سمز کی تصدیق کا لائحہ عمل 30اکتوبر تک تیار کر لیا جائیگا پی ٹی اے
اجلاس میں وزارت داخلہ، پی ٹی اے حکام اور موبائل فون کمپنیوں کے نمائندوں کی شرکت
موبائل کمپنیوں کے نمائندوں نے کہا کہ وہ ملک کی سیاسی صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں اور حکومت کے ساتھ ملکر ملک بھر میں بائیو میٹرک سسٹم کی تعیناتی کیلیے تیار ہیں۔ فوٹو: فائل
پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) کے چیئرمین ڈاکٹر اسماعیل شاہ نے کہا ہے ملک بھر میں استعمال ہونے والی سمز کی تصدیق کے عمل کو حتمی شکل دی جاری ہے اور اس حوالے سے لائحہ عمل 30اکتوبر تک تیار کرلیا جائے گا۔
ملک بھر میں موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر اسماعیل شاہ نے سمز کی تصدیق کے حوالے سے تیارہ کردہ ایس او پیز سے آگاہ کیا اور سمز کی تصدیق کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر اعتماد میں لیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان بھی موجود تھیں، ملاقات میں موبائل کمپنیوں کے نمائندوں نے وزیر مملکت کو بتایا کہ وہ ملک کی سیاسی صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں اور وہ حکومت کے ساتھ ملکر ملک بھر میں بائیو میٹرک سسٹم کی تعیناتی کیلیے تیار ہیں تاکہ سمز کی تصدیق کی جا سکے۔
ملاقات میں وزارت داخلہ' ایف آئی اے اور پی ٹی اے کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران یہ بات خصوصی طور پر نوٹ کی گئی کہ ٹیلی کمیونیکشن کا شعبہ ٹیکس وصولیوں اور ادائیگیوں کا بڑا شعبہ ہے، مالی سال 2011-12 کے دوران شعبے کی جانب سے 133 ارب روپے کی ٹیکس ادائیگیاں کی گئیں جبکہ وفاقی صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں کو کی جانے والی اربوں روپے کی ادائیگیاں اس کے علاوہ ہیں، اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے ملک میں 10ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ شعبے سے 1.4ملین افراد کو روزگار بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
اسکے ساتھ ساتھ کمپنیوں کی سماجی و معاشی خدمات بھی ہیں اور قومی سیکیورٹی کے مسئلے پر کمپنیاں ہر طرح کا تعاون بھی فراہم کرتی ہیں، اس موقع پر کمپنیوں کی جانب سے پریس میں شائع ہونے والی بعض خبروں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ وزیر مملکت نے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سرمایہ کاری کیلیے دوستانہ ماحول فراہم کرنے پر یقین رکھتی ہے اور آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔
ملک بھر میں موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر اسماعیل شاہ نے سمز کی تصدیق کے حوالے سے تیارہ کردہ ایس او پیز سے آگاہ کیا اور سمز کی تصدیق کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر اعتماد میں لیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان بھی موجود تھیں، ملاقات میں موبائل کمپنیوں کے نمائندوں نے وزیر مملکت کو بتایا کہ وہ ملک کی سیاسی صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں اور وہ حکومت کے ساتھ ملکر ملک بھر میں بائیو میٹرک سسٹم کی تعیناتی کیلیے تیار ہیں تاکہ سمز کی تصدیق کی جا سکے۔
ملاقات میں وزارت داخلہ' ایف آئی اے اور پی ٹی اے کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران یہ بات خصوصی طور پر نوٹ کی گئی کہ ٹیلی کمیونیکشن کا شعبہ ٹیکس وصولیوں اور ادائیگیوں کا بڑا شعبہ ہے، مالی سال 2011-12 کے دوران شعبے کی جانب سے 133 ارب روپے کی ٹیکس ادائیگیاں کی گئیں جبکہ وفاقی صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں کو کی جانے والی اربوں روپے کی ادائیگیاں اس کے علاوہ ہیں، اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے ملک میں 10ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ شعبے سے 1.4ملین افراد کو روزگار بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
اسکے ساتھ ساتھ کمپنیوں کی سماجی و معاشی خدمات بھی ہیں اور قومی سیکیورٹی کے مسئلے پر کمپنیاں ہر طرح کا تعاون بھی فراہم کرتی ہیں، اس موقع پر کمپنیوں کی جانب سے پریس میں شائع ہونے والی بعض خبروں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ وزیر مملکت نے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سرمایہ کاری کیلیے دوستانہ ماحول فراہم کرنے پر یقین رکھتی ہے اور آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