اسمگلنگ کی روک تھام منڈیوں میں مویشیوں کی بہتات

قیمتیں گرنے کے باعث سفید پوش بھی سنت ابراہمی کی ادائیگی میں شریک عمل رہے

عید سے چند دن قبل تک جانوروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر تھیں تاہم وافر تعداد میں مویشی مارکیٹ میں پہنچنے کے بعد عید سے ایک دن قبل تک ان جانوروں کی قیمتیں کافی حد تک کم ہو گئیں۔ فوٹو: فائل

مویشیوں کی افغانستان اسمگلنگ کی روک تھام کے حکومتی اقدامات کی بدولت رواں برس منڈی میں قربانی کے جانوروں کی بہتات ہو گئی۔

جس کی وجہ سے عام آدمی کو براہ راست فائدہ پہنچا اور درمیانے طبقے کے سفید پوش بھی سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے عمل میں شریک کار رہے۔ عید سے چند دن قبل تک جانوروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر تھیں تاہم وافر تعداد میں مویشی مارکیٹ میں پہنچنے کے بعد عید سے ایک دن قبل تک ان جانوروں کی قیمتیں کافی حد تک کم ہو گئیں جبکہ بعد ازاں عید کے پہلے اور دوسرے دن قربانی کے جانوروں کی قیمتیں مزید کم ہو گئیں۔




بیوپاریوں نے بتایا کہ وہ دوسرے شہروں سے اپنے مویشی جڑواں شہروں میں لائے تھے جس پر خاصے اخراجات بھی اٹھ گئے اور اب اگر ان جانوروں کو واپس لے کر جائیں تو اضافی کرایہ بھی پڑ جائے گا، اس لیے اونے پونے داموں بیچ کر واپس آبائی علاقوں کو جانا چاہتے ہیں۔ شہریوں نے بتایاکہ عید سے ایک دن قبل تک 32 ہزار میں ملنے والا بکرا عید کے دوسرے دن 18 سے 22 ہزار میں بھی آسانی سے خریدا جا سکتا تھا۔ اسی طرح عید سے قبل جو بیل 85 ہزار میں بھی ملنا مشکل تھا وہ عید کے دوسرے دن بیوپاری 60 سے 65 ہزار روپے میں بھی بیچنے پر تیار تھے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ قربانی کے جانور مہنگے ہونے کے باوجود انہوں نے سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے عید سے قبل خرید لیے تھے۔ دوسری جانب بعض شہریوں نے بتایا کہ قربانی کی خواہش کے باوجود وہ عید سے قبل اپنے بجٹ میں رہتے ہوئے قربانی کا جانور نہ خرید سکے تاہم عید کے دوسرے دن ان جانوروں کی قیمتیں ان کی پہنچ میں آگئیں اور انہوں نے قربانی کا جانور خرید کر قربانی کی۔
Load Next Story