس میں ایک خصوصی تقریب کے حوالے سے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اعلیٰ مہمانوں کے ساتھ مدعو تھے۔ ہم چند اخبار نویس بھی وہاں موجود تھے۔ ابھی تقریب کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوا تھا۔ ہال میں جنرل کیانی صاحب پوری وردی کے ساتھ سب کی نظروں کا محور بنے ہوئے تھے۔ آہستہ آہستہ اخبار نویس بھی ان کے گرد اکٹھے ہونے لگے۔ جنرل کیانی صاحب نے سگریٹ سلگایا تو بعض صحافیوں کی طرف سے خوش دلی سے آواز آئی: ''شکریہ جنرل صاحب، اب ہم بھی سگریٹ نوشی کرسکیں گے''۔ کیانی صاحب حسبِ معمول زیرِ لب مسکرائے۔ جہاں جنرل کیانی صاحب موجود ہوں، یہ کیسے ممکن ہے کہ صحافی اُن سے سوال نہ کریں؟ سو، ہماری طرف سے کوششیں ہونے لگیں۔ محتاط انداز میں ۔ بار بار ، ہلکے پھلکے اسلوب میں۔ اور جنرل صاحب تھے کہ ہر سوال کے جواب میں نہایت متانت سے خاموشی کا اظہار کیے جارہے تھے۔ سگریٹ مسلسل ان کی انگلیوں میں سلگ رہا تھا اور ہماری خفت نما بے چینی بڑھ رہی تھی۔

ان دنوں ہمارے الیکٹرانک میڈیا کا ایک حصہ بوجوہ تسلسل کے ساتھ فوج کے بارے میں غیر محتاط اور بے بنیاد لہجہ اپنائے ہوئے تھا لیکن آئی ایس پی آر بھی خاموش تھا اور جنرل صاحب بھی جنھیں دباؤ کے باوجود قلب و ذہن پر قابو پانا آتا ہے۔ جب ہماری طرف سے گزارشانہ سوالات کا سلسلہ ختم ہونے کو نہ آیا تو جنرل کیانی نے لب کشائی کی: ''آپ لوگ خبریں شایع اور نشر کرنے کے شوق میں سیکیورٹی فورسز کے بارے میں جو کچھ کررہے ہیں، کیا کبھی آپ نے ایک لحظے کے لیے غور فرمایا کہ میرے جوانوں اور افسروں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟'' مَیں جنرل صاحب کے بالکل سامنے کھڑا ان کی گفتگو کے نوٹس لے رہا تھا۔ سلگتا ہوا سگریٹ انگلیوں سے جدا کیا جاچکا تھا۔ مَیں نے انھیں کہتے ہوئے سنا: ''ہم سردی کی شدت سے یہاں (وزیراعظم ہاؤس میں) کھڑے کانپ رہے ہیں، کبھی آپ نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ میرے وہ جوان جو اس وقت منفی ڈگری سینٹی گریڈ میں، بلند ترین پہاڑوں کی چوٹیوں پر کھڑے وطن کی حفاظت کررہے ہیں، وہ آپ لوگوں کی خبروں سے کس قدر (منفی طورپر) متاثر ہورہے ہوں گے؟ کیا آپ دانستہ ان کا مورال ڈاؤن کرنا چاہتے ہیں؟'' انھوں نے جس صبر، تحمل اور بردبار لہجے میں دل کو چھو لینے والی دیگر باتیں کہیں، ہم سب کا خیال تھا کہ جنرل عموماً اس لہجے میں گفتگو نہیں کیا کرتے لیکن کیانی صاحب نے پاکستان کی عسکری تاریخ میں یہ لہجہ متعارف کروا کر ایک نیا سنگ بنیاد رکھا۔ اس سرد شام ان کی کہی گئی باتیں دوسرے روز ہمارے اخبار میں بطور سیکنڈ لیڈ شایع ہوئیں اور تاریخ کا حصہ بن گئیں۔

