مائیکروفنانسنگ کیلیے پاکستان دنیا کا تیسرابہترین ملک قرار
پاکستان ریگولیٹری انوائرمنٹ کے لحاظ سے قائدانہ مقام کا حامل ہے،اکانومسٹ کی رپورٹ
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور فلپائن مائیکروفنانس بزنس میں مارکیٹ لیڈر کے طور پر ابھررہے ہیں۔ فوٹو: فائل
معروف عالمی جریدے اکانومسٹ کے انٹیلی جنس (تحقیقی) یونٹ نے دنیا چھوٹے قرضوں(مائیکرو فنانس) کے لیے کاروباری ماحول کے لحاظ سے پاکستان کو دنیا کا تیسرا بہترین ملک قرار دیا ہے۔
گلوبل مائکرواسکوپ آن دا مائکروفنانس بزنس انوائرمنٹ 2013کے عنوان سے حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ریگولیٹری انوائرمنٹ کے لحاظ سے مائیکروفنانس انڈسٹری میں قائدانہ مقام کا حامل ہے اور 2012کے مقابلے میں 2013 کے انڈیکس میں پاکستان نے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور فلپائن مائیکروفنانس بزنس میں مارکیٹ لیڈر کے طور پر ابھررہے ہیں۔ رپورٹ میں بھارت کا شمار 16ویں نمبر پر کیا گیا ہے جو 2012میں 22نمبر پر شمار کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جون 2012میں مائیکروفنانس کے لیے خصوصی کریڈٹ انفارمیشن بیورو کے قیام سے پاکستان میں اس شعبے کو موثر طور پر ریگولیٹ کرنے میں نمایاں مدد ملی ہے۔
پاکستان میں 2.4 ملین مائکروفنانس کسٹمرز میں سے 2.2ملین کسٹمرز کا ڈیٹا مائیکروفنانس کریڈٹ انفارمیشن بیورو میں ریکارڈ کیا جاچکا ہے جس سے پاکستان میں مائیکروفنانس کا دائرہ وسیع کرنے میں بھرپور مدد ملیگی۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں مائیکروفنانس کیلیے الگ لیگل اور ریگولیٹری فریم ورک موجود ہے جس کی وجہ سے پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں مائیکروفنانس بزنس کے لیے لحاظ سے انتہائی موزوں ملک سمجھا جاتا ہے پاکستان میں مائیکروفنانس کی خدمات ایک مکمل مائیکروفنانس بینک یا کمرشل بینک کے ذریعے بھی فراہم کی جاسکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مرکزی بینک بھی مائیکروفنانس انڈسٹری کی ترقی کے لیے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کررہا ہے 2010میں مقرر کی جانے والی کم سے کم ادا شدہ سرمائے کی حد کا اطلاق مائیکروفنانس انڈسٹری پر بھی کیا گیا 2011میں مرکزی بینک نے مائیکروفنانس کسٹمر کی آمدن کی حد میں اضافہ کیا تاہم مائکروفنانس بینکوں کے لیے شرح سود یا قرضوں کے حجم کی کوئی حدمقرر نہیں کی گئی۔ پاکستان میں 2012کے دوران 2نئے مائیکروفنانس بینکوں کے اضافے سے مائیکروفنانس بینکوں کی تعداد 10ہوگئی ہے جن میں وسیلہ مائیکروفنانس بینک اور ایڈوانس پاکستان مائیکروفنانس بینک شامل ہیں۔
امریکی فاؤنڈیشن برائے انٹرنیشنل کمیونی اسسٹنس (FINCA) نے بھی پاکستان میں مائیکروفنانس انڈسٹری میں سرمایہ کاری کیلیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کے فروغ میں بھی مائیکروفنانس بینکوں کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ اب تک 4موبائل آپریٹرز اور مائیکروفنانس بینکوں کے اشتراک سے برانچ لیس بینکاری کی سہولت متعارف کرائی جاچکی ہے۔ رواں سال پاکستان میں پرائسنگ ٹرانسپیرنسی اور کلائنٹ پروٹیکشن کے ضمن میں ریگولیشنز متعارف کرائی جائیں گی جس سے مائیکروفنانس انڈسٹری کی سماجی کارکردگی میں مزید اضافہ ہوگا۔
گلوبل مائکرواسکوپ آن دا مائکروفنانس بزنس انوائرمنٹ 2013کے عنوان سے حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ریگولیٹری انوائرمنٹ کے لحاظ سے مائیکروفنانس انڈسٹری میں قائدانہ مقام کا حامل ہے اور 2012کے مقابلے میں 2013 کے انڈیکس میں پاکستان نے اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرلی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور فلپائن مائیکروفنانس بزنس میں مارکیٹ لیڈر کے طور پر ابھررہے ہیں۔ رپورٹ میں بھارت کا شمار 16ویں نمبر پر کیا گیا ہے جو 2012میں 22نمبر پر شمار کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جون 2012میں مائیکروفنانس کے لیے خصوصی کریڈٹ انفارمیشن بیورو کے قیام سے پاکستان میں اس شعبے کو موثر طور پر ریگولیٹ کرنے میں نمایاں مدد ملی ہے۔
پاکستان میں 2.4 ملین مائکروفنانس کسٹمرز میں سے 2.2ملین کسٹمرز کا ڈیٹا مائیکروفنانس کریڈٹ انفارمیشن بیورو میں ریکارڈ کیا جاچکا ہے جس سے پاکستان میں مائیکروفنانس کا دائرہ وسیع کرنے میں بھرپور مدد ملیگی۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں مائیکروفنانس کیلیے الگ لیگل اور ریگولیٹری فریم ورک موجود ہے جس کی وجہ سے پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں مائیکروفنانس بزنس کے لیے لحاظ سے انتہائی موزوں ملک سمجھا جاتا ہے پاکستان میں مائیکروفنانس کی خدمات ایک مکمل مائیکروفنانس بینک یا کمرشل بینک کے ذریعے بھی فراہم کی جاسکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا مرکزی بینک بھی مائیکروفنانس انڈسٹری کی ترقی کے لیے اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کررہا ہے 2010میں مقرر کی جانے والی کم سے کم ادا شدہ سرمائے کی حد کا اطلاق مائیکروفنانس انڈسٹری پر بھی کیا گیا 2011میں مرکزی بینک نے مائیکروفنانس کسٹمر کی آمدن کی حد میں اضافہ کیا تاہم مائکروفنانس بینکوں کے لیے شرح سود یا قرضوں کے حجم کی کوئی حدمقرر نہیں کی گئی۔ پاکستان میں 2012کے دوران 2نئے مائیکروفنانس بینکوں کے اضافے سے مائیکروفنانس بینکوں کی تعداد 10ہوگئی ہے جن میں وسیلہ مائیکروفنانس بینک اور ایڈوانس پاکستان مائیکروفنانس بینک شامل ہیں۔
امریکی فاؤنڈیشن برائے انٹرنیشنل کمیونی اسسٹنس (FINCA) نے بھی پاکستان میں مائیکروفنانس انڈسٹری میں سرمایہ کاری کیلیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کے فروغ میں بھی مائیکروفنانس بینکوں کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ اب تک 4موبائل آپریٹرز اور مائیکروفنانس بینکوں کے اشتراک سے برانچ لیس بینکاری کی سہولت متعارف کرائی جاچکی ہے۔ رواں سال پاکستان میں پرائسنگ ٹرانسپیرنسی اور کلائنٹ پروٹیکشن کے ضمن میں ریگولیشنز متعارف کرائی جائیں گی جس سے مائیکروفنانس انڈسٹری کی سماجی کارکردگی میں مزید اضافہ ہوگا۔