29نومبر 2013ء کو اپنے معزز اور جانباز عہدے سے سبکدوش ہونے والے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے چھ سالہ دور میں صبروتحمل کا بار بار مظاہرہ کیا۔ یہاں تک کہ انھیں دو نجی ٹی وی ٹاک شوز میں کھلے بندوں دشنام دیا گیا لیکن وہ پھر بھی خاموش رہے۔ غالباً ان کے صبر کو آزمانے کا یہ آخری حربہ تھا۔ وہ خاصا ''شافی'' جواب دے سکتے تھے لیکن ملک و قوم کے استحکام ، ملک میں قیام امن اور جمہوریت کی مضبوطی کے جذبے سے سرشار انھوں نے مہربہ لب رہنا زیادہ مناسب سمجھا۔ ان کے اس جذبے کا ہمارے بعض حکمرانوں نے غلط ترجمہ کیا۔ مثال کے طور پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا یہ کہنا کہ ہم نے افواج پاکستان کے سربراہ جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ بنایا اور یہ کہ مَیں نے عدالت عظمیٰ کے سربراہ کو بحال کیا۔ واضح رہنا چاہیے کہ جنرل کیانی نے پارلیمنٹ میں ''حاضر'' ہوکر جو کردار اداکیا، یہ صرف اور صرف جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ان کا شاندار کردار تھا۔


جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یہ جو چھ سال گزارے ہیں، ان چھ برسوں کا ہر لمحہ ان کے لیے پُرآزمائش ہی رہا۔ انھوں نے ایک صدر مملکت سے جس طرح معاملہ کیا، امریکیوں سے جس طرح نمٹے اور جارح میڈیا کو جس شائستہ اسلوب کے ساتھ برداشت کیا، یہ ان کی شخصیت ہی کا حصہ تھا۔ وہ کسی اسکینڈل کا حصہ بنے نہ کسی دشمنِ پاکستان کو وطن کے خلاف زبان کھولنے اور دریدہ د ہنی کا موقع فراہم کیا۔ اب شاید وہ فرصت کے لمحات میں خود پر بیتے حیرت خیز لمحات کو یکجا کرکے کتاب کی شکل دیں تو بہت سی اَن کہی کہانیاں سامنے آسکیں گی۔ انھیں بہر حال کتاب ضرور لکھنی چاہیے کہ وہ خود بھی تو کتاب بینی کے خاصے شوقین ہیں۔ ان کے حروفِ مطبوعہ یقینا ہمارے عسکری ادب میں ایک شاندار اضافہ ہوں گے۔

نصف ملین سے زائد جوانوں اور افسروں کا مطلق صاحب ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس پس منظر میں گردن کا اکڑ جانا اور چال میں کبر و غرور کا درآنا کوئی غیر فطری بات نہیں ہوتی۔ بہت سے لمحات مطلق اقتدار کی طرف راغب کرنے کا باعث بنتے ہیں لیکن جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ان سب میسر لمحات کو مسترد کردیا اور ثابت کیا کہ وہ سرتاپا صرف ایک پیشہ ور سپاہی ہیں۔ گزشتہ چھ برسوں میں کئی مواقع ایسے آئے جب وہ آسانی کے ساتھ اقتدار پر قبضہ کرسکتے تھے۔ میڈیا نے تو اس سلسلے میں عوام کو ذہنی طور پر تیار بھی کرلیا تھا۔ یاد آتا ہے کہ جب مبینہ طور پر جنرل اور صدر مملکت کے درمیان کشیدگی عروج پر آئی تو اس شام مجھے لاہور کے ایک سینئر صحافی کا فون آیا۔ فرمایا :''کیا ہورہا ہے جناب اسلام آباد میں؟'' عرض کیا: کچھ خاص نہیں۔ اس پر انھوں نے فرمایا: ''بس گیم ختم ہوچکی ہے۔ گیلانی و زرداری کا اقتدار چند گھنٹوں کا مہمان ہے۔ کل صبح آپ جنرل کیانی کو بطور حکمران دیکھیں گے۔'' اُن کے لہجے کا تیقن مجھے حیران کرگیا۔ اگلے روز گیلانی و زرداری بدستور اقتدار میں تھے، صرف صدر صاحب علاج کے لیے دبئی روانہ ہوئے تھے۔

چند روز بعد وہ بھی سلامت واپس وطن آگئے۔ ان حالات میں جنرل کیانی آگے بڑھ کر اقتدار کی صراحی تھام لیتے تو کسی کو حیرت نہ ہوتی لیکن قدرت نے انھیں اس سانچے میں ڈھالا ہی نہ تھا۔ وہ اقتدار کے لوبھ میں آئے نہ کوئی انھیں اس طرف مائل و قائل کرنے کی جسارت کرسکا۔ وہ آئین میں دیے گئے اپنے کردار پر قانع رہے۔ ان کا یہ کردار یقینا ان کے بعد آنے والے صاحب کے لیے بھی قابل تقلید ہونا چاہیے۔ جنرل کیانی کو یقیناً عوام، سیاستدان اور عسکری حکام ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ انھیں ریٹائرمنٹ کے بعد اگر کوئی اور عہدہ تفویض نہیں بھی کیا جاتا تب بھی جنرل صاحب کا عسکری قد اتنا بلند ہے کہ وہ ذہنوں سے محو نہ ہوسکیں گے۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ جنرل کیانی سے بھی یقینا ًکوئی خطا، کوئی غلطی سرزد ہوئی ہوگی کہ وہ بھی ہماری طرح گوشت پوست کے انسان ہیں، فرشتہ نہیں۔ (جیساکہ انھوں نے 12اکتوبر 2013کو کاکول میں ملٹری اکیڈمی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے بھی کوئی غلطی سرزد ہوئی ہوگی) خطاؤں سے ماورا ہونے کا انھوں نے خود بھی کبھی اعلان کیا ہے نہ اصرار۔ وہ مسلسل چھ برس جس طرح دہشتگردوں سے نمٹے، دو مونہی امریکی سفارت کاری کا انھوں نے جس دانشمندی سے مقابلہ کیا اور مشرقی و مغربی سرحدوں پر ہمہ وقت منڈلاتے سایوں کو جس حکمت کے ساتھ وطن سے دور رکھا، رازوں اور اسرار سے معمور یہ کہانیاں وہ کبھی نہیں سنائیں گے۔ بس ان کا دل جانتا ہے کہ وہ ان حالات سے کیسے نبرد آزما ہوئے۔

گزشتہ چھ برسوں میں وطن عزیز کو کئی سنگین اور خونریز سانحات کا سامنا کرنا پڑا۔ سلالہ واقعہ، ایبٹ آباد آپریشن، جی ایچ کیو پر اپنے ہی ملک کے دہشتگردوں کی یلغار، کراچی کے نیول بیس اور کامرہ ائیربیس پرشدت پسندوں کے حملے، فوج کے خلاف حقانی اسکینڈل، جان کیری کی شرارتیں۔ ان سب نے جنرل کے اعصاب کو ہر طرح اور ہر رخ سے آزمایا لیکن وہ بھاگے نہ دشمن کے سامنے کسی بھی شکل میں سرنڈر کیا۔ انھوں نے بلوچستان میں بلوچ بچوں کے لیے نئی تعمیر شدہ فوجی چھاؤنی کو ملٹری کالج کی شکل دے کر ایک غیر معمولی خدمت انجام دی جسے بلوچستان کے عوام فراموش نہیں کرسکتے۔ اس کردار کو معمولی کہنا زیادتی، بے حسی اور ظلم ہوگا۔ جنرل کیانی غالباً پاکستان کے پہلے چیف آف آرمی اسٹاف ہیں جنہوں نے چھ ستمبر اور چودہ اگست ایسی قومی تقریبات میں سامراجی زبان کے بجائے قومی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا۔ یہ اقدام بجا طور پر قابل فخر اور قابل تقلید قرار دیا گیا۔ اس سلسلے میں آئی ایس پی آر کے موجودہ سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ صاحب اور ان کے ساتھی بریگیڈئیر عتیق صاحب کی طرف سے جنرل صاحب کو دیے گئے مشوروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کالم کی اشاعت کے تقریباً ایک ماہ بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی اپنے وعدے اور اعلان کے مطابق بطور سپہ سالارِ پاکستان ہم سے جدا ہوجائیں گے لیکن اپنی شاندار فوجی خدمات اور ملک و قوم کے لیے ان کی بے مثل کمٹمنٹ ایسے اوصاف ہیں کہ وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں دھڑکتے رہیں گے۔
Load Next Story